ادا ہوا نہ قرض اور وجود ختم ہو گیا میں زندگی کا دیتے دیتے سود ختم ہو گیا
Poetry Collection
Wajood
Verses selected under this title represent various facets of human existence at personal, social, and universal levels. Existence in itself is a philosophical subject of inquiry. However, the poets too have reflected upon the meaning of existence in larger contexts. You may like to reflect on these verses that are themselves the keen results of poets’ reflections on the world and the human existence.
Total
24
Sher
22
Ghazal
2
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
یہ جو میں ہوں ذرا سا باقی ہوں وہ جو تم تھے وہ مر گئے مجھ میں
لمحوں کے عذاب سہ رہا ہوں میں اپنے وجود کی سزا ہوں
ختم ہونے دے مرے ساتھ ہی اپنا بھی وجود تو بھی اک نقش خرابے کا ہے مر جا مجھ میں
مرا وجود مری روح کو پکارتا ہے تری طرف بھی چلوں تو ٹھہر ٹھہر جاؤں
ترا وجود گواہی ہے میرے ہونے کی میں اپنی ذات سے انکار کس طرح کرتا
مرا وجود حقیقت مرا عدم دھوکا فنا کی شکل میں سرچشمۂ بقا ہوں میں
مرے وجود کو پرچھائیوں نے توڑ دیا میں اک حصار تھا تنہائیوں نے توڑ دیا
رات دن گردش میں ہیں لیکن پڑا رہتا ہوں میں کام کیا میرا یہاں ہے سوچتا رہتا ہوں میں
اب کوئی ڈھونڈ ڈھانڈ کے لاؤ نیا وجود انسان تو بلندی انساں سے گھٹ گیا
میں بھی یہاں ہوں اس کی شہادت میں کس کو لاؤں مشکل یہ ہے کہ آپ ہوں اپنی نظیر میں
میں اک خواب ہوں تیرا دیکھا ہوا ہوں تو اک نیند ہے مجھ میں سوئی پڑی ہے
زمین پاؤں میں اور سر پہ آسمان لیے بھٹک رہا ہوں میں اتنا بڑا مکان لیے
مرا مقام ہر اک دل میں ہے جداگانہ اگر یقین نہیں ہوں تو احتمال ہوں میں
ستارۂ خواب سے بھی بڑھ کر یہ کون بے مہر ہے کہ جس نے چراغ اور آئنے کو اپنے وجود کا راز داں کیا ہے
ادا ہوا نہ قرض اور وجود ختم ہو گیا میں زندگی کا دیتے دیتے سود ختم ہو گیا
یہ جو میں ہوں ذرا سا باقی ہوں وہ جو تم تھے وہ مر گئے مجھ میں
لمحوں کے عذاب سہ رہا ہوں میں اپنے وجود کی سزا ہوں
ختم ہونے دے مرے ساتھ ہی اپنا بھی وجود تو بھی اک نقش خرابے کا ہے مر جا مجھ میں
مرا وجود مری روح کو پکارتا ہے تری طرف بھی چلوں تو ٹھہر ٹھہر جاؤں
ترا وجود گواہی ہے میرے ہونے کی میں اپنی ذات سے انکار کس طرح کرتا
مرا وجود حقیقت مرا عدم دھوکا فنا کی شکل میں سرچشمۂ بقا ہوں میں
مرے وجود کو پرچھائیوں نے توڑ دیا میں اک حصار تھا تنہائیوں نے توڑ دیا
رات دن گردش میں ہیں لیکن پڑا رہتا ہوں میں کام کیا میرا یہاں ہے سوچتا رہتا ہوں میں
اب کوئی ڈھونڈ ڈھانڈ کے لاؤ نیا وجود انسان تو بلندی انساں سے گھٹ گیا
میں بھی یہاں ہوں اس کی شہادت میں کس کو لاؤں مشکل یہ ہے کہ آپ ہوں اپنی نظیر میں
کبھی محبت سے باز رہنے کا دھیان آئے تو سوچتا ہوں یہ زہر اتنے دنوں سے میرے وجود میں کیسے پل رہا ہے
میں اک خواب ہوں تیرا دیکھا ہوا ہوں تو اک نیند ہے مجھ میں سوئی پڑی ہے
اچھالے جس پہ ملامت کے سنگ لوگوں نے وجود اس کا مقدس کتاب سا ابھرا
مرا مقام ہر اک دل میں ہے جداگانہ اگر یقین نہیں ہوں تو احتمال ہوں میں
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Wajood FAQs
Wajood collection me kya milega?
Wajood se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.