صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے
Poetry Collection
Waqt
“It’s all a matter of time.” We have heard this and other expressions like this many a time. Apart from our usual notions about time as good or bad, time is also a philosophical concept. We all are subjected to time but we also make time our subject. Poetry in all languages has engaged with the idea and experience of time. Here are some examples from Urdu for you to appraise.
Total
75
Sher
50
Ghazal
25
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کر عادت اس کی بھی آدمی سی ہے
وقت اچھا بھی آئے گا ناصرؔ غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی
سدا عیش دوراں دکھاتا نہیں گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
اک سال گیا اک سال نیا ہے آنے کو پر وقت کا اب بھی ہوش نہیں دیوانے کو
اگر فرصت ملے پانی کی تحریروں کو پڑھ لینا ہر اک دریا ہزاروں سال کا افسانہ لکھتا ہے
سب کچھ تو ہے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں نگاہیں کیا بات ہے میں وقت پہ گھر کیوں نہیں جاتا
غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا
دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں انہیں تھا کل تلک دماغ جنہیں تاج و تخت کا
جب آ جاتی ہے دنیا گھوم پھر کر اپنے مرکز پر تو واپس لوٹ کر گزرے زمانے کیوں نہیں آتے
وقت برباد کرنے والوں کو وقت برباد کر کے چھوڑے گا
وقت کی گردشوں کا غم نہ کرو حوصلے مشکلوں میں پلتے ہیں
وقت ہر زخم کا مرہم تو نہیں بن سکتا درد کچھ ہوتے ہیں تا عمر رلانے والے
یہ پانی خامشی سے بہہ رہا ہے اسے دیکھیں کہ اس میں ڈوب جائیں
یہ محبت کا فسانہ بھی بدل جائے گا وقت کے ساتھ زمانہ بھی بدل جائے گا
سفر پیچھے کی جانب ہے قدم آگے ہے میرا میں بوڑھا ہوتا جاتا ہوں جواں ہونے کی خاطر
گزرنے ہی نہ دی وہ رات میں نے گھڑی پر رکھ دیا تھا ہاتھ میں نے
اس وقت کا حساب کیا دوں جو تیرے بغیر کٹ گیا ہے
ہمیں ہر وقت یہ احساس دامن گیر رہتا ہے پڑے ہیں ڈھیر سارے کام اور مہلت ذرا سی ہے
عمر بھر ملنے نہیں دیتی ہیں اب تو رنجشیں وقت ہم سے روٹھ جانے کی ادا تک لے گیا
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے
وقت رہتا نہیں کہیں ٹک کر عادت اس کی بھی آدمی سی ہے
وقت اچھا بھی آئے گا ناصرؔ غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی
سدا عیش دوراں دکھاتا نہیں گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں
اک سال گیا اک سال نیا ہے آنے کو پر وقت کا اب بھی ہوش نہیں دیوانے کو
اگر فرصت ملے پانی کی تحریروں کو پڑھ لینا ہر اک دریا ہزاروں سال کا افسانہ لکھتا ہے
سب کچھ تو ہے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں نگاہیں کیا بات ہے میں وقت پہ گھر کیوں نہیں جاتا
غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا
دلی میں آج بھیک بھی ملتی نہیں انہیں تھا کل تلک دماغ جنہیں تاج و تخت کا
جب آ جاتی ہے دنیا گھوم پھر کر اپنے مرکز پر تو واپس لوٹ کر گزرے زمانے کیوں نہیں آتے
وقت برباد کرنے والوں کو وقت برباد کر کے چھوڑے گا
وقت کی گردشوں کا غم نہ کرو حوصلے مشکلوں میں پلتے ہیں
وقت ہر زخم کا مرہم تو نہیں بن سکتا درد کچھ ہوتے ہیں تا عمر رلانے والے
یہ پانی خامشی سے بہہ رہا ہے اسے دیکھیں کہ اس میں ڈوب جائیں
یہ محبت کا فسانہ بھی بدل جائے گا وقت کے ساتھ زمانہ بھی بدل جائے گا
سفر پیچھے کی جانب ہے قدم آگے ہے میرا میں بوڑھا ہوتا جاتا ہوں جواں ہونے کی خاطر
گزرنے ہی نہ دی وہ رات میں نے گھڑی پر رکھ دیا تھا ہاتھ میں نے
روز ملنے پہ بھی لگتا تھا کہ جگ بیت گئے عشق میں وقت کا احساس نہیں رہتا ہے
نہ ابتدا کی خبر ہے نہ انتہا معلوم رہا یہ وہم کہ ہم ہیں سو وہ بھی کیا معلوم
ہمیں ہر وقت یہ احساس دامن گیر رہتا ہے پڑے ہیں ڈھیر سارے کام اور مہلت ذرا سی ہے
Explore Similar Collections
Waqt FAQs
Waqt collection me kya milega?
Waqt se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.