کس نے بھیگے ہوئے بالوں سے یہ جھٹکا پانی جھوم کے آئی گھٹا ٹوٹ کے برسا پانی
Poetry Collection
Water
Water par curated selection jahan sher, ghazal aur nazm ko readable format me discover kiya ja sakta hai.
Total
39
Sher
28
Ghazal
11
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
اگر فرصت ملے پانی کی تحریروں کو پڑھ لینا ہر اک دریا ہزاروں سال کا افسانہ لکھتا ہے
یہ پانی خامشی سے بہہ رہا ہے اسے دیکھیں کہ اس میں ڈوب جائیں
میں نے اپنی خشک آنکھوں سے لہو چھلکا دیا اک سمندر کہہ رہا تھا مجھ کو پانی چاہئے
ہم انتظار کریں ہم کو اتنی تاب نہیں پلا دو تم ہمیں پانی اگر شراب نہیں
ابلتے وقت پانی سوچتا ہوگا ضرور اگر برتن نہ ہوتا تو بتاتا آگ کو
ایسی پیاس اور ایسا صبر دریا پانی پانی ہے
اندر اندر کھوکھلے ہو جاتے ہیں گھر جب دیواروں میں پانی بھر جاتا ہے
اگر اے ناخدا طوفان سے لڑنے کا دم خم ہے ادھر کشتی نہ لے آنا یہاں پانی بہت کم ہے
وہ مجبوری موت ہے جس میں کاسے کو بنیاد ملے پیاس کی شدت جب بڑھتی ہے ڈر لگتا ہے پانی سے
حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہے پیاس کا ذائقہ پانی کی طرح ہوتا ہے
ہنستا پانی، روتا پانی مجھ کو آوازیں دیتا تھا
وہ دھوپ تھی کہ زمیں جل کے راکھ ہو جاتی برس کے اب کے بڑا کام کر گیا پانی
قصے سے ترے میری کہانی سے زیادہ پانی میں ہے کیا اور بھی پانی سے زیادہ
جنہیں ہم بلبلا پانی کا دکھتے ہیں کہو ان سے نظر ہو دیکھنے والی تو بحر بے کراں ہم ہیں
خاک ہوں اڑتا ہوں سچ ہے کہ میں آوارہ مزاج پانی ہوتا بھی تو سیلاب میں دیکھا جاتا
پانی نے جسے دھوپ کی مٹی سے بنایا وہ دائرہ ربط بگڑنے کے لیے تھا
جو تو آئینہ رکھ کر سامنے زیور پہنتا ہے تری بالی کی مچھلی تیرتی ہے یار پانی میں
وہ پانی میں جب اپنی چھب دیکھتا ہے تو میں بھی ندی چاندنی میں نہاتے ہوئے دیکھتا ہوں
کس نے بھیگے ہوئے بالوں سے یہ جھٹکا پانی جھوم کے آئی گھٹا ٹوٹ کے برسا پانی
اگر فرصت ملے پانی کی تحریروں کو پڑھ لینا ہر اک دریا ہزاروں سال کا افسانہ لکھتا ہے
یہ پانی خامشی سے بہہ رہا ہے اسے دیکھیں کہ اس میں ڈوب جائیں
میں نے اپنی خشک آنکھوں سے لہو چھلکا دیا اک سمندر کہہ رہا تھا مجھ کو پانی چاہئے
ہم انتظار کریں ہم کو اتنی تاب نہیں پلا دو تم ہمیں پانی اگر شراب نہیں
ابلتے وقت پانی سوچتا ہوگا ضرور اگر برتن نہ ہوتا تو بتاتا آگ کو
ایسی پیاس اور ایسا صبر دریا پانی پانی ہے
اندر اندر کھوکھلے ہو جاتے ہیں گھر جب دیواروں میں پانی بھر جاتا ہے
اگر اے ناخدا طوفان سے لڑنے کا دم خم ہے ادھر کشتی نہ لے آنا یہاں پانی بہت کم ہے
وہ مجبوری موت ہے جس میں کاسے کو بنیاد ملے پیاس کی شدت جب بڑھتی ہے ڈر لگتا ہے پانی سے
حرف اپنے ہی معانی کی طرح ہوتا ہے پیاس کا ذائقہ پانی کی طرح ہوتا ہے
ہنستا پانی، روتا پانی مجھ کو آوازیں دیتا تھا
وہ دھوپ تھی کہ زمیں جل کے راکھ ہو جاتی برس کے اب کے بڑا کام کر گیا پانی
قصے سے ترے میری کہانی سے زیادہ پانی میں ہے کیا اور بھی پانی سے زیادہ
جنہیں ہم بلبلا پانی کا دکھتے ہیں کہو ان سے نظر ہو دیکھنے والی تو بحر بے کراں ہم ہیں
خاک ہوں اڑتا ہوں سچ ہے کہ میں آوارہ مزاج پانی ہوتا بھی تو سیلاب میں دیکھا جاتا
پانی نے جسے دھوپ کی مٹی سے بنایا وہ دائرہ ربط بگڑنے کے لیے تھا
جو تو آئینہ رکھ کر سامنے زیور پہنتا ہے تری بالی کی مچھلی تیرتی ہے یار پانی میں
وہ پانی میں جب اپنی چھب دیکھتا ہے تو میں بھی ندی چاندنی میں نہاتے ہوئے دیکھتا ہوں
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Water FAQs
Water collection me kya milega?
Water se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.