Poetry Collection

Welcome

Much depends in our day-to-day lives on how we are received or rejected by others. A good way of receiving and being received makes all the difference. Here are some verses around this idea that would open up new dimensions of human nature to you. Have a look.

Total

50

Sher

50

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

اس شعر کا مزاج غزل کے رویتی مزاج سے ملتا ہے۔ چونکہ فیض نے ترقی پسند فکر کی ترجمانی میں بھی اردو شعریات کی روایت کا پورا لحاظ رکھا لہٰذا ان کی تخلیقات میں اگرچہ علامتی سطح پر ترقی پسند سوچ کی کارفرمائی دکھائی دیتی ہے تاہم ان کی شعری دنیا میں اور بھی امکانات موجود ہیں۔ جس کی سب سے بڑی مثال یہ مشہور شعر ہے۔ بادِ نو بہار کے معنی نئی بہار کی ہواہے۔ پہلے اس شعر کی تشریح ترقی پسند فکر کو مدِ نظر کرتے ہیں۔ فیض کی شکایت یہ رہی ہے کہ انقلاب رونما ہونے کے باوجود استحصال کی چکی میں پسنے والوں کی تقدیر نہیں بدلتی ۔ اس شعر میں اگر بادِ نو بہار کو انقلاب کی علامت مان لیا جائے تو شعر کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ گلشن (ملک، زمانہ وغیرہ) کا کاروبار تب تک نہیں چل سکتا جب تک کہ انقلاب اپنے صحیح معنوں میں نہیں آتا۔ اسی لئے وہ انقلاب یا بدلاؤ سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ جب تم رونما ہوجاؤ گے تب پھولوں میں نئی بہار کی ہوا تازگی لائی گی۔ اور اس طرح سے چمن کا کاروبار چلے گا۔ دوسرے معنوں میں وہ اپنے محبوب سے کہتے ہیں کہ تم اب آ بھی جاؤ تاکہ گلوں میں نئی بہار کی ہوا رنگ بھرے اور چمن کھل اٹھے۔ شفق سوپوری

پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت

سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گی تم آئے تو اس رات کی اوقات بنے گی

چاند بھی حیران دریا بھی پریشانی میں ہے عکس کس کا ہے کہ اتنی روشنی پانی میں ہے

آپ آئے تو بہاروں نے لٹائی خوشبو پھول تو پھول تھے کانٹوں سے بھی آئی خوشبو

آمد پہ تیری عطر و چراغ و سبو نہ ہوں اتنا بھی بود و باش کو سادہ نہیں کیا

مل کر تپاک سے نہ ہمیں کیجیے اداس خاطر نہ کیجیے کبھی ہم بھی یہاں کے تھے

تم آ گئے ہو تو اب آئینہ بھی دیکھیں گے ابھی ابھی تو نگاہوں میں روشنی ہوئی ہے

آپ آئے ہیں سو اب گھر میں اجالا ہے بہت کہیے جلتی رہے یا شمع بجھا دی جائے

یہ انتظار کی گھڑیاں یہ شب کا سناٹا اس ایک شب میں بھرے ہیں ہزار سال کے دن

ہر طرح کی بے سر و سامانیوں کے باوجود آج وہ آیا تو مجھ کو اپنا گھر اچھا لگا

رونق بزم نہیں تھا کوئی تجھ سے پہلے رونق بزم ترے بعد نہیں ہے کوئی

یہ زلف بردوش کون آیا یہ کس کی آہٹ سے گل کھلے ہیں مہک رہی ہے فضائے ہستی تمام عالم بہار سا ہے

صحن چمن کو اپنی بہاروں پہ ناز تھا وہ آ گئے تو ساری بہاروں پہ چھا گئے

جس بزم میں ساغر ہو نہ صہبا ہو نہ خم ہو رندوں کو تسلی ہے کہ اس بزم میں تم ہو

ہر گلی اچھی لگی ہر ایک گھر اچھا لگا وہ جو آیا شہر میں تو شہر بھر اچھا لگا

محفل میں چار چاند لگانے کے باوجود جب تک نہ آپ آئے اجالا نہ ہو سکا

میں نے آواز تمہیں دی ہے بڑے ناز کے ساتھ تم بھی آواز ملا دو مری آواز کے ساتھ

رقص مے تیز کرو ساز کی لے تیز کرو سوئے مے خانہ سفیران حرم آتے ہیں

وہ آئے گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہے کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

اس شعر کا مزاج غزل کے رویتی مزاج سے ملتا ہے۔ چونکہ فیض نے ترقی پسند فکر کی ترجمانی میں بھی اردو شعریات کی روایت کا پورا لحاظ رکھا لہٰذا ان کی تخلیقات میں اگرچہ علامتی سطح پر ترقی پسند سوچ کی کارفرمائی دکھائی دیتی ہے تاہم ان کی شعری دنیا میں اور بھی امکانات موجود ہیں۔ جس کی سب سے بڑی مثال یہ مشہور شعر ہے۔ بادِ نو بہار کے معنی نئی بہار کی ہواہے۔ پہلے اس شعر کی تشریح ترقی پسند فکر کو مدِ نظر کرتے ہیں۔ فیض کی شکایت یہ رہی ہے کہ انقلاب رونما ہونے کے باوجود استحصال کی چکی میں پسنے والوں کی تقدیر نہیں بدلتی ۔ اس شعر میں اگر بادِ نو بہار کو انقلاب کی علامت مان لیا جائے تو شعر کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ گلشن (ملک، زمانہ وغیرہ) کا کاروبار تب تک نہیں چل سکتا جب تک کہ انقلاب اپنے صحیح معنوں میں نہیں آتا۔ اسی لئے وہ انقلاب یا بدلاؤ سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ جب تم رونما ہوجاؤ گے تب پھولوں میں نئی بہار کی ہوا تازگی لائی گی۔ اور اس طرح سے چمن کا کاروبار چلے گا۔ دوسرے معنوں میں وہ اپنے محبوب سے کہتے ہیں کہ تم اب آ بھی جاؤ تاکہ گلوں میں نئی بہار کی ہوا رنگ بھرے اور چمن کھل اٹھے۔ شفق سوپوری

پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھے پر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت

سو چاند بھی چمکیں گے تو کیا بات بنے گی تم آئے تو اس رات کی اوقات بنے گی

چاند بھی حیران دریا بھی پریشانی میں ہے عکس کس کا ہے کہ اتنی روشنی پانی میں ہے

آپ آئے تو بہاروں نے لٹائی خوشبو پھول تو پھول تھے کانٹوں سے بھی آئی خوشبو

آمد پہ تیری عطر و چراغ و سبو نہ ہوں اتنا بھی بود و باش کو سادہ نہیں کیا

جس بزم میں ساغر ہو نہ صہبا ہو نہ خم ہو رندوں کو تسلی ہے کہ اس بزم میں تم ہو

شکریہ تیرا ترے آنے سے رونق تو بڑھی ورنہ یہ محفل جذبات ادھوری رہتی

دیر لگی آنے میں تم کو شکر ہے پھر بھی آئے تو آس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا ویسے ہم گھبرائے تو

ہر گلی اچھی لگی ہر ایک گھر اچھا لگا وہ جو آیا شہر میں تو شہر بھر اچھا لگا

آپ آئے ہیں سو اب گھر میں اجالا ہے بہت کہیے جلتی رہے یا شمع بجھا دی جائے

خوش آمدید وہ آیا ہماری چوکھٹ پر بہار جس کے قدم کا طواف کرتی ہے

یہ کس زہرہ جبیں کی انجمن میں آمد آمد ہے بچھایا ہے قمر نے چاندنی کا فرش محفل میں

میں نے آواز تمہیں دی ہے بڑے ناز کے ساتھ تم بھی آواز ملا دو مری آواز کے ساتھ

ہر طرح کی بے سر و سامانیوں کے باوجود آج وہ آیا تو مجھ کو اپنا گھر اچھا لگا

رونق بزم نہیں تھا کوئی تجھ سے پہلے رونق بزم ترے بعد نہیں ہے کوئی

رقص مے تیز کرو ساز کی لے تیز کرو سوئے مے خانہ سفیران حرم آتے ہیں

بجھتے ہوئے چراغ فروزاں کریں گے ہم تم آؤگے تو جشن چراغاں کریں گے ہم

صحن چمن کو اپنی بہاروں پہ ناز تھا وہ آ گئے تو ساری بہاروں پہ چھا گئے

Explore Similar Collections

Welcome FAQs

Welcome collection me kya milega?

Welcome se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.