ghazalKuch Alfaaz

aaj main ne use nazdik se ja dekha hai vo daricha to mire qad se bahut uncha hai apne kamre ko andheron se bhara paaya hai tere baare men kabhi ghhaur se jab socha hai har tamanna ko rivayat ki tarah toda hai tab kahin ja ke zamana mujhe raas aaya hai tum ko shikva hai mire ahd-e-mohabbat se magar tum ne paani pe koi lafz kabhi likkha hai aisa bichhda ki mila hi nahin phir us ka pata haae vo shakhs jo aksar mujhe yaad aata hai koi us shakhs ko apna nahin kahta 'azar' apne ghar men bhi vo ghhairon ki tarah rahta hai aaj main ne use nazdik se ja dekha hai wo daricha to mere qad se bahut uncha hai apne kamre ko andheron se bhara paya hai tere bare mein kabhi ghaur se jab socha hai har tamanna ko riwayat ki tarah toda hai tab kahin ja ke zamana mujhe ras aaya hai tum ko shikwa hai mere ahd-e-mohabbat se magar tum ne pani pe koi lafz kabhi likkha hai aisa bichhda ki mila hi nahin phir us ka pata hae wo shakhs jo aksar mujhe yaad aata hai koi us shakhs ko apna nahin kahta 'azar' apne ghar mein bhi wo ghairon ki tarah rahta hai

Related Ghazal

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں

Ali Zaryoun

158 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

More from Kafeel Aazar Amrohvi

آج ہے وہ ہے وہ نے اسے نزدیک سے جا دیکھا ہے حقیقت دریچہ تو مری قد سے بہت اونچا ہے اپنے کمرے کو اندھیروں سے بھرا پایا ہے تیرے بارے ہے وہ ہے وہ کبھی غور سے جب سوچا ہے ہر تمنا کو روایت کی طرح توڑا ہے تب کہیں جا کے زمانہ مجھے راس آیا ہے جاناں کو شکوہ ہے مری عہد محبت سے مگر جاناں نے پانی پہ کوئی لفظ کبھی لکھا ہے ایسا بچھڑا کہ ملا ہی نہیں پھروں اس کا کا پتا ہاں یہ حقیقت بے وجہ جو 9 مجھے یاد آتا ہے کوئی اس کا بے وجہ کو اپنا نہیں کہتا آذر اپنے گھر ہے وہ ہے وہ بھی حقیقت غیروں کی طرح رہتا ہے

Kafeel Aazar Amrohvi

1 likes

ا سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ اتر جانے کو جی چاہتا ہے شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے کسی کم ظرف کو با ظرف ا گر کہنا پڑے ایسے جینے سے تو مر جانے کو جی چاہتا ہے ایک اک بات ہے وہ ہے وہ سچائی ہے ا سے کی لیکن اپنے وعدوں سے مکر جانے کو جی چاہتا ہے قرض ٹوٹے ہوئے خوابوں کا ادا ہوں جائے ذات ہے وہ ہے وہ اپنی بکھر جانے کو جی چاہتا ہے اپنی پلکوں پہ سجائے ہوئے یادوں کے دیے ا سے کی نیندوں سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے ایک اجڑے ہوئے ویران کھنڈر ہے وہ ہے وہ آذر نا مناسب ہے م گر جانے کو جی چاہتا ہے

Kafeel Aazar Amrohvi

12 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Kafeel Aazar Amrohvi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Kafeel Aazar Amrohvi's ghazal.