ghazalKuch Alfaaz

آنکھوں کے ساتھ اسے میرا ہنسنا نہیں پسند دریا ہوں یا ہوں گھاو اسے گہرا نہیں پسند پوچھوں آ چکی ہے ادھر کارڈ چھپ گئے اب کب کہے گی تجھ کو حقیقت لڑکا نہیں پسند جاناں کو تو مجھ سے گفتگو کرنا پسند تھا اب کیوں مری مزار پہ رکنا نہیں پسند کپڑوں سے عطر تک یا کتابوں سے ہار تک حقیقت بولے تو صحیح کہ اسے کیا نہیں پسند اک دن پڑا ملا تھا مجھے راستوں پہ اور اک دن سنا اسے میرا چھونا نہیں پسند

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں

Tehzeeb Hafi

268 likes

More from Kushal Dauneria

حسن اک گلستاں کا رہیےگا ہے آنکھ شہتوت بدن ڈالی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کچھ دیر اداسی ہنسکر ماری ہے مار نہیں ڈالی ہے ساز و سنگار سے چمکایا بدن ایک ہی نوٹ حقیقت بھی جالی ہے

Kushal Dauneria

24 likes

حقیقت جب بند کمرے ہے وہ ہے وہ لٹکا ہوا تھا یہ ک سے کو پتا تھا کھلاڑی محبت ہے وہ ہے وہ بلکل نیا تھا یہ ک سے کو پتا تھا کہ ان جاہلوں نے اسے آدمی کی طرح بھی لگ رکھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بچپن سے ج سے بے وجہ کو پوجتا تھا یہ ک سے کو پتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب تک اسے جیت لینے کی تیاریاں کر رہا تھا حقیقت تب تک کسی اور کا ہوں چکا تھا یہ ک سے کو پتا تھا

Kushal Dauneria

24 likes

ج سے شام اس کا کو ٹرین ہے وہ ہے وہ بیٹھا کے آیا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اس کا کو ا سے کے پیار سے ملوا کے آیا تھا ا سے کی بسی بسائی ہے وہ ہے وہ دنیا اجاڑ کر جو کھا نہیں سکا اسے پھیلا کے آیا تھا مری نصیب ہے وہ ہے وہ کہی بیٹھا تمہارا دکھ لگتا تھا چنو ماں کی قسم کھا کے آیا تھا

Kushal Dauneria

26 likes

بچی ہے روشنی جو بھی چراغوں سے نکل جائے جو مری دل سے نکلا ہے دعاؤں سے نکل جائے ہم ایسے لوگ جو دشمن کے رونے پر ٹھہر جائیں حقیقت ایسا بے وجہ جو اپنوں کی لاشوں سے نکل جائے پڑھانے کا ا گر زار ہے ہاتھوں سے نکل جانا خدایا پھروں مری بیٹی بھی ہاتھوں سے نکل جائے وہی اک بے وجہ تھا میرا ی ہاں پر جی لگانے کو اسی کو چاہتے تھے سب کہ گاؤں سے نکل جائے ادھر تو چھو رہی ہے جسم میرا ٹھنڈے ہاتھوں سے ادھر حقیقت چاہتی ہے رات باتوں سے نکل جائے نمائش باپ کی دولت کی کر کے سوچتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ شاید امتحاں عشق پیسوں سے نکل جائے

Kushal Dauneria

25 likes

تمام عمر بچاتا رہا خدا ا سے کو کسی کی لگ ہی گئی پھروں بھی بد دعا ا سے کو حقیقت اپنی زندگی اور دوستوں ہے وہ ہے وہ ہے مصروف مری تمام پریشانیوں سے کیا ا سے کو جاناں ا سے سے کہنا کسی دن تباہ کر دےگا کم عمر لڑ کیوں کے دل سے کھیلنا ا سے کو بچھڑتے سمے اسے دیکھ کر لگا چنو ہر ایک چیز کا پہلے سے علم تھا ا سے کو ہنر شنا سے کسی دن قرار کر دیں گے بنانے والے تری فن کی انتہا ا سے کو لگ جانے کون سا پیشہ ہے ج سے ہے وہ ہے وہ لگتا ہے ہر ایک شام کوئی آدمی نیا ا سے کو اسے ستائیں محبت کے لوٹتے موسم کبھی بھی را سے لگ آئی امریکا ا سے کو خدا ہے وہ ہے وہ بھی تری ا سے دنیا کو مٹا دوں گا ہمارے جھگڑے ہے وہ ہے وہ کچھ بھی ا گر ہوا ا سے کو

Kushal Dauneria

21 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Kushal Dauneria.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Kushal Dauneria's ghazal.