ankhon men chubh gaiin tiri yadon ki kirchiyan kandhon pe ghham ki shaal hai aur chand raat hai dil tod ke khamosh nazaron ka kya mila shabnam ka ye saval hai aur chand raat hai campus ki nahr par hai tira haath haath men mausam bhi la-zaval hai aur chand raat hai har ik kali ne odh liya matami libas har phuul pur-malal hai aur chand raat hai chhalka sa pad raha hai 'vasi' vahshaton ka rang har chiiz pe zaval hai aur chand raat hai aankhon mein chubh gain teri yaadon ki kirchiyan kandhon pe gham ki shaal hai aur chand raat hai dil tod ke khamosh nazaron ka kya mila shabnam ka ye sawal hai aur chand raat hai campus ki nahr par hai tera hath hath mein mausam bhi la-zawal hai aur chand raat hai har ek kali ne odh liya matami libas har phul pur-malal hai aur chand raat hai chhalka sa pad raha hai 'wasi' wahshaton ka rang har chiz pe zawal hai aur chand raat hai
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
More from Wasi Shah
ہزاروں دکھ پڑیں سہنا محبت مر نہیں سکتی ہے جاناں سے ب سے یہی کہنا محبت مر نہیں سکتی ترا ہر بار مری خط کو پڑھنا اور رو دینا میرا ہر بار لکھ دینا محبت مر نہیں سکتی کیا تھا ہم نے کیمپ سے کی ن گرا پر اک حسین وعدہ بھلے ہم کو پڑے مرنا محبت مر نہیں سکتی پرانی عہد کو جب زندہ کرنے کا خیال آئی مجھے ب سے اتنا لکھ دینا محبت مر نہیں سکتی حقیقت تیرا ہجر کی شب فون رکھنے سے ذرا پہلے بے حد روتے ہوئے کہنا محبت مر نہیں سکتی گئے لمحات فرصت کے ک ہاں سے ڈھونڈ کر لاؤں حقیقت پہروں ہاتھ پر لکھنا محبت مر نہیں سکتی
Wasi Shah
7 likes
سمندر ہے وہ ہے وہ اترتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تری آنکھوں کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تمہارا نام لکھنے کی اجازت چھن گئی جب سے کوئی بھی لفظ لکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تری یادوں کی خوشبو کھڑ کیوں ہے وہ ہے وہ رقص کرتی ہے تری غم ہے وہ ہے وہ سلگتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں لگ جانے ہوں گیا تو ہوں ا سے دودمان حسا سے ہے وہ ہے وہ کب سے کسی سے بات کرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارا دن بے حد مصروف رہتا ہوں م گر جیوں ہی قدم چوکھٹ پہ رکھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ہر اک مفل سے کے ماتھے پر الم کی داستانے ہیں کوئی چہرہ بھی پڑھتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں بڑے لوگوں کے اونچے بد نما اور سرد محلوں کو غریب آنکھوں سے تکتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں تری کوچے سے اب میرا تعلق واجبی سا ہے م گر جب بھی گزرتا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ہزاروں موسموں کی حکمرانی ہے مری دل پر وسی ہے وہ ہے وہ جب بھی ہنستا ہوں تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں
Wasi Shah
15 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Wasi Shah.
Similar Moods
More moods that pair well with Wasi Shah's ghazal.







