ghazalKuch Alfaaz

دکھ ہمارا کم کریںگے آپ رہنے دیجئے آگ کو شبنم کریںگے آپ رہنے دیجئے آپ ہی کے حکم سے لاشیں بچھی ہیں ہر طرف آپ بھی ماتم کریںگے آپ رہنے دیجئے آپنے کھویا کسے ہے آپنے دیکھا ہے کیا آپ کس کا غم کریںگے آپ رہنے دیجئے چاک جتنے بھی غریباں ہوں چکے ہیں آج تک ہم ا نہیں پرچم کریںگے آپ رہنے دیجئے زندگی نے یہ سبق ہم کو سکھایا دیر سے درد کو مرہم کریںگے آپ رہنے دیجیے آپ کا تو شوق ہے جلتے گھروں کو دیکھنا آپ آنکھیں نمہ کریںگے آپ رہنے دیجئے

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

ایک اور بے وجہ چھوڑ کر چلا گیا تو تو کیا ہوا ہمارے ساتھ کون سا یہ پہلی مرتبہ ہوا ازل سے ان ہتھیلیوں ہے وہ ہے وہ ہجر کی لکیر تھی تمہارا دکھ تو چنو مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ بڑا ہوا مری خلاف دشمنوں کی صف ہے وہ ہے وہ ہے حقیقت اور ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد برا لگوںگا ا سے پر تیر کھینچتا ہوا

Tehzeeb Hafi

183 likes

ہم اپنے دکھ کو گانے لگ گئے ہیں مگر ای سے ہے وہ ہے وہ زمانے لگ گئے ہیں کسی کی تربیت کا ہے کرشمہ یہ آنسو مسکرانے لگ گئے ہیں کہانی رکھ بدلنا چاہتی ہے نئے کردار آنے لگ گئے ہیں یہ حاصل ہے مری خاموشیوں کا کہ پتھر لگ گئے ہیں یہ ممکن ہے کسی دن جاناں بھی آؤ پرندے آنے جانے لگ گئے ہیں جنہیں ہم منزلوں تک لے کے آئی وہی رستہ بتانے لگ گئے ہیں شرافت رنگ دکھلاتی ہے دانش کئی دشمن ٹھکانے لگ گئے ہیں

Madan Mohan Danish

27 likes

ہے وہ ہے وہ پریشان حقیقت دکھی ہوئی ہے یہ محبت ہے تو بڑی ہوئی ہے کچھ بھی اپنا نہیں ہے مری پا سے بد دعا بھی کسی کی دی ہوئی ہے ا سے نے پوچھی ہے آخری خواہش اور محبت بھی ہے وہ ہے وہ نے کی ہوئی ہے آج غصہ نہیں پیوںگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ہے وہ ہے وہ نے شراب پی ہوئی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں اتنی بار چاہتا ہوں جتنی عورت پہ شاعری ہوئی ہے بچہ گروہ کے کیا ملےگا تمہیں دنیا پہلے بے حد گری ہوئی ہے

Muzdum Khan

23 likes

جب سے ا سے نے کھینچا ہے کھڑکی کا پردہ ایک طرف ا سے کا کمرہ ایک طرف ہے باقی دنیا ایک طرف ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اب تک جتنے بھی لوگوں ہے وہ ہے وہ خود کو بانٹا ہے بچپن سے رکھتا آیا ہوں تیرا حصہ ایک طرف ایک طرف مجھے جل گرا ہے ا سے کے دل ہے وہ ہے وہ گھر کرنے کی ایک طرف حقیقت کر دیتا ہے رفتہ رفتہ ایک طرف یوں تو آج بھی تیرا دکھ دل دہلا دیتا ہے لیکن تجھ سے جدا ہونے کے بعد کا پہلا ہفتہ ایک طرف ا سے کی آنکھوں نے مجھ سے مری خودداری چینی ورنا پاؤں کی ٹھوکر سے کر دیتا تھا ہے وہ ہے وہ دنیا ایک طرف مری مرضی تھی ہے وہ ہے وہ زرے چنتا یا لہریں چنتا ا سے نے صحرا ایک طرف رکھا اور دریا ایک طرف

Tehzeeb Hafi

122 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Aslam Rashid.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Aslam Rashid's ghazal.