ghazalKuch Alfaaz

ہم اپنے دکھ کو گانے لگ گئے ہیں مگر ای سے ہے وہ ہے وہ زمانے لگ گئے ہیں کسی کی تربیت کا ہے کرشمہ یہ آنسو مسکرانے لگ گئے ہیں کہانی رکھ بدلنا چاہتی ہے نئے کردار آنے لگ گئے ہیں یہ حاصل ہے مری خاموشیوں کا کہ پتھر لگ گئے ہیں یہ ممکن ہے کسی دن جاناں بھی آؤ پرندے آنے جانے لگ گئے ہیں جنہیں ہم منزلوں تک لے کے آئی وہی رستہ بتانے لگ گئے ہیں شرافت رنگ دکھلاتی ہے دانش کئی دشمن ٹھکانے لگ گئے ہیں

Related Ghazal

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

More from Madan Mohan Danish

یہ مانا ا سے طرف رستہ لگ جائے م گر پھروں بھی مجھے روکا لگ جائے بدل سکتی ہے رکھ تصویر اپنا کچھ اتنے غور سے دیکھا لگ جائے الجھنے کے لیے سو الجھنیں ہیں ب سے اپنے آپ سے الجھا لگ جائے ارادہ واپسی کا ہوں ا گر تو بے حد گہرائی ہے وہ ہے وہ اترا لگ جائے ہماری عرض ب سے اتنی ہے دانش اداسی کا سبب پوچھا لگ جائے

Madan Mohan Danish

6 likes

کوئی یہ لاکھ کہے مری بنانے سے ملا ہر نیا رنگ زمانے کو پرانی سے ملا فکر ہر بار خموشی سے ملی ہے مجھ کو اور زما لگ یہ مجھے شور مچانے سے ملا ا سے کی تقدیر اندھیروں نے لکھی تھی شاید حقیقت اجالا جو چراغوں کو بجھانے سے ملا پوچھتے کیا ہوں ملا کیسے یہ جنگل کو طلسم چھاؤں ہے وہ ہے وہ دھوپ کی رنگت کو ملانے سے ملا اور لوگوں سے ملاقات ک ہاں ممکن تھی حقیقت تو خود سے بھی ملا ہے تو بہانے سے ملا مری تشکیل تو کچھ اور ہوئی تھی دانش یہ نیا نقش مجھے خود کو مٹانے سے ملا

Madan Mohan Danish

5 likes

کوئی کانٹا لگ ہوں گلابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایسا ممکن ہے صرف خوابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کو کیسے قرار آتا ہے یہ لکھا ہی نہیں کتابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اتنے سیدھے سوال تھے مری حقیقت الجھتا گیا تو کھوئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی ا سے کا غرور تھا دانش اور مجھہی کو رکھا خرابوں ہے وہ ہے وہ

Madan Mohan Danish

13 likes

और क्या आख़िर तुझे ऐ ज़िंदगानी चाहिए आरज़ू कल आग की थी आज पानी चाहिए ये कहाँ की रीत है जागे कोई सोए कोई रात सब की है तो सब को नींद आनी चाहिए इस को हँसने के लिए तो उस को रोने के लिए वक़्त की झोली से सब को इक कहानी चाहिए क्यूँँ ज़रूरी है किसी के पीछे पीछे हम चलें जब सफ़र अपना है तो अपनी रवानी चाहिए कौन पहचानेगा 'दानिश' अब तुझे किरदार से बे-मुरव्वत वक़्त को ताज़ा निशानी चाहिए

Madan Mohan Danish

15 likes

جاناں اپنے آپ پر احسان کیوں نہیں کرتے کیا ہے عشق تو اعلان کیوں نہیں کرتے سجائے پھرتے ہوں محفل لگ جانے ک سے ک سے کی کبھی پرندوں کو مہمان کیوں نہیں کرتے حقیقت دیکھتے ہی نہیں جو ہے م دی سے ا پیش کبھی نگاہ کو حیران کیوں نہیں کرتے پرانی سمتوں ہے وہ ہے وہ چلنے کی سب کو عادت ہے نئی دشاؤں کا حقیقت دھیان کیوں نہیں کرتے ب سے اک چراغ کے بجھنے سے بجھ گئے دانش جاناں آندھیوں کو پریشان کیوں نہیں کرتے

Madan Mohan Danish

9 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Madan Mohan Danish.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Madan Mohan Danish's ghazal.