کوئی یہ لاکھ کہے مری بنانے سے ملا ہر نیا رنگ زمانے کو پرانی سے ملا فکر ہر بار خموشی سے ملی ہے مجھ کو اور زما لگ یہ مجھے شور مچانے سے ملا ا سے کی تقدیر اندھیروں نے لکھی تھی شاید حقیقت اجالا جو چراغوں کو بجھانے سے ملا پوچھتے کیا ہوں ملا کیسے یہ جنگل کو طلسم چھاؤں ہے وہ ہے وہ دھوپ کی رنگت کو ملانے سے ملا اور لوگوں سے ملاقات ک ہاں ممکن تھی حقیقت تو خود سے بھی ملا ہے تو بہانے سے ملا مری تشکیل تو کچھ اور ہوئی تھی دانش یہ نیا نقش مجھے خود کو مٹانے سے ملا
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
More from Madan Mohan Danish
یہ مانا ا سے طرف رستہ لگ جائے م گر پھروں بھی مجھے روکا لگ جائے بدل سکتی ہے رکھ تصویر اپنا کچھ اتنے غور سے دیکھا لگ جائے الجھنے کے لیے سو الجھنیں ہیں ب سے اپنے آپ سے الجھا لگ جائے ارادہ واپسی کا ہوں ا گر تو بے حد گہرائی ہے وہ ہے وہ اترا لگ جائے ہماری عرض ب سے اتنی ہے دانش اداسی کا سبب پوچھا لگ جائے
Madan Mohan Danish
6 likes
ہم اپنے دکھ کو گانے لگ گئے ہیں مگر ای سے ہے وہ ہے وہ زمانے لگ گئے ہیں کسی کی تربیت کا ہے کرشمہ یہ آنسو مسکرانے لگ گئے ہیں کہانی رکھ بدلنا چاہتی ہے نئے کردار آنے لگ گئے ہیں یہ حاصل ہے مری خاموشیوں کا کہ پتھر لگ گئے ہیں یہ ممکن ہے کسی دن جاناں بھی آؤ پرندے آنے جانے لگ گئے ہیں جنہیں ہم منزلوں تک لے کے آئی وہی رستہ بتانے لگ گئے ہیں شرافت رنگ دکھلاتی ہے دانش کئی دشمن ٹھکانے لگ گئے ہیں
Madan Mohan Danish
27 likes
رنگ دنیا کتنا گہرا ہوں گیا تو آدمی کا رنگ فیکا ہوں گیا تو رات کیا ہوتی ہے ہم سے پوچھیے آپ تو سوئے سویرہ ہوں گیا تو ڈوبنے کی ضد پہ کشتی آ گئی ب سے یہیں مجبور دریا ہوں گیا تو آج خود کو بیچنے نکلے تھے ہم آج ہی بازار مندہ ہوں گیا تو غم اندھیرے کا نہیں دانش م گر سمے سے پہلے اندھیرا ہوں گیا تو
Madan Mohan Danish
4 likes
کوئی کانٹا لگ ہوں گلابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایسا ممکن ہے صرف خوابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کو کیسے قرار آتا ہے یہ لکھا ہی نہیں کتابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اتنے سیدھے سوال تھے مری حقیقت الجھتا گیا تو کھوئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی ا سے کا غرور تھا دانش اور مجھہی کو رکھا خرابوں ہے وہ ہے وہ
Madan Mohan Danish
13 likes
جاناں اپنے آپ پر احسان کیوں نہیں کرتے کیا ہے عشق تو اعلان کیوں نہیں کرتے سجائے پھرتے ہوں محفل لگ جانے ک سے ک سے کی کبھی پرندوں کو مہمان کیوں نہیں کرتے حقیقت دیکھتے ہی نہیں جو ہے م دی سے ا پیش کبھی نگاہ کو حیران کیوں نہیں کرتے پرانی سمتوں ہے وہ ہے وہ چلنے کی سب کو عادت ہے نئی دشاؤں کا حقیقت دھیان کیوں نہیں کرتے ب سے اک چراغ کے بجھنے سے بجھ گئے دانش جاناں آندھیوں کو پریشان کیوں نہیں کرتے
Madan Mohan Danish
9 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Madan Mohan Danish.
Similar Moods
More moods that pair well with Madan Mohan Danish's ghazal.







