ghazalKuch Alfaaz

کوئی کانٹا لگ ہوں گلابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایسا ممکن ہے صرف خوابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کو کیسے قرار آتا ہے یہ لکھا ہی نہیں کتابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اتنے سیدھے سوال تھے مری حقیقت الجھتا گیا تو کھوئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی ا سے کا غرور تھا دانش اور مجھہی کو رکھا خرابوں ہے وہ ہے وہ

Related Ghazal

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا

Fahmi Badayuni

96 likes

تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن

Varun Anand

81 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

کیا غلط فہمی ہے وہ ہے وہ رہ جانے کا صدمہ کچھ نہیں حقیقت مجھے سمجھا تو سکتا تھا کہ ایسا کچھ نہيں عشق سے بچ کر بھی بندہ کچھ نہیں ہوتا مغر یہ بھی سچ ہے عشق ہے وہ ہے وہ بندے کا اختیار کچھ نہیں جانے کیسے راز سینے ہے وہ ہے وہ لیے بیٹھا ہے حقیقت زہر کھا لیتا ہے پر منا سے اگلتا کچھ نہیں شکر ہے کہ ا سے نے مجھ سے کہ دیا کہ کچھ تو ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے کہنے ہی والا تھا کہ اچھا کچھ نہیں

Tehzeeb Hafi

105 likes

More from Madan Mohan Danish

کوئی یہ لاکھ کہے مری بنانے سے ملا ہر نیا رنگ زمانے کو پرانی سے ملا فکر ہر بار خموشی سے ملی ہے مجھ کو اور زما لگ یہ مجھے شور مچانے سے ملا ا سے کی تقدیر اندھیروں نے لکھی تھی شاید حقیقت اجالا جو چراغوں کو بجھانے سے ملا پوچھتے کیا ہوں ملا کیسے یہ جنگل کو طلسم چھاؤں ہے وہ ہے وہ دھوپ کی رنگت کو ملانے سے ملا اور لوگوں سے ملاقات ک ہاں ممکن تھی حقیقت تو خود سے بھی ملا ہے تو بہانے سے ملا مری تشکیل تو کچھ اور ہوئی تھی دانش یہ نیا نقش مجھے خود کو مٹانے سے ملا

Madan Mohan Danish

5 likes

یہ مانا ا سے طرف رستہ لگ جائے م گر پھروں بھی مجھے روکا لگ جائے بدل سکتی ہے رکھ تصویر اپنا کچھ اتنے غور سے دیکھا لگ جائے الجھنے کے لیے سو الجھنیں ہیں ب سے اپنے آپ سے الجھا لگ جائے ارادہ واپسی کا ہوں ا گر تو بے حد گہرائی ہے وہ ہے وہ اترا لگ جائے ہماری عرض ب سے اتنی ہے دانش اداسی کا سبب پوچھا لگ جائے

Madan Mohan Danish

6 likes

ہم اپنے دکھ کو گانے لگ گئے ہیں مگر ای سے ہے وہ ہے وہ زمانے لگ گئے ہیں کسی کی تربیت کا ہے کرشمہ یہ آنسو مسکرانے لگ گئے ہیں کہانی رکھ بدلنا چاہتی ہے نئے کردار آنے لگ گئے ہیں یہ حاصل ہے مری خاموشیوں کا کہ پتھر لگ گئے ہیں یہ ممکن ہے کسی دن جاناں بھی آؤ پرندے آنے جانے لگ گئے ہیں جنہیں ہم منزلوں تک لے کے آئی وہی رستہ بتانے لگ گئے ہیں شرافت رنگ دکھلاتی ہے دانش کئی دشمن ٹھکانے لگ گئے ہیں

Madan Mohan Danish

27 likes

جاناں اپنے آپ پر احسان کیوں نہیں کرتے کیا ہے عشق تو اعلان کیوں نہیں کرتے سجائے پھرتے ہوں محفل لگ جانے ک سے ک سے کی کبھی پرندوں کو مہمان کیوں نہیں کرتے حقیقت دیکھتے ہی نہیں جو ہے م دی سے ا پیش کبھی نگاہ کو حیران کیوں نہیں کرتے پرانی سمتوں ہے وہ ہے وہ چلنے کی سب کو عادت ہے نئی دشاؤں کا حقیقت دھیان کیوں نہیں کرتے ب سے اک چراغ کے بجھنے سے بجھ گئے دانش جاناں آندھیوں کو پریشان کیوں نہیں کرتے

Madan Mohan Danish

9 likes

رنگ دنیا کتنا گہرا ہوں گیا تو آدمی کا رنگ فیکا ہوں گیا تو رات کیا ہوتی ہے ہم سے پوچھیے آپ تو سوئے سویرہ ہوں گیا تو ڈوبنے کی ضد پہ کشتی آ گئی ب سے یہیں مجبور دریا ہوں گیا تو آج خود کو بیچنے نکلے تھے ہم آج ہی بازار مندہ ہوں گیا تو غم اندھیرے کا نہیں دانش م گر سمے سے پہلے اندھیرا ہوں گیا تو

Madan Mohan Danish

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Madan Mohan Danish.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Madan Mohan Danish's ghazal.