ghazalKuch Alfaaz

یہ مانا ا سے طرف رستہ لگ جائے م گر پھروں بھی مجھے روکا لگ جائے بدل سکتی ہے رکھ تصویر اپنا کچھ اتنے غور سے دیکھا لگ جائے الجھنے کے لیے سو الجھنیں ہیں ب سے اپنے آپ سے الجھا لگ جائے ارادہ واپسی کا ہوں ا گر تو بے حد گہرائی ہے وہ ہے وہ اترا لگ جائے ہماری عرض ب سے اتنی ہے دانش اداسی کا سبب پوچھا لگ جائے

Related Ghazal

چل دیے پھیر کر نظر جاناں بھی غیر تو غیر تھے م گر جاناں بھی یہ گلی مری دلربا کی ہے دوستوں خیریت ادھر جاناں بھی مجھ پہ لوگوں کے ساتھ ہنستے ہوں لوگ روئیںگے خاص کر جاناں بھی مجھ کو ٹھکرا دیا ہے دنیا نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو مر جاؤں گا ا گر جاناں بھی ا سے کی گاڑی تو جا چکی تابش اب اٹھو جاؤ اپنے گھر جاناں بھی

Zubair Ali Tabish

58 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

More from Madan Mohan Danish

کوئی کانٹا لگ ہوں گلابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایسا ممکن ہے صرف خوابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کو کیسے قرار آتا ہے یہ لکھا ہی نہیں کتابوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اتنے سیدھے سوال تھے مری حقیقت الجھتا گیا تو کھوئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی ا سے کا غرور تھا دانش اور مجھہی کو رکھا خرابوں ہے وہ ہے وہ

Madan Mohan Danish

13 likes

کوئی یہ لاکھ کہے مری بنانے سے ملا ہر نیا رنگ زمانے کو پرانی سے ملا فکر ہر بار خموشی سے ملی ہے مجھ کو اور زما لگ یہ مجھے شور مچانے سے ملا ا سے کی تقدیر اندھیروں نے لکھی تھی شاید حقیقت اجالا جو چراغوں کو بجھانے سے ملا پوچھتے کیا ہوں ملا کیسے یہ جنگل کو طلسم چھاؤں ہے وہ ہے وہ دھوپ کی رنگت کو ملانے سے ملا اور لوگوں سے ملاقات ک ہاں ممکن تھی حقیقت تو خود سے بھی ملا ہے تو بہانے سے ملا مری تشکیل تو کچھ اور ہوئی تھی دانش یہ نیا نقش مجھے خود کو مٹانے سے ملا

Madan Mohan Danish

5 likes

رنگ دنیا کتنا گہرا ہوں گیا تو آدمی کا رنگ فیکا ہوں گیا تو رات کیا ہوتی ہے ہم سے پوچھیے آپ تو سوئے سویرہ ہوں گیا تو ڈوبنے کی ضد پہ کشتی آ گئی ب سے یہیں مجبور دریا ہوں گیا تو آج خود کو بیچنے نکلے تھے ہم آج ہی بازار مندہ ہوں گیا تو غم اندھیرے کا نہیں دانش م گر سمے سے پہلے اندھیرا ہوں گیا تو

Madan Mohan Danish

4 likes

جاناں اپنے آپ پر احسان کیوں نہیں کرتے کیا ہے عشق تو اعلان کیوں نہیں کرتے سجائے پھرتے ہوں محفل لگ جانے ک سے ک سے کی کبھی پرندوں کو مہمان کیوں نہیں کرتے حقیقت دیکھتے ہی نہیں جو ہے م دی سے ا پیش کبھی نگاہ کو حیران کیوں نہیں کرتے پرانی سمتوں ہے وہ ہے وہ چلنے کی سب کو عادت ہے نئی دشاؤں کا حقیقت دھیان کیوں نہیں کرتے ب سے اک چراغ کے بجھنے سے بجھ گئے دانش جاناں آندھیوں کو پریشان کیوں نہیں کرتے

Madan Mohan Danish

9 likes

ہم اپنے دکھ کو گانے لگ گئے ہیں مگر ای سے ہے وہ ہے وہ زمانے لگ گئے ہیں کسی کی تربیت کا ہے کرشمہ یہ آنسو مسکرانے لگ گئے ہیں کہانی رکھ بدلنا چاہتی ہے نئے کردار آنے لگ گئے ہیں یہ حاصل ہے مری خاموشیوں کا کہ پتھر لگ گئے ہیں یہ ممکن ہے کسی دن جاناں بھی آؤ پرندے آنے جانے لگ گئے ہیں جنہیں ہم منزلوں تک لے کے آئی وہی رستہ بتانے لگ گئے ہیں شرافت رنگ دکھلاتی ہے دانش کئی دشمن ٹھکانے لگ گئے ہیں

Madan Mohan Danish

27 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Madan Mohan Danish.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Madan Mohan Danish's ghazal.