اب کے بر سے ہونٹوں سے مری تش لگ لبی بھی ختم ہوئی تجھ سے ملنے کی اے دریا مجبوری بھی ختم ہوئی کیسا پیار ک ہاں کی الفت عشق کی بات تو جانے دو مری لیے اب ا سے کے دل سے ہمدر گرا بھی ختم ہوئی سامنے والی بلڈنگ ہے وہ ہے وہ اب کام ہے ب سے آرائش کا کل تک جو ملتی تھی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت مزدوری بھی ختم ہوئی جیل سے واپ سے آ کر ا سے نے پانچوں سمے نماز پڑھی منا بھی بند ہوئے سب کے اور بدنامی بھی ختم ہوئی ج سے کی جل دھارا سے بستی والے جیون پاتے تھے رستہ بدلتے ہی ن گرا کے حقیقت بستی بھی ختم ہوئی
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں
Ali Zaryoun
158 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں
Jaun Elia
315 likes
ایک اور بے وجہ چھوڑ کر چلا گیا تو تو کیا ہوا ہمارے ساتھ کون سا یہ پہلی مرتبہ ہوا ازل سے ان ہتھیلیوں ہے وہ ہے وہ ہجر کی لکیر تھی تمہارا دکھ تو چنو مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ بڑا ہوا مری خلاف دشمنوں کی صف ہے وہ ہے وہ ہے حقیقت اور ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد برا لگوںگا ا سے پر تیر کھینچتا ہوا
Tehzeeb Hafi
183 likes
More from Tahir Faraz
ہے وہ ہے وہ لگ کہتا تھا کہ شہروں ہے وہ ہے وہ لگ جا یار مری سوندھی مٹی ہی ہے وہ ہے وہ ہوتی ہے وفا یار مری کوئی ٹوٹے ہوئے خوابوں سے ک ہاں ملتا ہے ہر جگہ درد کا بستر لگ لگا یار مری سلسلہ پھروں سے جڑا ہے تو جڑا رہنے دے دل کے رشتوں کو تماشا لگ بنا یار مری اپنی چاہت کے شب و روز مکمل کر لے جا یہ سورج بھی تری نام کیا یار مری تجھ سے ملتا ہوں تو رشتہ کوئی یاد آتا ہے سلسلہ مجھ سے زیادہ لگ بڑھا یار مری ایسا لگتا ہے کہ کچھ ٹوٹ رہا ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھوڑ کے تو مجھے ا سے سمے لگ جا یار مری خوش نصیبی سے یہ ساعت تری ہاتھ آئی ہے آ سماں جھکنے لگا ہاتھ بڑھا یار مری
Tahir Faraz
0 likes
درد خاموش رہا ٹوٹتی آواز رہی میری ہر شام تری یاد کی ہمراز رہی شہر ہے وہ ہے وہ جب بھی چلے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے تپتے صحرا کی طبیعت بڑی سوز جگر رہی آئینے ٹوٹ گئے عکس کی سچائی پر اور سچائی ہمیشہ کی طرح راز رہی اک نئے موڑ پہ اس کا نے بھی مجھے چھوڑ دیا جس کی آواز ہے وہ ہے وہ شامل مری آواز رہی سنتا رہتا ہوں بزرگوں سے ہے وہ ہے وہ 9 طاہر حقیقت سماعت ہی رہی اور نہ حقیقت آواز رہی
Tahir Faraz
2 likes
جب مری ہونٹوں پہ میری تشنہ لبی رہ جائے گی تیری آنکھوں ہے وہ ہے وہ بھی تھوڑی سی نمی رہ جائے گی سر پھرہ جھونکا ہوا کا توڑ دےگا شاخ کو پھول بننے کی تمنا ہے وہ ہے وہ کلی رہ جائے گی ختم ہوں جائےگا جس دن بھی تمہارا انتظار گھر کے دروازے پہ دستک چیختی رہ جائے گی کیا خبر تھی آئےگا اک روز ایسا وقت بھی میری گویائی ترا منہ دیکھتی رہ جائے گی وقت رخصت آئےگا اور ختم ہوگا یہ سفر میرے دل کی بات میرے دل ہے وہ ہے وہ ہی رہ جائے گی
Tahir Faraz
1 likes
کوئی حسین منظر آنکھوں سے جب اوجھل ہوں جائےگا مجھ کو پاگل کہنے والا خود ہی پاگل ہوں جائےگا پلکوں پہ ا سے کی جلے بجھیں گے جگنو جب مری یادوں کے کمرے ہے وہ ہے وہ ہوںگی برساتیں گھر جنگل ہوں جائےگا ج سے دن ا سے کی زلفیں ا سے کے شانے پر کھل جائیں گی ا سے دن شرم سے پانی پانی خود بادل ہوں جائےگا جب بھی حقیقت پاکیزہ دامن آ جائےگا ہاتھ مری آنکھوں کا یہ میلا پانی گنگا جل ہوں جائےگا ا سے کی یادیں ا سے کی باتیں ا سے کی وفائیں ا سے کا پیار ک سے کو خبر تھی جینا مشکل ایک اک پل ہوں جائےگا مت نزدیک تر اے پیاسے دریا سورج آنے والا ہے برف پہاڑوں سے پگھلی تو جل ہی جل ہوں جائےگا
Tahir Faraz
0 likes
آپ ہمارے ساتھ نہیں چ لیے کوئی بات نہیں آپ کسی کے ہوں جائیں آپ کے ب سے کی بات نہیں اب ہم کو آواز لگ دو اب ایسے حالات نہیں ا سے دنیا کے نقشے ہے وہ ہے وہ ہے وہ شہر تو ہیں دیہات نہیں سب ہے بے شرط ہم کو م گر توہین جذبات نہیں ہم کو مٹانا مشکل ہے صدیاں ہیں لمحات نہیں ظالم سے ڈر لگ والے کیا تری دو ہاتھ نہیں
Tahir Faraz
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Tahir Faraz.
Similar Moods
More moods that pair well with Tahir Faraz's ghazal.







