ہے وہ ہے وہ لگ کہتا تھا کہ شہروں ہے وہ ہے وہ لگ جا یار مری سوندھی مٹی ہی ہے وہ ہے وہ ہوتی ہے وفا یار مری کوئی ٹوٹے ہوئے خوابوں سے ک ہاں ملتا ہے ہر جگہ درد کا بستر لگ لگا یار مری سلسلہ پھروں سے جڑا ہے تو جڑا رہنے دے دل کے رشتوں کو تماشا لگ بنا یار مری اپنی چاہت کے شب و روز مکمل کر لے جا یہ سورج بھی تری نام کیا یار مری تجھ سے ملتا ہوں تو رشتہ کوئی یاد آتا ہے سلسلہ مجھ سے زیادہ لگ بڑھا یار مری ایسا لگتا ہے کہ کچھ ٹوٹ رہا ہے مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھوڑ کے تو مجھے ا سے سمے لگ جا یار مری خوش نصیبی سے یہ ساعت تری ہاتھ آئی ہے آ سماں جھکنے لگا ہاتھ بڑھا یار مری
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
More from Tahir Faraz
اب کے بر سے ہونٹوں سے مری تش لگ لبی بھی ختم ہوئی تجھ سے ملنے کی اے دریا مجبوری بھی ختم ہوئی کیسا پیار ک ہاں کی الفت عشق کی بات تو جانے دو مری لیے اب ا سے کے دل سے ہمدر گرا بھی ختم ہوئی سامنے والی بلڈنگ ہے وہ ہے وہ اب کام ہے ب سے آرائش کا کل تک جو ملتی تھی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت مزدوری بھی ختم ہوئی جیل سے واپ سے آ کر ا سے نے پانچوں سمے نماز پڑھی منا بھی بند ہوئے سب کے اور بدنامی بھی ختم ہوئی ج سے کی جل دھارا سے بستی والے جیون پاتے تھے رستہ بدلتے ہی ن گرا کے حقیقت بستی بھی ختم ہوئی
Tahir Faraz
1 likes
درد خاموش رہا ٹوٹتی آواز رہی میری ہر شام تری یاد کی ہمراز رہی شہر ہے وہ ہے وہ جب بھی چلے ٹھنڈی ہوا کے جھونکے تپتے صحرا کی طبیعت بڑی سوز جگر رہی آئینے ٹوٹ گئے عکس کی سچائی پر اور سچائی ہمیشہ کی طرح راز رہی اک نئے موڑ پہ اس کا نے بھی مجھے چھوڑ دیا جس کی آواز ہے وہ ہے وہ شامل مری آواز رہی سنتا رہتا ہوں بزرگوں سے ہے وہ ہے وہ 9 طاہر حقیقت سماعت ہی رہی اور نہ حقیقت آواز رہی
Tahir Faraz
2 likes
کوئی حسین منظر آنکھوں سے جب اوجھل ہوں جائےگا مجھ کو پاگل کہنے والا خود ہی پاگل ہوں جائےگا پلکوں پہ ا سے کی جلے بجھیں گے جگنو جب مری یادوں کے کمرے ہے وہ ہے وہ ہوںگی برساتیں گھر جنگل ہوں جائےگا ج سے دن ا سے کی زلفیں ا سے کے شانے پر کھل جائیں گی ا سے دن شرم سے پانی پانی خود بادل ہوں جائےگا جب بھی حقیقت پاکیزہ دامن آ جائےگا ہاتھ مری آنکھوں کا یہ میلا پانی گنگا جل ہوں جائےگا ا سے کی یادیں ا سے کی باتیں ا سے کی وفائیں ا سے کا پیار ک سے کو خبر تھی جینا مشکل ایک اک پل ہوں جائےگا مت نزدیک تر اے پیاسے دریا سورج آنے والا ہے برف پہاڑوں سے پگھلی تو جل ہی جل ہوں جائےگا
Tahir Faraz
0 likes
جب مری ہونٹوں پہ میری تشنہ لبی رہ جائے گی تیری آنکھوں ہے وہ ہے وہ بھی تھوڑی سی نمی رہ جائے گی سر پھرہ جھونکا ہوا کا توڑ دےگا شاخ کو پھول بننے کی تمنا ہے وہ ہے وہ کلی رہ جائے گی ختم ہوں جائےگا جس دن بھی تمہارا انتظار گھر کے دروازے پہ دستک چیختی رہ جائے گی کیا خبر تھی آئےگا اک روز ایسا وقت بھی میری گویائی ترا منہ دیکھتی رہ جائے گی وقت رخصت آئےگا اور ختم ہوگا یہ سفر میرے دل کی بات میرے دل ہے وہ ہے وہ ہی رہ جائے گی
Tahir Faraz
1 likes
آپ ہمارے ساتھ نہیں چ لیے کوئی بات نہیں آپ کسی کے ہوں جائیں آپ کے ب سے کی بات نہیں اب ہم کو آواز لگ دو اب ایسے حالات نہیں ا سے دنیا کے نقشے ہے وہ ہے وہ ہے وہ شہر تو ہیں دیہات نہیں سب ہے بے شرط ہم کو م گر توہین جذبات نہیں ہم کو مٹانا مشکل ہے صدیاں ہیں لمحات نہیں ظالم سے ڈر لگ والے کیا تری دو ہاتھ نہیں
Tahir Faraz
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Tahir Faraz.
Similar Moods
More moods that pair well with Tahir Faraz's ghazal.







