اب تو منہ سے بول مجھ کو دیکھ دن بھر ہوں گیا تو اے بت خاموش کیا سچ مچ کا پتھر ہوں گیا تو اب تو چپ ہوں باغ ہے وہ ہے وہ نالوں سے محشر ہوں گیا تو یہ بھی اے بلبل کوئی صیاد کا گھر ہوں گیا تو التماس قتل پر کہتے ہوں فرصت ہی نہیں اب تمہیں اتنا غرور اللہ اکبر ہوں گیا تو محفل دشمن ہے وہ ہے وہ جو گزری حقیقت میرے دل سے پوچھ ہر اشارہ جنبش ابرو کا خنجر ہوں گیا تو آشیانے کا بتائیں کیا پتا خانہ بدوش چار تنکے رکھ لیے جس شاخ پر گھر ہوں گیا تو حرص تو دیکھو فلک بھی مجھ پہ کرتا ہے ستم کوئی پوچھے تو بھی کیا ان کے برابر ہوں گیا تو سوختہ دل ہے وہ ہے وہ نہ ملتا تیر کو خوں اے قمر یہ بھی کچھ مہمان کی قسمت سے میسر ہوں گیا تو
Related Ghazal
تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن
Varun Anand
81 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
More from Qamar Jalalvi
سرخیاں کیوں ڈھونڈ کر لاؤں فسانے کے لیے ب سے تمہارا نام کافی ہے زمانے کے لیے ہے ساحل سے ہٹاتی ہیں حبابوں کا ہجوم حقیقت چلے آئی ہیں ساحل پر نہانے کے لیے سوچتا ہوں اب کہی بجلی گری تو کیوں گری تنکے لایا تھا ک ہاں سے آشیانے کے لیے چھوڑ کر بستی یہ دیوانے ک ہاں سے آ گئے دشت کی بیٹھی بٹھائی خاک اڑانے کے لیے ہن سے کے کہتے ہوں زما لگ بھر مجھہی پر جان دے رہ گئے ہوں کیا تمہیں سارے زمانے کے لیے شام کو آوگے جاناں اچھا ابھی ہوتی ہے شام گیسوؤں کو کھول دو سورج چھپانے کے لیے کائنات عشق اک دل کے سوا کچھ بھی نہیں حقیقت ہی آنے کے لیے ہے حقیقت ہی جانے کے لیے اے زمانے بھر کو خوشیاں دینے والے یہ بتا کیا قمر ہی رہ گیا تو ہے غم اٹھانے کے لیے
Qamar Jalalvi
0 likes
کسی کا نام لو بے نام افسانے بے حد سے ہیں لگ جانے ک سے کو جاناں کہتے ہوں دیوانے بے حد سے ہیں جفاؤں کے گلے جاناں سے خدا جانے بے حد سے ہیں م گر محشر کا دن ہے اپنے بیگا لگ بے حد سے ہیں بنائے دے رہی ہیں اجنبی ناداریاں مجھ کو تری محفل ہے وہ ہے وہ ور لگ جانے پہچانے بے حد سے ہیں دھری رہ جائے گی پابن گرا زنداں جو اب چھیڑا یہ دربانوں کو سمجھا دو کہ دیوانے بے حد سے ہیں ب سے اب سو جاؤ نیند آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے کل پھروں سنائیں گے ذرا سی رہ گئی ہے رات افسانے بے حد سے ہیں تمہیں ک سے نے بلایا مے کشوں سے یہ لگ کہ ساقی طبیعت مل گئی ہے ور لگ مے خانے بے حد سے ہیں بڑی قربانیوں کے بعد رہنا باغ ہے وہ ہے وہ ہوگا ابھی تو آشیاں بجلی سے جلوانے بے حد سے ہیں لکھی ہے خاک اڑانی ہی ا گر اپنے مقدر ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری کوچے پہ کیا موقوف ویرانے بے حد سے ہیں لگ رو اے شمع موجودہ پتنگوں کی مصیبت پر ابھی محفل سے باہر تری پروانے بے حد سے ہیں مری کہنے سے ہوں گی ترک رسم و راہ غیروں سے بجا ہے آپ نے کہنے مری مانے بے حد سے ہیں قم
Qamar Jalalvi
0 likes
بارش میں عہد توڑ کے گر مے کشی ہوئی توبہ مری پھریگی کہاں بھیگتی ہوئی پیش آئے لاکھ رنج اگر اک خوشی ہوئی پروردگار یہ بھی کوئی زندگی ہوئی اچھا تو دونوں وقت ملے کوسیے حضور پھروں بھی مریض غم کی اگر زندگی ہوئی اے عندلیب اپنے نشمن کی خیر مانگ بجلی گئی ہے سو چمن دیکھتی ہوئی دیکھو چراغ قبر اسے کیا جواب دے آئےگی شام ہجر مجھے پوچھتی ہوئی قاصد انہی کو جا کے دیا تھا ہمارا خط وہ مل گئے تھے ان سے کوئی بات بھی ہوئی جب تک کہ تیری بزم میں چلتا رہے گا جام ساقی رہےگی گردش دوراں رکی ہوئی مانا کہ ان سے رات کا وعدہ ہے اے قمر کیسے وہ آ سکوگے اگر چاندنی ہوئی
Qamar Jalalvi
0 likes
کبھی جو آنکھ پہ گیسو یار ہوتا ہے شراب خانے پہ ابر بہار ہوتا ہے کسی کا غم ہوں مری دل پہ بار ہوتا ہے اسی کا نام غرق دریا ہوتا ہے الہی خیر ہوں ان بے زبان اسیروں کی قف سے کے سامنے ذکر بہار ہوتا ہے چمن ہے وہ ہے وہ ایسے بھی دو چار ہیں چمن والے کہ جن کو تہذیب ناگوار ہوتا ہے سوال جام تری مختلف ہے وہ ہے وہ اے ساقی جواب گردش لیل و نہار ہوتا ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ وفا پہ وفا آج تک لگ را سے آئی ا نہیں ستم پہ ستم سازگار ہوتا ہے لبوں پہ آ گیا تو دم بند ہوں چکیں آنکھیں چلے بھی آؤ کہ ختم انتظار ہوتا ہے ک ہاں حقیقت وصل کی راتیں ک ہاں یہ ہجر کے دن خیال گردش لیل و نہار ہوتا ہے جنوں تو ایک بڑی چیز ہے محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ذرا سے خوشی سے راز آشکار ہوتا ہے مری جنازے کو دیکھا تو یا سے سے بولے ی ہاں پہ آدمی بے اختیار ہوتا ہے خدا رکھے تمہیں کیا کوئی جور بھول گئے جو اب تلاش ہمارا مزار ہوتا ہے ہمارا زور ہے کیا باغباں اٹھا لیںگے یہ آشیاں جو تجھے ناگوار ہوتا ہے عجیب کش مکش بحر غم ہے وہ ہے وہ دل
Qamar Jalalvi
1 likes
کسی صورت سحر نہیں ہوتی رات ادھر سے ادھر نہیں ہوتی خوف صیاد سے لگ برق کا ڈر بات یہ اپنے گھر نہیں ہوتی ایک حقیقت ہیں کہ روز آتے ہیں ایک ہم ہیں خبر نہیں ہوتی اب ہے وہ ہے وہ سمجھا ہوں کاٹ کر شب غم زندگی بڑھوا نہیں ہوتی کتنی پابند وضع ہے شب غم کبھی غیروں کے گھر نہیں ہوتی کتنی سیدھی ہے راہ ملک عدم حاجت راہبر نہیں ہوتی سن لیا ہوگا جاناں نے حال مریض اب دوا کار گر نہیں ہوتی عرش ملتا ہے مری آ ہوں سے لیکن ان کو خبر نہیں ہوتی
Qamar Jalalvi
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Qamar Jalalvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Qamar Jalalvi's ghazal.







