سرخیاں کیوں ڈھونڈ کر لاؤں فسانے کے لیے ب سے تمہارا نام کافی ہے زمانے کے لیے ہے ساحل سے ہٹاتی ہیں حبابوں کا ہجوم حقیقت چلے آئی ہیں ساحل پر نہانے کے لیے سوچتا ہوں اب کہی بجلی گری تو کیوں گری تنکے لایا تھا ک ہاں سے آشیانے کے لیے چھوڑ کر بستی یہ دیوانے ک ہاں سے آ گئے دشت کی بیٹھی بٹھائی خاک اڑانے کے لیے ہن سے کے کہتے ہوں زما لگ بھر مجھہی پر جان دے رہ گئے ہوں کیا تمہیں سارے زمانے کے لیے شام کو آوگے جاناں اچھا ابھی ہوتی ہے شام گیسوؤں کو کھول دو سورج چھپانے کے لیے کائنات عشق اک دل کے سوا کچھ بھی نہیں حقیقت ہی آنے کے لیے ہے حقیقت ہی جانے کے لیے اے زمانے بھر کو خوشیاں دینے والے یہ بتا کیا قمر ہی رہ گیا تو ہے غم اٹھانے کے لیے
Related Ghazal
تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے
Tehzeeb Hafi
262 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
مری لیے تو عشق کا وعدہ ہے شاعری آدھا سرور جاناں ہوں تو آدھا ہے شاعری رودراکش ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے تو سینے ہے وہ ہے وہ اوم ہے اندھیرا ہے میرا دل مری رادھا ہے شاعری اپنا تو میل جول ہی ب سے عاشقوں سے ہے درویش کا ب سے ایک لبادہ ہے شاعری ہوں آشنا کوئی تو مہ لقا ہے اپنا رنگ بے رموزیوں کے واسطے سادہ ہے شاعری جاناں سامنے ہوں اور مری دسترسی ہے وہ ہے وہ ہوں ا سے سمے مری دل کا ارادہ ہے شاعری بھگوان ہوں خدا ہوں محبت ہوں یا بدن ج سے سمت بھی چلو یہی زادہ ہے شاعری ا سے لیے بھی عشق ہی لکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ علی میرا کسی سے آخری وعدہ ہے شاعری
Ali Zaryoun
70 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
More from Qamar Jalalvi
کبھی جو آنکھ پہ گیسو یار ہوتا ہے شراب خانے پہ ابر بہار ہوتا ہے کسی کا غم ہوں مری دل پہ بار ہوتا ہے اسی کا نام غرق دریا ہوتا ہے الہی خیر ہوں ان بے زبان اسیروں کی قف سے کے سامنے ذکر بہار ہوتا ہے چمن ہے وہ ہے وہ ایسے بھی دو چار ہیں چمن والے کہ جن کو تہذیب ناگوار ہوتا ہے سوال جام تری مختلف ہے وہ ہے وہ اے ساقی جواب گردش لیل و نہار ہوتا ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ وفا پہ وفا آج تک لگ را سے آئی ا نہیں ستم پہ ستم سازگار ہوتا ہے لبوں پہ آ گیا تو دم بند ہوں چکیں آنکھیں چلے بھی آؤ کہ ختم انتظار ہوتا ہے ک ہاں حقیقت وصل کی راتیں ک ہاں یہ ہجر کے دن خیال گردش لیل و نہار ہوتا ہے جنوں تو ایک بڑی چیز ہے محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ذرا سے خوشی سے راز آشکار ہوتا ہے مری جنازے کو دیکھا تو یا سے سے بولے ی ہاں پہ آدمی بے اختیار ہوتا ہے خدا رکھے تمہیں کیا کوئی جور بھول گئے جو اب تلاش ہمارا مزار ہوتا ہے ہمارا زور ہے کیا باغباں اٹھا لیںگے یہ آشیاں جو تجھے ناگوار ہوتا ہے عجیب کش مکش بحر غم ہے وہ ہے وہ دل
Qamar Jalalvi
1 likes
کسی صورت سحر نہیں ہوتی رات ادھر سے ادھر نہیں ہوتی خوف صیاد سے لگ برق کا ڈر بات یہ اپنے گھر نہیں ہوتی ایک حقیقت ہیں کہ روز آتے ہیں ایک ہم ہیں خبر نہیں ہوتی اب ہے وہ ہے وہ سمجھا ہوں کاٹ کر شب غم زندگی بڑھوا نہیں ہوتی کتنی پابند وضع ہے شب غم کبھی غیروں کے گھر نہیں ہوتی کتنی سیدھی ہے راہ ملک عدم حاجت راہبر نہیں ہوتی سن لیا ہوگا جاناں نے حال مریض اب دوا کار گر نہیں ہوتی عرش ملتا ہے مری آ ہوں سے لیکن ان کو خبر نہیں ہوتی
Qamar Jalalvi
0 likes
کب میرا نشمن اہل چمن گلشن ہے وہ ہے وہ بے شرط کرتے ہیں غنچے اپنی آوازوں ہے وہ ہے وہ بجلی کو پکارا کرتے ہیں اب نزع کا عالم ہے مجھ پر جاناں اپنی محبت واپ سے لو جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں جاتی ہوئی میت دیکھ کے بھی واللہ جاناں اٹھ کے آ لگ سکے دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف بے شرط کرتے ہیں بے وجہ لگ جانے کیوں ضد ہے ان کو شب فرقت والوں سے حقیقت رات بڑھا دینے کے لیے گیسو کو سنوارا کرتے ہیں پونچھو لگ ارق رخساروں سے رنگینی حسن کو بڑھنے دو سنتے ہیں کہ شبنم کے قطرے پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں کچھ حسن و عشق ہے وہ ہے وہ فرق نہیں ہے بھی تو فقط رسوائی کا جاناں ہوں کہ بے شرط کر لگ سکے ہم ہیں کہ بے شرط کرتے ہیں تاروں کی بہاروں ہے وہ ہے وہ بھی قمر جاناں افسردہ سے رہتے ہوں پھولوں کو تو دیکھو کانٹوں ہے وہ ہے وہ ہن سے ہن سے کے گزارا کرتے ہیں
Qamar Jalalvi
1 likes
حسن کب عشق کا ممنون وفا ہوتا ہے لاکھ پروا لگ مرے شمع پہ کیا ہوتا ہے شغل صیاد یہی صبح و مسا ہوتا ہے قید ہوتا ہے کوئی کوئی رہا ہوتا ہے جب پتا چلتا ہے خوشبو کی وفاداری کا پھول ج سے سمے گلستاں سے جدا ہوتا ہے ضبط کرتا ہوں تو پلانا ہے قف سے ہے وہ ہے وہ میرا دم آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے خون ہوتا ہے سحر تک مری ارمانوں کا شام وعدہ جو حقیقت پابند حنا ہوتا ہے چاندنی دیکھ کے یاد آتے ہیں کیا کیا حقیقت مجھے چاند جب شب کو قمر جلوہ نما ہوتا ہے
Qamar Jalalvi
0 likes
کسی کا نام لو بے نام افسانے بے حد سے ہیں لگ جانے ک سے کو جاناں کہتے ہوں دیوانے بے حد سے ہیں جفاؤں کے گلے جاناں سے خدا جانے بے حد سے ہیں م گر محشر کا دن ہے اپنے بیگا لگ بے حد سے ہیں بنائے دے رہی ہیں اجنبی ناداریاں مجھ کو تری محفل ہے وہ ہے وہ ور لگ جانے پہچانے بے حد سے ہیں دھری رہ جائے گی پابن گرا زنداں جو اب چھیڑا یہ دربانوں کو سمجھا دو کہ دیوانے بے حد سے ہیں ب سے اب سو جاؤ نیند آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے کل پھروں سنائیں گے ذرا سی رہ گئی ہے رات افسانے بے حد سے ہیں تمہیں ک سے نے بلایا مے کشوں سے یہ لگ کہ ساقی طبیعت مل گئی ہے ور لگ مے خانے بے حد سے ہیں بڑی قربانیوں کے بعد رہنا باغ ہے وہ ہے وہ ہوگا ابھی تو آشیاں بجلی سے جلوانے بے حد سے ہیں لکھی ہے خاک اڑانی ہی ا گر اپنے مقدر ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری کوچے پہ کیا موقوف ویرانے بے حد سے ہیں لگ رو اے شمع موجودہ پتنگوں کی مصیبت پر ابھی محفل سے باہر تری پروانے بے حد سے ہیں مری کہنے سے ہوں گی ترک رسم و راہ غیروں سے بجا ہے آپ نے کہنے مری مانے بے حد سے ہیں قم
Qamar Jalalvi
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Qamar Jalalvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Qamar Jalalvi's ghazal.







