ghazalKuch Alfaaz

کب میرا نشمن اہل چمن گلشن ہے وہ ہے وہ بے شرط کرتے ہیں غنچے اپنی آوازوں ہے وہ ہے وہ بجلی کو پکارا کرتے ہیں اب نزع کا عالم ہے مجھ پر جاناں اپنی محبت واپ سے لو جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں جاتی ہوئی میت دیکھ کے بھی واللہ جاناں اٹھ کے آ لگ سکے دو چار قدم تو دشمن بھی تکلیف بے شرط کرتے ہیں بے وجہ لگ جانے کیوں ضد ہے ان کو شب فرقت والوں سے حقیقت رات بڑھا دینے کے لیے گیسو کو سنوارا کرتے ہیں پونچھو لگ ارق رخساروں سے رنگینی حسن کو بڑھنے دو سنتے ہیں کہ شبنم کے قطرے پھولوں کو نکھارا کرتے ہیں کچھ حسن و عشق ہے وہ ہے وہ فرق نہیں ہے بھی تو فقط رسوائی کا جاناں ہوں کہ بے شرط کر لگ سکے ہم ہیں کہ بے شرط کرتے ہیں تاروں کی بہاروں ہے وہ ہے وہ بھی قمر جاناں افسردہ سے رہتے ہوں پھولوں کو تو دیکھو کانٹوں ہے وہ ہے وہ ہن سے ہن سے کے گزارا کرتے ہیں

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

More from Qamar Jalalvi

کبھی جو آنکھ پہ گیسو یار ہوتا ہے شراب خانے پہ ابر بہار ہوتا ہے کسی کا غم ہوں مری دل پہ بار ہوتا ہے اسی کا نام غرق دریا ہوتا ہے الہی خیر ہوں ان بے زبان اسیروں کی قف سے کے سامنے ذکر بہار ہوتا ہے چمن ہے وہ ہے وہ ایسے بھی دو چار ہیں چمن والے کہ جن کو تہذیب ناگوار ہوتا ہے سوال جام تری مختلف ہے وہ ہے وہ اے ساقی جواب گردش لیل و نہار ہوتا ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ وفا پہ وفا آج تک لگ را سے آئی ا نہیں ستم پہ ستم سازگار ہوتا ہے لبوں پہ آ گیا تو دم بند ہوں چکیں آنکھیں چلے بھی آؤ کہ ختم انتظار ہوتا ہے ک ہاں حقیقت وصل کی راتیں ک ہاں یہ ہجر کے دن خیال گردش لیل و نہار ہوتا ہے جنوں تو ایک بڑی چیز ہے محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ذرا سے خوشی سے راز آشکار ہوتا ہے مری جنازے کو دیکھا تو یا سے سے بولے ی ہاں پہ آدمی بے اختیار ہوتا ہے خدا رکھے تمہیں کیا کوئی جور بھول گئے جو اب تلاش ہمارا مزار ہوتا ہے ہمارا زور ہے کیا باغباں اٹھا لیںگے یہ آشیاں جو تجھے ناگوار ہوتا ہے عجیب کش مکش بحر غم ہے وہ ہے وہ دل

Qamar Jalalvi

1 likes

سرخیاں کیوں ڈھونڈ کر لاؤں فسانے کے لیے ب سے تمہارا نام کافی ہے زمانے کے لیے ہے ساحل سے ہٹاتی ہیں حبابوں کا ہجوم حقیقت چلے آئی ہیں ساحل پر نہانے کے لیے سوچتا ہوں اب کہی بجلی گری تو کیوں گری تنکے لایا تھا ک ہاں سے آشیانے کے لیے چھوڑ کر بستی یہ دیوانے ک ہاں سے آ گئے دشت کی بیٹھی بٹھائی خاک اڑانے کے لیے ہن سے کے کہتے ہوں زما لگ بھر مجھہی پر جان دے رہ گئے ہوں کیا تمہیں سارے زمانے کے لیے شام کو آوگے جاناں اچھا ابھی ہوتی ہے شام گیسوؤں کو کھول دو سورج چھپانے کے لیے کائنات عشق اک دل کے سوا کچھ بھی نہیں حقیقت ہی آنے کے لیے ہے حقیقت ہی جانے کے لیے اے زمانے بھر کو خوشیاں دینے والے یہ بتا کیا قمر ہی رہ گیا تو ہے غم اٹھانے کے لیے

Qamar Jalalvi

0 likes

کسی صورت سحر نہیں ہوتی رات ادھر سے ادھر نہیں ہوتی خوف صیاد سے لگ برق کا ڈر بات یہ اپنے گھر نہیں ہوتی ایک حقیقت ہیں کہ روز آتے ہیں ایک ہم ہیں خبر نہیں ہوتی اب ہے وہ ہے وہ سمجھا ہوں کاٹ کر شب غم زندگی بڑھوا نہیں ہوتی کتنی پابند وضع ہے شب غم کبھی غیروں کے گھر نہیں ہوتی کتنی سیدھی ہے راہ ملک عدم حاجت راہبر نہیں ہوتی سن لیا ہوگا جاناں نے حال مریض اب دوا کار گر نہیں ہوتی عرش ملتا ہے مری آ ہوں سے لیکن ان کو خبر نہیں ہوتی

Qamar Jalalvi

0 likes

حسن کب عشق کا ممنون وفا ہوتا ہے لاکھ پروا لگ مرے شمع پہ کیا ہوتا ہے شغل صیاد یہی صبح و مسا ہوتا ہے قید ہوتا ہے کوئی کوئی رہا ہوتا ہے جب پتا چلتا ہے خوشبو کی وفاداری کا پھول ج سے سمے گلستاں سے جدا ہوتا ہے ضبط کرتا ہوں تو پلانا ہے قف سے ہے وہ ہے وہ میرا دم آہ کرتا ہوں تو صیاد خفا ہوتا ہے خون ہوتا ہے سحر تک مری ارمانوں کا شام وعدہ جو حقیقت پابند حنا ہوتا ہے چاندنی دیکھ کے یاد آتے ہیں کیا کیا حقیقت مجھے چاند جب شب کو قمر جلوہ نما ہوتا ہے

Qamar Jalalvi

0 likes

کسی کا نام لو بے نام افسانے بے حد سے ہیں لگ جانے ک سے کو جاناں کہتے ہوں دیوانے بے حد سے ہیں جفاؤں کے گلے جاناں سے خدا جانے بے حد سے ہیں م گر محشر کا دن ہے اپنے بیگا لگ بے حد سے ہیں بنائے دے رہی ہیں اجنبی ناداریاں مجھ کو تری محفل ہے وہ ہے وہ ور لگ جانے پہچانے بے حد سے ہیں دھری رہ جائے گی پابن گرا زنداں جو اب چھیڑا یہ دربانوں کو سمجھا دو کہ دیوانے بے حد سے ہیں ب سے اب سو جاؤ نیند آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے کل پھروں سنائیں گے ذرا سی رہ گئی ہے رات افسانے بے حد سے ہیں تمہیں ک سے نے بلایا مے کشوں سے یہ لگ کہ ساقی طبیعت مل گئی ہے ور لگ مے خانے بے حد سے ہیں بڑی قربانیوں کے بعد رہنا باغ ہے وہ ہے وہ ہوگا ابھی تو آشیاں بجلی سے جلوانے بے حد سے ہیں لکھی ہے خاک اڑانی ہی ا گر اپنے مقدر ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری کوچے پہ کیا موقوف ویرانے بے حد سے ہیں لگ رو اے شمع موجودہ پتنگوں کی مصیبت پر ابھی محفل سے باہر تری پروانے بے حد سے ہیں مری کہنے سے ہوں گی ترک رسم و راہ غیروں سے بجا ہے آپ نے کہنے مری مانے بے حد سے ہیں قم

Qamar Jalalvi

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Qamar Jalalvi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Qamar Jalalvi's ghazal.