اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن ہے وہ ہے وہ پڑ جاتے ہیں کیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیں کیوں تری درد کو دیں تہمت ویرانی دل زلزلوں ہے وہ ہے وہ تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں موسم زرد ہے وہ ہے وہ اک دل کو بچاؤں کیسے ایسی رت ہے وہ ہے وہ تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں اب کوئی کیا مری قدموں کے نشان ڈھونڈے گا تیز آندھی ہے وہ ہے وہ تو خیمے بھی اُکھڑ جاتے ہیں شغل ارباب ہنر پوچھتے کیا ہوں کہ یہ لوگ پتھروں ہے وہ ہے وہ بھی کبھی آئینے جڑ جاتی ہیں سوچ کا آئی لگ دھندلا ہوں تو پھروں سمے کے ساتھ چاند چہروں کے خد و خال بگڑ جاتے ہیں شدت غم ہے وہ ہے وہ بھی زندہ ہوں تو حیرت کیسی کچھ دیے تند ہواؤں سے بھی لڑ جاتے ہیں حقیقت بھی کیا لوگ ہیں محسن جو وفا کی خاطر خود تراشیدہ اصولوں پہ بھی اڑ جاتے ہیں
Related Ghazal
کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر
Anwar Shaoor
95 likes
زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی
Ali Zaryoun
102 likes
ا سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ جو خنجر ہے زیادہ تیز ہے اور پھروں بچپن سے ہی ا سے کا نشا لگ تیز ہے جب کبھی ا سے پار جانے کا خیال آتا مجھے کوئی آہستہ سے کہتا تھا کی دریا تیز ہے آج ملنا تھا بچھڑ جانے کی نیت سے ہمیں آج بھی حقیقت دیر سے پہنچا ہے کتنا تیز ہے اپنا سب کچھ ہار کے لوٹ آئی ہوں لگ مری پا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں کہتا بھی رہتا کی دنیا تیز ہے آج ا سے کے گال چومے ہیں تو اندازہ ہوا چائے اچھی ہے م گر تھوڑا سا میٹھا تیز ہے
Tehzeeb Hafi
220 likes
بچھڑ کر ا سے کا دل لگ بھی گیا تو تو کیا لگے گا حقیقت تھک جائےگا اور مری گلے سے آ لگے گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مشکل ہے وہ ہے وہ تمہارے کام آؤں یا نا آؤں مجھے آواز دے لینا تمہیں اچھا لگے گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کوشش سے اس کا کو بھول جانے ہے وہ ہے وہ لگا ہوں زیادہ بھی ا گر لگ جائے تو ہفتہ لگے گا
Tehzeeb Hafi
174 likes
بعد ہے وہ ہے وہ مجھ سے نا کہنا گھر پلٹنا ٹھیک ہے ویسے سننے ہے وہ ہے وہ یہی آیا ہے رستہ ٹھیک ہے شاخ سے پتہ گرے بارش گردشیں بادل چھٹے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہی تو سب کچھ غلط کرتا ہوں اچھا ٹھیک ہے ذہن تک تسلیم کر لیتا ہے ا سے کی برتری آنکھ تک تصدیق کر دیتی ہے بندہ ٹھیک ہے ایک تیری آواز سننے کے لیے زندہ ہے ہم تو ہی جب خاموش ہوں جائے تو پھروں کیا ٹھیک ہے
Tehzeeb Hafi
182 likes
More from Mohsin Naqvi
اب حقیقت طوفاں ہے لگ حقیقت شور ہواؤں جیسا دل کا عالم ہے تری بعد خلاوں جیسا کاش دنیا مری احسا سے کو واپ سے کر دے خموشی کا وہی انداز صداؤں جیسا پا سے رہ کر بھی ہمیشہ حقیقت بے حد دور ملا ا سے کا انداز ت غافل تھا خداؤں جیسا کتنی شدت سے بہاروں کو تھا احسا سے مآل پھول کھیل کر بھی رہا زرد خزاؤں جیسا کیا خوشگوار ہے کہ دنیا اسے سردار کہے ج سے کا انداز سخن بھی ہوں گداؤں جیسا پھروں تیری یاد کے موسم نے جگائے محشر پھروں مری دل ہے وہ ہے وہ اٹھا شور ہواؤں جیسا بارہا خواب ہے وہ ہے وہ پا کر مجھے پیاسا محسن ا سے کی زلفوں نے کیا رقص گھٹاؤں جیسا
Mohsin Naqvi
1 likes
जब से उस ने शहर को छोड़ा हर रस्ता सुनसान हुआ अपना क्या है सारे शहर का इक जैसा नुक़सान हुआ ये दिल ये आसेब की नगरी मस्कन सोचूँ वहमों का सोच रहा हूँ इस नगरी में तू कब से मेहमान हुआ सहरा की मुँह-ज़ोर हवाएँ औरों से मंसूब हुईं मुफ़्त में हम आवारा ठहरे मुफ़्त में घर वीरान हुआ मेरे हाल पे हैरत कैसी दर्द के तन्हा मौसम में पत्थर भी रो पड़ते हैं इंसान तो फिर इंसान हुआ इतनी देर में उजड़े दिल पर कितने महशर बीत गए जितनी देर में तुझ को पा कर खोने का इम्कान हुआ कल तक जिस के गिर्द था रक़्साँ इक अम्बोह सितारों का आज उसी को तन्हा पा कर मैं तो बहुत हैरान हुआ उस के ज़ख़्म छुपा कर रखिए ख़ुद उस शख़्स की नज़रों से उस से कैसा शिकवा कीजे वो तो अभी नादान हुआ जिन अश्कों की फीकी लौ को हम बे-कार समझते थे उन अश्कों से कितना रौशन इक तारीक मकान हुआ यूँँ भी कम-आमेज़ था 'मोहसिन' वो इस शहर के लोगों में लेकिन मेरे सामने आ कर और भी कुछ अंजान हुआ
Mohsin Naqvi
0 likes
नया है शहर नए आसरे तलाश करूँँ तू खो गया है कहाँ अब तुझे तलाश करूँँ जो दश्त में भी जलाते थे फ़स्ल-ए-गुल के चराग़ मैं शहर में भी वही आबले तलाश करूँँ तू अक्स है तो कभी मेरी चश्म-ए-तर में उतर तिरे लिए मैं कहाँ आइने तलाश करूँँ तुझे हवा से की आवारगी का इल्म कहाँ कभी मैं तुझ को तिरे सामने तलाश करूँँ ग़ज़ल कहूँ कभी सादास ख़त लिखूँ उस को उदास दिल के लिए मश्ग़ले तलाश करूँँ मिरे वजूद से शायद मिले सुराग़ तिरा कभी मैं ख़ुद को तिरे वास्ते तलाश करूँँ मैं चुप रहूँ कभी बे-वज्ह हँस पड़ूँ 'मोहसिन' उसे गँवा के अजब हौसले तलाश करूँँ
Mohsin Naqvi
2 likes
मैं दिल पे जब्र करूँँगा तुझे भुला दूँगा मरूँगा ख़ुद भी तुझे भी कड़ी सज़ा दूँगा ये तीरगी मिरे घर का ही क्यूँँ मुक़द्दर हो मैं तेरे शहर के सारे दिए बुझा दूँगा हवा का हाथ बटाऊँगा हर तबाही में हरे शजर से परिंदे मैं ख़ुद उड़ा दूँगा वफ़ा करूँँगा किसी सोगवार चेहरे से पुरानी क़ब्र पे कतबा नया सजा दूँगा इसी ख़याल में गुज़री है शाम-ए-दर्द अक्सर कि दर्द हद से बढ़ेगा तो मुस्कुरा दूँगा तू आसमान की सूरत है गर पड़ेगा कभी ज़मीं हूँ मैं भी मगर तुझ को आसरा दूँगा बढ़ा रही हैं मिरे दुख निशानियाँ तेरी मैं तेरे ख़त तिरी तस्वीर तक जला दूँगा बहुत दिनों से मिरा दिल उदास है 'मोहसिन' इस आइने को कोई अक्स अब नया दूँगा
Mohsin Naqvi
7 likes
خوشی اپنا کہ تمہارا نہیں دیکھا جاتا ابر کی زد ہے وہ ہے وہ ستارہ نہیں دیکھا جاتا اپنی شہ رگ کا لہو تن ہے وہ ہے وہ رواں ہے جب تک زیر خنجر کوئی پیارا نہیں دیکھا جاتا موج در موج الجھنے کی ہوں سے بے معنی ڈوبتا ہوں تو سہارا نہیں دیکھا جاتا تری چہرے کی کشش تھی کہ پلٹ کر دیکھا ور لگ سورج تو دوبارہ نہیں دیکھا جاتا آگ کی ضد پہ لگ جا پھروں سے بھڑک سکتی ہے راکھ کی تہ ہے وہ ہے وہ شرارہ نہیں دیکھا جاتا زخم آنکھوں کے بھی سہتے تھے کبھی دل والے اب تو ابرو کا اشارہ نہیں دیکھا جاتا کیا خوشگوار ہے کہ دل ج سے کا ن گر ہے محسن دل پہ ا سے کا بھی اجارہ نہیں دیکھا جاتا
Mohsin Naqvi
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Mohsin Naqvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Mohsin Naqvi's ghazal.







