ghazalKuch Alfaaz

اب کے ملی شکست مری اور سے مجھے جتوا دیا گیا تو کسی کمزور سے مجھے الفاظ ڈھونے والی اک آواز تھا ہے وہ ہے وہ ب سے پھروں ا سے نے سنکے شعر کیا شور سے مجھے تجھ کو لگ پاکے خوش ہوں کہ کھونے کا ڈر نہیں غربت بچا رہی ہے ہر اک چور سے مجھے جو شاخ پر ہیں تری گزرنے کے باوجود حقیقت پھول چبھ رہے ہیں بے حد زور سے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا تھا اور کچھ اونچا ہوں آسمان قدرت نے پتھ سونپ دیے مور سے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے قبول کر لیا چپ چاپ حقیقت گلاب جو شاخ دے رہی تھی تیری اور سے مجھے ہلکے سے ا سے نے پوچھا کسے دوں ہے وہ ہے وہ اپنا دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ من ہی من ہے وہ ہے وہ چیخا بے حد زور سے مجھے

Related Ghazal

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

حقیقت منہ لگاتا ہے جب کوئی کام ہوتا ہے جو اس کا کا ہوتا ہے سمجھو غلام ہوتا ہے کسی کا ہوں کے دوبارہ نہ آنا میری طرف محبتوں ہے وہ ہے وہ حلالہ حرام ہوتا ہے اسے بھی گنتے ہیں ہم لوگ اہل خانہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارے یاں تو شجر کا بھی نام ہوتا ہے تجھ ایسے بے وجہ کے ہوتے ہیں ضرب سے دوست بہت تجھ ایسا بے وجہ بہت جلد آم ہوتا ہے کبھی لگی ہے تمہیں کوئی شام آخری شام ہمارے ساتھ یہ ہر ایک شام ہوتا ہے

Umair Najmi

81 likes

ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا

Tehzeeb Hafi

241 likes

More from Charagh Sharma

پکارتا ہوں ہے وہ ہے وہ الامان الامان اللہ بچا لے مری یقین اللہ کی جان اللہ حقیقت جن کو تو نے عطا کیا ہے جہان اللہ بنا رہے ہیں تری لیے ہی مکان اللہ حقیقت یاد آتا ہے صرف یاروں کے پوچھنے پر تو یاد آتا ہے صرف سمے اذان اللہ تری ت غافل کی ہی بدولت ہوں آج جو ہوں مجھے کوئی جنم ذات کافر لگ جان اللہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب حقیقت جنت بھی چھوڑ آیا تو دنیا کیا ہے لے ہے وہ ہے وہ چلا تو سنبھال اپنا جہان اللہ

Charagh Sharma

6 likes

تھک جاتا ہوں روز کے آنے جانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا بستر لگوا دو مے خانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ پھول ہے مت کہیے کہیے ا سے کا ہاتھ ہے پھول کو پھول بنانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب سے موقعے کی تاک ہے وہ ہے وہ ہوں اس کا کو جانے من کہ دوں جانے انجانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ آنکھوں ہے وہ ہے وہ مت روک مجھے جانا ہے ادھر یہ رستہ کھلتا ہے ج سے تہخانے ہے وہ ہے وہ

Charagh Sharma

19 likes

اے پھول بیچنے والے تجھے گمان بھی ہے کہ تری شہر ہے وہ ہے وہ تیزاب کی دکان بھی ہے ہمارے دل ہے وہ ہے وہ کبھی پاؤں کے نشان بنا کہ ا سے سڑک کی طرف تیر کا نشان بھی ہے یہ آسمان ا گر سایبان ہے تیرا تو بھول مت کہ کسی کا یہ پائیدان بھی ہے جب آج ا سے نے بتایا تو مجھ کو یاد آیا یہی کہ ا سے کی گلی ہے وہ ہے وہ میرا مکان بھی ہے

Charagh Sharma

10 likes

अब ये गुल गुलनार कब है ख़ार है बे-कार है आप ने जब कह दिया बे-कार है बे-कार है छोड़ कर मतला ग़ज़ल दमदार है बे-कार है जब सिपह-सालार ही बीमार है बे-कार है इक सवाल ऐसा है मेरे पास जिस के सामने ये जो तेरी शिद्दत-ए-इन्कार है बे-कार है तुझ को भी है चाँद का दीदार करने की तलब इक दिए को रौशनी दरकार है बे-कार है मय-कदे के मुख़्तलिफ़ आदाब होते हैं 'चराग़' जो यहाँ पर साहब-ए-किरदार है बे-कार है

Charagh Sharma

2 likes

کوئی خط وت نہیں پھاڑا کوئی تحفہ نہیں توڑا کہ حقیقت دیکھے تو خود اپائے کہ دل توڑا نہیں توڑا ی ہاں ہے وہ ہے وہ نے گلے ہے وہ ہے وہ باندھ لی رسی اور اک حقیقت ہے کہ اب تک صرف دستک دی ہے دروازہ نہیں توڑا بھروسا تھا بھروسا توڑ دےگا حقیقت سو ا سے نے بھی بھروسا توڑ کے حقیقت جو بھروسا تھا نہیں توڑا بنانا آ گیا تو جب کانچ کی کرچوں سے کوہ نور غزل کہنے لگے نبھائیے ہے وہ ہے وہ گلدستہ نہیں توڑا

Charagh Sharma

25 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Charagh Sharma.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Charagh Sharma's ghazal.