अब ये गुल गुलनार कब है ख़ार है बे-कार है आप ने जब कह दिया बे-कार है बे-कार है छोड़ कर मतला ग़ज़ल दमदार है बे-कार है जब सिपह-सालार ही बीमार है बे-कार है इक सवाल ऐसा है मेरे पास जिस के सामने ये जो तेरी शिद्दत-ए-इन्कार है बे-कार है तुझ को भी है चाँद का दीदार करने की तलब इक दिए को रौशनी दरकार है बे-कार है मय-कदे के मुख़्तलिफ़ आदाब होते हैं 'चराग़' जो यहाँ पर साहब-ए-किरदार है बे-कार है
Related Ghazal
جو تری ساتھ رہتے ہوئے سوگوار ہوں خواب ہوں ایسے بے وجہ پہ اور بےشمار ہوں اب اتنی دیر بھی نا لگا یہ ہوں نا کہی تو آ چکا ہوں اور تیرا انتظار ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھول ہوں تو پھروں تری بالو ہے وہ ہے وہ کیوں نہیں ہوں تو تیر ہے تو مری کلیجے کے پار ہوں ایک آستین چڑھانے کی عادت کو چھوڑ کر حافی جاناں آدمی تو بے حد شاندار ہوں
Tehzeeb Hafi
268 likes
تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے
Tehzeeb Hafi
262 likes
جھوٹوں نے جھوٹوں سے کہا ہے سچ بولو سرکاری اعلان ہوا ہے سچ بولو گھر کے اندر تو جھوٹوں کی ایک جوان فصلیں ہے دروازے پر لکھا ہوا ہے سچ بولو گلدستے پر یکجہتی لکھ رکھا ہے گلدستے کے اندر کیا ہے سچ بولو گنگا میا ڈوبنے والے اپنے تھے ناو ہے وہ ہے وہ ک سے نے چھید کیا ہے سچ بولو
Rahat Indori
71 likes
خالی بیٹھے ہوں تو اک کام میرا کر دو نا مجھ کو اچھا سا کوئی زخم ادا کر دو نا دھیان سے پنچھیوں کو دیتے ہوں دا لگ پانی اتنے اچھے ہوں تو پنجرے سے رہا کر دو نا جب قریب آ ہی گئے ہوں تو اداسی کیسی جب دیا دے ہی رہے ہوں تو جلا کر دو نا
Zubair Ali Tabish
102 likes
ایک اور بے وجہ چھوڑ کر چلا گیا تو تو کیا ہوا ہمارے ساتھ کون سا یہ پہلی مرتبہ ہوا ازل سے ان ہتھیلیوں ہے وہ ہے وہ ہجر کی لکیر تھی تمہارا دکھ تو چنو مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ بڑا ہوا مری خلاف دشمنوں کی صف ہے وہ ہے وہ ہے حقیقت اور ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد برا لگوںگا ا سے پر تیر کھینچتا ہوا
Tehzeeb Hafi
183 likes
More from Charagh Sharma
پکارتا ہوں ہے وہ ہے وہ الامان الامان اللہ بچا لے مری یقین اللہ کی جان اللہ حقیقت جن کو تو نے عطا کیا ہے جہان اللہ بنا رہے ہیں تری لیے ہی مکان اللہ حقیقت یاد آتا ہے صرف یاروں کے پوچھنے پر تو یاد آتا ہے صرف سمے اذان اللہ تری ت غافل کی ہی بدولت ہوں آج جو ہوں مجھے کوئی جنم ذات کافر لگ جان اللہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب حقیقت جنت بھی چھوڑ آیا تو دنیا کیا ہے لے ہے وہ ہے وہ چلا تو سنبھال اپنا جہان اللہ
Charagh Sharma
6 likes
تھک جاتا ہوں روز کے آنے جانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا بستر لگوا دو مے خانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ پھول ہے مت کہیے کہیے ا سے کا ہاتھ ہے پھول کو پھول بنانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب سے موقعے کی تاک ہے وہ ہے وہ ہوں اس کا کو جانے من کہ دوں جانے انجانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ آنکھوں ہے وہ ہے وہ مت روک مجھے جانا ہے ادھر یہ رستہ کھلتا ہے ج سے تہخانے ہے وہ ہے وہ
Charagh Sharma
19 likes
جنگ جتنی ہوں سکے دشوار ہونی چاہیے جیت حاصل ہوں تو لذت دار ہونی چاہیے ایک عاشق کل سلامت شہر ہے وہ ہے وہ دیکھا گیا تو یہ خبر تو سرخی ذائقہ ہونی چاہیے کہ رہی ہے آج کل غزلیں کسی کے عشق ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت کہ جو خود زینت اشعار ہونی چاہیے عشق دونوں نے کیا تھا خود کشی ب سے ہے وہ ہے وہ کروں حقیقت بھی مرنے کے لیے تیار ہونی چاہیے دل کی نادانی ہی ب سے کافی نہیں ہے عشق ہے وہ ہے وہ ہے وہ عقل بھی تھوڑی بے حد بیمار ہونی چاہیے پیار ہے تو ہاتھ ا سے کا تھام اپنے ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جنگ ہے تو ہاتھ ہے وہ ہے وہ تلوار ہونی چاہیے
Charagh Sharma
6 likes
مری اداسی مری درمیان بند کروں کوئی سلیقے سے یہ عطر دان بند کروں پڑھا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ بچوں کو کربلا کا نہساب جاناں اپنی تش لگ لبی کا بخان بند کروں ذرا سمجھنے کی کوشش کروں مری اشکوں حقیقت آج خوش ہے جاناں اپنی زبان بند کروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک شرط پہ رازی ہوں قید ہونے کو اسی قف سے ہے وہ ہے وہ میرا آسمان بند کروں مجھے اکیلے ہے وہ ہے وہ کرنی ہیں خود سے کچھ باتیں یہ میرا حکم ہے دیواروں کان بند کروں غزل ہے وہ ہے وہ لانے سے غم اور بڑھ گیا تو ہے چراغ شٹر گراو سخن کی دکان بند کروں
Charagh Sharma
4 likes
اب کے ملی شکست مری اور سے مجھے جتوا دیا گیا تو کسی کمزور سے مجھے الفاظ ڈھونے والی اک آواز تھا ہے وہ ہے وہ ب سے پھروں ا سے نے سنکے شعر کیا شور سے مجھے تجھ کو لگ پاکے خوش ہوں کہ کھونے کا ڈر نہیں غربت بچا رہی ہے ہر اک چور سے مجھے جو شاخ پر ہیں تری گزرنے کے باوجود حقیقت پھول چبھ رہے ہیں بے حد زور سے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا تھا اور کچھ اونچا ہوں آسمان قدرت نے پتھ سونپ دیے مور سے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے قبول کر لیا چپ چاپ حقیقت گلاب جو شاخ دے رہی تھی تیری اور سے مجھے ہلکے سے ا سے نے پوچھا کسے دوں ہے وہ ہے وہ اپنا دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ من ہی من ہے وہ ہے وہ چیخا بے حد زور سے مجھے
Charagh Sharma
21 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Charagh Sharma.
Similar Moods
More moods that pair well with Charagh Sharma's ghazal.







