ghazalKuch Alfaaz

مری اداسی مری درمیان بند کروں کوئی سلیقے سے یہ عطر دان بند کروں پڑھا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ بچوں کو کربلا کا نہساب جاناں اپنی تش لگ لبی کا بخان بند کروں ذرا سمجھنے کی کوشش کروں مری اشکوں حقیقت آج خوش ہے جاناں اپنی زبان بند کروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک شرط پہ رازی ہوں قید ہونے کو اسی قف سے ہے وہ ہے وہ میرا آسمان بند کروں مجھے اکیلے ہے وہ ہے وہ کرنی ہیں خود سے کچھ باتیں یہ میرا حکم ہے دیواروں کان بند کروں غزل ہے وہ ہے وہ لانے سے غم اور بڑھ گیا تو ہے چراغ شٹر گراو سخن کی دکان بند کروں

Related Ghazal

پھروں مری یاد آ رہی ہوں گی پھروں حقیقت دیپک بجھا رہی ہوں گی پھروں مری فی سے بک پہ آ کر حقیقت خود کو بینر بنا رہی ہوں گی اپنے بیٹے کا چوم کر ماتھا مجھ کو بتاشا لگا رہی ہوں گی پھروں اسی نے اسے چھوا ہوگا پھروں اسی سے نبھا رہی ہوں گی جسم چادر سا بچھ گیا تو ہوگا روح سلوٹ ہٹا رہی ہوں گی پھروں سے اک رات کٹ گئی ہوں گی پھروں سے اک رات آ رہی ہوں گی

Kumar Vishwas

53 likes

بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے بچا ہے جو تجھ ہے وہ ہے وہ میرا حصہ نکالنا ہے یہ روح برسوں سے دفن ہے جاناں مدد کروگے بدن کے ملبے سے ا سے کو زندہ نکالنا ہے نظر ہے وہ ہے وہ رکھنا کہی کوئی غم شنا سے گاہک مجھے سخن بیچنا ہے خرچہ نکالنا ہے نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ اب ا سے پرندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے یہ تی سے برسوں سے کچھ بر سے پیچھے چل رہی ہے مجھے گھڑی کا خراب پرزا نکالنا ہے خیال ہے خاندان کو اطلاع دے دوں جو کٹ گیا تو ا سے شجر کا شجرہ نکالنا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک کردار سے بڑا تنگ ہوں قلمکار مجھے کہانی ہے وہ ہے وہ ڈال غصہ نکالنا ہے

Umair Najmi

42 likes

جو بھی عزت کے ڈر سے ڈر جائے مت کرے عشق اپنے گھر جائے بات آ جائے جب دعاؤں پر ا سے سے بہتر ہے بندہ مر جائے تھوڑی سی اور دیر سامنے رہ مری آنکھوں کا پیٹ بھر جائے المہیمین کے گھر بھی خطرے ہیں جائے بھی تو کوئی کدھر جائے ہاں عقیدہ ا گر لگ قید رکھے پھروں تو انسان کچھ بھی کر جائے قیامت کی یہ آخری حد ہے مری اولاد آپ پر جائے ا سے کے چہرے پر آج اداسی تھی ہاں یہ افکار علوی مر جائے

Afkar Alvi

38 likes

تمہارے غم سے توبہ کر رہا ہوں ت غضب ہے ہے وہ ہے وہ ایسا کر رہا ہوں ہے اپنے ہاتھ ہے وہ ہے وہ اپنا گریبان لگ جانے ک سے سے جھگڑا کر رہا ہوں بے حد سے بند تالے کھل رہے ہیں تری سب خط اکٹھا کر رہا ہوں کوئی تتلی نشانے پر نہیں ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے رنگوں کا پیچھا کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رسمًا کہ رہا ہوں پھروں ملیںگے یہ مت سمجھو کہ وعدہ کر رہا ہوں مری احباب سارے شہر ہے وہ ہے وہ ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے گاؤں ہے وہ ہے وہ کیا کر رہا ہوں مری ہر اک غزل اصلی ہے صاحب کئی برسوں سے دھندا کر رہا ہوں

Zubair Ali Tabish

38 likes

روز تاروں کو نمائش ہے وہ ہے وہ خلل پڑتا ہے چاند پاگل ہے اندھیرے ہے وہ ہے وہ نکل پڑتا ہے ایک دیوا لگ مسافر ہے مری آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سر دہر ٹھہر جاتا ہے چل پڑتا ہے اپنی تعبیر کے چکر ہے وہ ہے وہ میرا جاگتا خواب روز سورج کی طرح گھر سے نکل پڑتا ہے روز پتھر کی حمایت ہے وہ ہے وہ غزل لکھتے ہیں روز شیشوں سے کوئی کام نکل پڑتا ہے ا سے کی یاد آئی ہے سانسوں ذرا آہستہ چلو دھڑکنوں سے بھی عبادت ہے وہ ہے وہ خلل پڑتا ہے

Rahat Indori

33 likes

More from Charagh Sharma

अब ये गुल गुलनार कब है ख़ार है बे-कार है आप ने जब कह दिया बे-कार है बे-कार है छोड़ कर मतला ग़ज़ल दमदार है बे-कार है जब सिपह-सालार ही बीमार है बे-कार है इक सवाल ऐसा है मेरे पास जिस के सामने ये जो तेरी शिद्दत-ए-इन्कार है बे-कार है तुझ को भी है चाँद का दीदार करने की तलब इक दिए को रौशनी दरकार है बे-कार है मय-कदे के मुख़्तलिफ़ आदाब होते हैं 'चराग़' जो यहाँ पर साहब-ए-किरदार है बे-कार है

Charagh Sharma

2 likes

پکارتا ہوں ہے وہ ہے وہ الامان الامان اللہ بچا لے مری یقین اللہ کی جان اللہ حقیقت جن کو تو نے عطا کیا ہے جہان اللہ بنا رہے ہیں تری لیے ہی مکان اللہ حقیقت یاد آتا ہے صرف یاروں کے پوچھنے پر تو یاد آتا ہے صرف سمے اذان اللہ تری ت غافل کی ہی بدولت ہوں آج جو ہوں مجھے کوئی جنم ذات کافر لگ جان اللہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب حقیقت جنت بھی چھوڑ آیا تو دنیا کیا ہے لے ہے وہ ہے وہ چلا تو سنبھال اپنا جہان اللہ

Charagh Sharma

6 likes

کوئی خط وت نہیں پھاڑا کوئی تحفہ نہیں توڑا کہ حقیقت دیکھے تو خود اپائے کہ دل توڑا نہیں توڑا ی ہاں ہے وہ ہے وہ نے گلے ہے وہ ہے وہ باندھ لی رسی اور اک حقیقت ہے کہ اب تک صرف دستک دی ہے دروازہ نہیں توڑا بھروسا تھا بھروسا توڑ دےگا حقیقت سو ا سے نے بھی بھروسا توڑ کے حقیقت جو بھروسا تھا نہیں توڑا بنانا آ گیا تو جب کانچ کی کرچوں سے کوہ نور غزل کہنے لگے نبھائیے ہے وہ ہے وہ گلدستہ نہیں توڑا

Charagh Sharma

25 likes

جنگ جتنی ہوں سکے دشوار ہونی چاہیے جیت حاصل ہوں تو لذت دار ہونی چاہیے ایک عاشق کل سلامت شہر ہے وہ ہے وہ دیکھا گیا تو یہ خبر تو سرخی ذائقہ ہونی چاہیے کہ رہی ہے آج کل غزلیں کسی کے عشق ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت کہ جو خود زینت اشعار ہونی چاہیے عشق دونوں نے کیا تھا خود کشی ب سے ہے وہ ہے وہ کروں حقیقت بھی مرنے کے لیے تیار ہونی چاہیے دل کی نادانی ہی ب سے کافی نہیں ہے عشق ہے وہ ہے وہ ہے وہ عقل بھی تھوڑی بے حد بیمار ہونی چاہیے پیار ہے تو ہاتھ ا سے کا تھام اپنے ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جنگ ہے تو ہاتھ ہے وہ ہے وہ تلوار ہونی چاہیے

Charagh Sharma

6 likes

اب کے ملی شکست مری اور سے مجھے جتوا دیا گیا تو کسی کمزور سے مجھے الفاظ ڈھونے والی اک آواز تھا ہے وہ ہے وہ ب سے پھروں ا سے نے سنکے شعر کیا شور سے مجھے تجھ کو لگ پاکے خوش ہوں کہ کھونے کا ڈر نہیں غربت بچا رہی ہے ہر اک چور سے مجھے جو شاخ پر ہیں تری گزرنے کے باوجود حقیقت پھول چبھ رہے ہیں بے حد زور سے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا تھا اور کچھ اونچا ہوں آسمان قدرت نے پتھ سونپ دیے مور سے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے قبول کر لیا چپ چاپ حقیقت گلاب جو شاخ دے رہی تھی تیری اور سے مجھے ہلکے سے ا سے نے پوچھا کسے دوں ہے وہ ہے وہ اپنا دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ من ہی من ہے وہ ہے وہ چیخا بے حد زور سے مجھے

Charagh Sharma

21 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Charagh Sharma.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Charagh Sharma's ghazal.