جنگ جتنی ہوں سکے دشوار ہونی چاہیے جیت حاصل ہوں تو لذت دار ہونی چاہیے ایک عاشق کل سلامت شہر ہے وہ ہے وہ دیکھا گیا تو یہ خبر تو سرخی ذائقہ ہونی چاہیے کہ رہی ہے آج کل غزلیں کسی کے عشق ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت کہ جو خود زینت اشعار ہونی چاہیے عشق دونوں نے کیا تھا خود کشی ب سے ہے وہ ہے وہ کروں حقیقت بھی مرنے کے لیے تیار ہونی چاہیے دل کی نادانی ہی ب سے کافی نہیں ہے عشق ہے وہ ہے وہ ہے وہ عقل بھی تھوڑی بے حد بیمار ہونی چاہیے پیار ہے تو ہاتھ ا سے کا تھام اپنے ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جنگ ہے تو ہاتھ ہے وہ ہے وہ تلوار ہونی چاہیے
Related Ghazal
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
جھک کے چلتا ہوں کہ قد ا سے کے برابر لگ لگے دوسرا یہ کہ اسے راہ ہے وہ ہے وہ ٹھوکر لگ لگے یہ تری ساتھ تعلق کا بڑا فائدہ ہے آدمی ہوں بھی تو اوقات سے باہر لگ لگے نیم تاریک سا ماحول ہے درکار مجھے ایسا ماحول ج ہاں آنکھ لگے ڈر لگ لگے ماو نے چومنا ہوتے ہیں بریدا سر بھی ا سے سے کہنا کہ کوئی زخم جبیں پر لگ لگے یہ طلبگار نگا ہوں کے تقاضے ہر سو کوئی تو ایسی جگہ ہوں جو مجھے گھر لگ لگے یہ جو آئی لگ ہے دیکھوں تو خلا دکھتا ہے ا سے جگہ کچھ بھی لگ لگواؤں تو بہتر لگ لگے جاناں نے چھوڑا تو کسی اور سے ٹکراؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسے ممکن ہے کہ اندھے کا کہی سر لگ لگے
Umair Najmi
46 likes
کل شب لبا سے ا سے نے جو پہنا گلاب کا خوشبو گلاب کی کہی چرچا گلاب کا دیکھی حسین لوگوں کی اولاد بھی حسین پودھے سے اگتا دیکھا ہے پودا گلاب کا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھا گلاب توڑنے والوں کے شہر سے اور اس کا کو چاہیے تھا بگیچا گلاب کا سنتے ہوں آج ٹوٹ گیا تو لاڈلے کا دل اب ا سے کے آگے ذکر لگ کرنا گلاب کا
Kushal Dauneria
30 likes
More from Charagh Sharma
تھک جاتا ہوں روز کے آنے جانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا بستر لگوا دو مے خانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ پھول ہے مت کہیے کہیے ا سے کا ہاتھ ہے پھول کو پھول بنانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب سے موقعے کی تاک ہے وہ ہے وہ ہوں اس کا کو جانے من کہ دوں جانے انجانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ آنکھوں ہے وہ ہے وہ مت روک مجھے جانا ہے ادھر یہ رستہ کھلتا ہے ج سے تہخانے ہے وہ ہے وہ
Charagh Sharma
19 likes
پکارتا ہوں ہے وہ ہے وہ الامان الامان اللہ بچا لے مری یقین اللہ کی جان اللہ حقیقت جن کو تو نے عطا کیا ہے جہان اللہ بنا رہے ہیں تری لیے ہی مکان اللہ حقیقت یاد آتا ہے صرف یاروں کے پوچھنے پر تو یاد آتا ہے صرف سمے اذان اللہ تری ت غافل کی ہی بدولت ہوں آج جو ہوں مجھے کوئی جنم ذات کافر لگ جان اللہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب حقیقت جنت بھی چھوڑ آیا تو دنیا کیا ہے لے ہے وہ ہے وہ چلا تو سنبھال اپنا جہان اللہ
Charagh Sharma
6 likes
अब ये गुल गुलनार कब है ख़ार है बे-कार है आप ने जब कह दिया बे-कार है बे-कार है छोड़ कर मतला ग़ज़ल दमदार है बे-कार है जब सिपह-सालार ही बीमार है बे-कार है इक सवाल ऐसा है मेरे पास जिस के सामने ये जो तेरी शिद्दत-ए-इन्कार है बे-कार है तुझ को भी है चाँद का दीदार करने की तलब इक दिए को रौशनी दरकार है बे-कार है मय-कदे के मुख़्तलिफ़ आदाब होते हैं 'चराग़' जो यहाँ पर साहब-ए-किरदार है बे-कार है
Charagh Sharma
2 likes
مری اداسی مری درمیان بند کروں کوئی سلیقے سے یہ عطر دان بند کروں پڑھا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ بچوں کو کربلا کا نہساب جاناں اپنی تش لگ لبی کا بخان بند کروں ذرا سمجھنے کی کوشش کروں مری اشکوں حقیقت آج خوش ہے جاناں اپنی زبان بند کروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک شرط پہ رازی ہوں قید ہونے کو اسی قف سے ہے وہ ہے وہ میرا آسمان بند کروں مجھے اکیلے ہے وہ ہے وہ کرنی ہیں خود سے کچھ باتیں یہ میرا حکم ہے دیواروں کان بند کروں غزل ہے وہ ہے وہ لانے سے غم اور بڑھ گیا تو ہے چراغ شٹر گراو سخن کی دکان بند کروں
Charagh Sharma
4 likes
محاذ جنگ سے پہلے کہی پڑاو حرف حکایات ن گرا پہ باندھ بنانے سے پہلے ناو حرف حکایات یہ رات صرف اندھیری نہیں ہے سرد بھی ہے دیا بنا لیا شاباش اب الاؤ حرف حکایات بنانا جانتے ہوں جاناں تو سب کے دل ہے وہ ہے وہ جگہ ہمارے دل ہے وہ ہے وہ بنا کر دکھاؤ آؤ حرف حکایات کتاب پھاڑ کے بھی ناو ہی بنانی ہے تو سیدھے پیڑ کو شیطانوں سکھاؤ ناو حرف حکایات یہ سنگ مرمری ناخن یہ کتھئی پالش کہ کوئی دیکھے تو کہ دے ہمارے گھاو حرف حکایات حرف حکایات تاجمحل کے بجائے تاش محل تمام عمر محبت کروں گراو حرف حکایات تمہاری اچھی بنےگی ہمارے ساتھ کہ جاناں بہانے اچھے بنا لیتے ہوں حرف حکایات حرف حکایات
Charagh Sharma
22 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Charagh Sharma.
Similar Moods
More moods that pair well with Charagh Sharma's ghazal.







