محاذ جنگ سے پہلے کہی پڑاو حرف حکایات ن گرا پہ باندھ بنانے سے پہلے ناو حرف حکایات یہ رات صرف اندھیری نہیں ہے سرد بھی ہے دیا بنا لیا شاباش اب الاؤ حرف حکایات بنانا جانتے ہوں جاناں تو سب کے دل ہے وہ ہے وہ جگہ ہمارے دل ہے وہ ہے وہ بنا کر دکھاؤ آؤ حرف حکایات کتاب پھاڑ کے بھی ناو ہی بنانی ہے تو سیدھے پیڑ کو شیطانوں سکھاؤ ناو حرف حکایات یہ سنگ مرمری ناخن یہ کتھئی پالش کہ کوئی دیکھے تو کہ دے ہمارے گھاو حرف حکایات حرف حکایات تاجمحل کے بجائے تاش محل تمام عمر محبت کروں گراو حرف حکایات تمہاری اچھی بنےگی ہمارے ساتھ کہ جاناں بہانے اچھے بنا لیتے ہوں حرف حکایات حرف حکایات
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
مجھے ادا سے کر گئے ہوں خوش رہو مری مزاج پر گئے ہوں خوش رہو مری لیے لگ رک سکے تو کیا ہوا ج ہاں کہی ٹھہر گئے ہوں خوش رہو خوشی ہوئی ہے آج جاناں کو دیکھ کر بے حد نکھر سنور گئے ہوں خوش رہو ادا سے ہوں کسی کی بے وفائی پر وفا کہی تو کر گئے ہوں خوش رہو گلی ہے وہ ہے وہ اور لوگ بھی تھے آشنا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سلام بخیر کر گئے ہوں خوش رہو تمہیں تو مری دوستی پہ ناز تھا اسی سے اب مکر گئے ہوں خوش رہو کسی کی زندگی بنو کہ بندگی مری لیے تو مر گئے ہوں خوش رہو
Fazil Jamili
73 likes
حقیقت ایک پکشی جو گونجن کر رہا ہے حقیقت مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پریم سرجن کر رہا ہے بے حد دن ہوں گئے ہے جاناں سے بچھڑے تمہیں ملنے کو اب من کر رہا ہے ن گرا کے شانت تٹ پر بیٹھ کر من تیری یادیں وسرجن کر رہا ہے
Azhar Iqbal
61 likes
سفر ہے وہ ہے وہ دھوپ تو ہوں گی جو چل سکو تو چلو سبھی ہیں بھیڑ ہے وہ ہے وہ جاناں بھی نکل سکو تو چلو کسی کے واسطے راہیں ک ہاں بدلتی ہیں جاناں اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو ی ہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا مجھے گرا کے ا گر جاناں سنبھل سکو تو چلو کہی نہیں کوئی سورج دھواں دھواں ہے فضا خود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں انہی کھلونوں سے جاناں بھی بہل سکو تو چلو
Nida Fazli
61 likes
یہ ک سے طرح کا تعلق ہے آپ کا مری ساتھ مجھے ہی چھوڑ کے جانے کا مشورہ مری ساتھ یہی کہی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ رستوں نے بد دعا دی تھی م گر ہے وہ ہے وہ بھول گیا تو اور کون تھا مری ساتھ حقیقت جھانکتا نہیں کھڑکی سے دن نکلتا ہے تجھے یقین نہیں آ رہا تو آ مری ساتھ
Tehzeeb Hafi
92 likes
More from Charagh Sharma
پکارتا ہوں ہے وہ ہے وہ الامان الامان اللہ بچا لے مری یقین اللہ کی جان اللہ حقیقت جن کو تو نے عطا کیا ہے جہان اللہ بنا رہے ہیں تری لیے ہی مکان اللہ حقیقت یاد آتا ہے صرف یاروں کے پوچھنے پر تو یاد آتا ہے صرف سمے اذان اللہ تری ت غافل کی ہی بدولت ہوں آج جو ہوں مجھے کوئی جنم ذات کافر لگ جان اللہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب حقیقت جنت بھی چھوڑ آیا تو دنیا کیا ہے لے ہے وہ ہے وہ چلا تو سنبھال اپنا جہان اللہ
Charagh Sharma
6 likes
مری اداسی مری درمیان بند کروں کوئی سلیقے سے یہ عطر دان بند کروں پڑھا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ بچوں کو کربلا کا نہساب جاناں اپنی تش لگ لبی کا بخان بند کروں ذرا سمجھنے کی کوشش کروں مری اشکوں حقیقت آج خوش ہے جاناں اپنی زبان بند کروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک شرط پہ رازی ہوں قید ہونے کو اسی قف سے ہے وہ ہے وہ میرا آسمان بند کروں مجھے اکیلے ہے وہ ہے وہ کرنی ہیں خود سے کچھ باتیں یہ میرا حکم ہے دیواروں کان بند کروں غزل ہے وہ ہے وہ لانے سے غم اور بڑھ گیا تو ہے چراغ شٹر گراو سخن کی دکان بند کروں
Charagh Sharma
4 likes
अब ये गुल गुलनार कब है ख़ार है बे-कार है आप ने जब कह दिया बे-कार है बे-कार है छोड़ कर मतला ग़ज़ल दमदार है बे-कार है जब सिपह-सालार ही बीमार है बे-कार है इक सवाल ऐसा है मेरे पास जिस के सामने ये जो तेरी शिद्दत-ए-इन्कार है बे-कार है तुझ को भी है चाँद का दीदार करने की तलब इक दिए को रौशनी दरकार है बे-कार है मय-कदे के मुख़्तलिफ़ आदाब होते हैं 'चराग़' जो यहाँ पर साहब-ए-किरदार है बे-कार है
Charagh Sharma
2 likes
اب بھی یہ مصروف دنیا سست ہے رفتار ہے وہ ہے وہ ہے وہ کل کی خبریں پڑھ رہی ہے آج کے ذائقہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک گھر کی چار دیواری ہے وہ ہے وہ گم ہیں دو مکان روز اینٹیں اگ رہی ہیں پانچوی دیوار ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے حسین چہرے پہ قابض زلف سے لڑنا ہے تو آئینے سے دھار کریے دھوپ کی تلوار ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان کے اندر موت کا ڈر ڈال یہ معصوم لوگ سنتے آئی ہیں کہ سب غزل ہے جنگ اور پیار ہے وہ ہے وہ
Charagh Sharma
4 likes
چمن ہے وہ ہے وہ کون ببولوں کی ڈال کھینچتا ہے ی ہاں جو آتا ہے پھولوں کے گال کھینچتا ہے حقیقت تیر بعد ہے وہ ہے وہ پہلے سوال کھینچتا ہے سوال بھی جو سماعت کی خال کھینچتا ہے اے پیار بانٹنے والے ہے وہ ہے وہ خوب جانتا ہوں کہ کتنی دیر ہے وہ ہے وہ مچھوارا جال کھینچتا ہے نکل بھی سکتا ہوں قید تخیل سے گر حقیقت بے وجہ کھینچ لے ج سے کا خیال کھینچتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے آگے نہیں کھینچتا نیام سے تیغ حقیقت شیر شاہ جو دشمن کی ڈھال کھینچتا ہے یہ سرد صبح ہے وہ ہے وہ سویا شرارتی سورج ب سے آنکھ کھلتے ہی پریوں کی شال کھینچتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوش مند ہوں خود بھی سو مری غزلوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ رقص کرتا ہے عاشق لگ بال کھینچتا ہے
Charagh Sharma
9 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Charagh Sharma.
Similar Moods
More moods that pair well with Charagh Sharma's ghazal.







