چمن ہے وہ ہے وہ کون ببولوں کی ڈال کھینچتا ہے ی ہاں جو آتا ہے پھولوں کے گال کھینچتا ہے حقیقت تیر بعد ہے وہ ہے وہ پہلے سوال کھینچتا ہے سوال بھی جو سماعت کی خال کھینچتا ہے اے پیار بانٹنے والے ہے وہ ہے وہ خوب جانتا ہوں کہ کتنی دیر ہے وہ ہے وہ مچھوارا جال کھینچتا ہے نکل بھی سکتا ہوں قید تخیل سے گر حقیقت بے وجہ کھینچ لے ج سے کا خیال کھینچتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے آگے نہیں کھینچتا نیام سے تیغ حقیقت شیر شاہ جو دشمن کی ڈھال کھینچتا ہے یہ سرد صبح ہے وہ ہے وہ سویا شرارتی سورج ب سے آنکھ کھلتے ہی پریوں کی شال کھینچتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوش مند ہوں خود بھی سو مری غزلوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ رقص کرتا ہے عاشق لگ بال کھینچتا ہے
Related Ghazal
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
More from Charagh Sharma
پکارتا ہوں ہے وہ ہے وہ الامان الامان اللہ بچا لے مری یقین اللہ کی جان اللہ حقیقت جن کو تو نے عطا کیا ہے جہان اللہ بنا رہے ہیں تری لیے ہی مکان اللہ حقیقت یاد آتا ہے صرف یاروں کے پوچھنے پر تو یاد آتا ہے صرف سمے اذان اللہ تری ت غافل کی ہی بدولت ہوں آج جو ہوں مجھے کوئی جنم ذات کافر لگ جان اللہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب حقیقت جنت بھی چھوڑ آیا تو دنیا کیا ہے لے ہے وہ ہے وہ چلا تو سنبھال اپنا جہان اللہ
Charagh Sharma
6 likes
अब ये गुल गुलनार कब है ख़ार है बे-कार है आप ने जब कह दिया बे-कार है बे-कार है छोड़ कर मतला ग़ज़ल दमदार है बे-कार है जब सिपह-सालार ही बीमार है बे-कार है इक सवाल ऐसा है मेरे पास जिस के सामने ये जो तेरी शिद्दत-ए-इन्कार है बे-कार है तुझ को भी है चाँद का दीदार करने की तलब इक दिए को रौशनी दरकार है बे-कार है मय-कदे के मुख़्तलिफ़ आदाब होते हैं 'चराग़' जो यहाँ पर साहब-ए-किरदार है बे-कार है
Charagh Sharma
2 likes
تھک جاتا ہوں روز کے آنے جانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا بستر لگوا دو مے خانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ پھول ہے مت کہیے کہیے ا سے کا ہاتھ ہے پھول کو پھول بنانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب سے موقعے کی تاک ہے وہ ہے وہ ہوں اس کا کو جانے من کہ دوں جانے انجانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ آنکھوں ہے وہ ہے وہ مت روک مجھے جانا ہے ادھر یہ رستہ کھلتا ہے ج سے تہخانے ہے وہ ہے وہ
Charagh Sharma
19 likes
حقیقت صرف قصے کہانیوں کے معملے تھے چراغ رکھ دے چراغ گھسنے سے کوئی جن ون نہیں نکلتے چراغ رکھ دے ہماری معصومیت تو دیکھو رکھ آئی دل ہم حضور جاناں کہ چنو کوئی خدا کا بندہ ہوا کے آگے چراغ رکھ دے کسی کے سائے کو قید کرنے کا اک طریقہ بتا رہا ہوں اک ا سے کے آگے چراغ رکھ دے اک ا سے کے پیچھے چراغ رکھ دے تجھے بے حد شوق تھا محبت کی گرم لپٹوں سے کھیلنے کا لے جل گئی لگ ہتھیلی اب خوش کہا تھا ہے وہ ہے وہ نے چراغ رکھ دے چراغ لے کے بھی ڈھونڈنے سے چراغ جیسا نہیں ملےگا سو رکھنی ہے تو چراغ سے رکھ نہیں تو پیاری چراغ رکھ دے چراغ روشن ضرور کر تو پر ا سے سے پہلے خدا کی خاطر ی ہاں پہ پھیلا ہے جو اندھیرا سمیٹ زیر چراغ رکھ دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کی باتوں ہے وہ ہے وہ آ گیا تو اور اٹھا کے لے آیا ا سے کی پائل دماغ دیتا رہا صدائیں چراغ رکھ دے چراغ رکھ دے
Charagh Sharma
13 likes
اب بھی یہ مصروف دنیا سست ہے رفتار ہے وہ ہے وہ ہے وہ کل کی خبریں پڑھ رہی ہے آج کے ذائقہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک گھر کی چار دیواری ہے وہ ہے وہ گم ہیں دو مکان روز اینٹیں اگ رہی ہیں پانچوی دیوار ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے حسین چہرے پہ قابض زلف سے لڑنا ہے تو آئینے سے دھار کریے دھوپ کی تلوار ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان کے اندر موت کا ڈر ڈال یہ معصوم لوگ سنتے آئی ہیں کہ سب غزل ہے جنگ اور پیار ہے وہ ہے وہ
Charagh Sharma
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Charagh Sharma.
Similar Moods
More moods that pair well with Charagh Sharma's ghazal.







