حقیقت صرف قصے کہانیوں کے معملے تھے چراغ رکھ دے چراغ گھسنے سے کوئی جن ون نہیں نکلتے چراغ رکھ دے ہماری معصومیت تو دیکھو رکھ آئی دل ہم حضور جاناں کہ چنو کوئی خدا کا بندہ ہوا کے آگے چراغ رکھ دے کسی کے سائے کو قید کرنے کا اک طریقہ بتا رہا ہوں اک ا سے کے آگے چراغ رکھ دے اک ا سے کے پیچھے چراغ رکھ دے تجھے بے حد شوق تھا محبت کی گرم لپٹوں سے کھیلنے کا لے جل گئی لگ ہتھیلی اب خوش کہا تھا ہے وہ ہے وہ نے چراغ رکھ دے چراغ لے کے بھی ڈھونڈنے سے چراغ جیسا نہیں ملےگا سو رکھنی ہے تو چراغ سے رکھ نہیں تو پیاری چراغ رکھ دے چراغ روشن ضرور کر تو پر ا سے سے پہلے خدا کی خاطر ی ہاں پہ پھیلا ہے جو اندھیرا سمیٹ زیر چراغ رکھ دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کی باتوں ہے وہ ہے وہ آ گیا تو اور اٹھا کے لے آیا ا سے کی پائل دماغ دیتا رہا صدائیں چراغ رکھ دے چراغ رکھ دے
Related Ghazal
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
پرائی آگ پہ روٹی نہیں بناؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھیگ جاؤں گا چھتری نہیں بناؤں گا ا گر خدا نے بنانے کا اختیار دیا الم بناؤں گا برچھی نہیں بناؤں گا فریب دے کے ترا جسم جیت لوں لیکن ہے وہ ہے وہ ہے وہ پیڑ کاٹ کے کشتی نہیں بناؤں گا گلی سے کوئی بھی گزرے تو چونک اٹھتا ہوں نئے مکان ہے وہ ہے وہ کھڑکی نہیں بناؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ دشمنوں سے ا گر جنگ جیت بھی جاؤں تو ان کی عورتیں قی گرا نہیں بناؤں گا تمہیں پتا تو چلے بے زبان چیز کا دکھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب چراغ کی لو ہی نہیں بناؤں گا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک فلم بناؤں گا اپنے ثروت پر اور ا سے ہے وہ ہے وہ ریل کی پٹری نہیں بناؤں گا
Tehzeeb Hafi
92 likes
چارسازوں کے ب سے کی بات نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دواؤں کے ب سے کی بات نہیں چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ دیمکوں سے نجات جو کتابوں کے ب سے کی بات نہیں تیری خوشبو کو قید ہے وہ ہے وہ رکھنا عطر دانوں کے ب سے کی بات نہیں ختم کر دے عذاب قبروں کا تاج محلوں کے ب سے کی بات نہیں آنسوؤں ہے وہ ہے وہ جو جھلملاہٹ ہے حقیقت ستاروں کے ب سے کی بات نہیں ایسا لگتا ہے اب تیرا دیدار صرف آنکھوں کے ب سے کی بات نہیں
Fahmi Badayuni
30 likes
تمنا پھروں مچل جائے ا گر جاناں ملنے آ جاؤ یہ موسم بھی بدل جائے ا گر جاناں ملنے آ جاؤ مجھے غم ہے کہ ہے وہ ہے وہ نے زندگی ہے وہ ہے وہ کچھ نہیں پایا یہ غم دل سے نکل جائے ا گر جاناں ملنے آ جاؤ یہ دنیا بھر کے جھگڑے گھر کے قصے کام کی باتیں بلا ہر ایک ٹل جائے ا گر جاناں ملنے آ جاؤ نہیں ملتے ہوں مجھ سے جاناں تو سب ہمدرد ہیں مری زما لگ مجھ سے جل جائے ا گر جاناں ملنے آ جاؤ
Javed Akhtar
48 likes
عجیب حادثہ ہوا عجیب سانحہ ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی کی شاخ سے ہرا بھرا جدا ہوا حقیقت خد و خال دیکھ کر سبھی کے ہوش اڑ گئے نہیں کے صرف آئی لگ حوا سے واقفہ ہوا ہوا چلی تو ا سے کی شال مری چھت پہ آ گری یہ ا سے بدن کے ساتھ میرا پہلا رابطہ ہوا
Zia Mazkoor
17 likes
More from Charagh Sharma
अब ये गुल गुलनार कब है ख़ार है बे-कार है आप ने जब कह दिया बे-कार है बे-कार है छोड़ कर मतला ग़ज़ल दमदार है बे-कार है जब सिपह-सालार ही बीमार है बे-कार है इक सवाल ऐसा है मेरे पास जिस के सामने ये जो तेरी शिद्दत-ए-इन्कार है बे-कार है तुझ को भी है चाँद का दीदार करने की तलब इक दिए को रौशनी दरकार है बे-कार है मय-कदे के मुख़्तलिफ़ आदाब होते हैं 'चराग़' जो यहाँ पर साहब-ए-किरदार है बे-कार है
Charagh Sharma
2 likes
اب کے ملی شکست مری اور سے مجھے جتوا دیا گیا تو کسی کمزور سے مجھے الفاظ ڈھونے والی اک آواز تھا ہے وہ ہے وہ ب سے پھروں ا سے نے سنکے شعر کیا شور سے مجھے تجھ کو لگ پاکے خوش ہوں کہ کھونے کا ڈر نہیں غربت بچا رہی ہے ہر اک چور سے مجھے جو شاخ پر ہیں تری گزرنے کے باوجود حقیقت پھول چبھ رہے ہیں بے حد زور سے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاہتا تھا اور کچھ اونچا ہوں آسمان قدرت نے پتھ سونپ دیے مور سے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے قبول کر لیا چپ چاپ حقیقت گلاب جو شاخ دے رہی تھی تیری اور سے مجھے ہلکے سے ا سے نے پوچھا کسے دوں ہے وہ ہے وہ اپنا دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ من ہی من ہے وہ ہے وہ چیخا بے حد زور سے مجھے
Charagh Sharma
21 likes
پکارتا ہوں ہے وہ ہے وہ الامان الامان اللہ بچا لے مری یقین اللہ کی جان اللہ حقیقت جن کو تو نے عطا کیا ہے جہان اللہ بنا رہے ہیں تری لیے ہی مکان اللہ حقیقت یاد آتا ہے صرف یاروں کے پوچھنے پر تو یاد آتا ہے صرف سمے اذان اللہ تری ت غافل کی ہی بدولت ہوں آج جو ہوں مجھے کوئی جنم ذات کافر لگ جان اللہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب حقیقت جنت بھی چھوڑ آیا تو دنیا کیا ہے لے ہے وہ ہے وہ چلا تو سنبھال اپنا جہان اللہ
Charagh Sharma
6 likes
تھک جاتا ہوں روز کے آنے جانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا بستر لگوا دو مے خانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ پھول ہے مت کہیے کہیے ا سے کا ہاتھ ہے پھول کو پھول بنانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب سے موقعے کی تاک ہے وہ ہے وہ ہوں اس کا کو جانے من کہ دوں جانے انجانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ آنکھوں ہے وہ ہے وہ مت روک مجھے جانا ہے ادھر یہ رستہ کھلتا ہے ج سے تہخانے ہے وہ ہے وہ
Charagh Sharma
19 likes
جنگ جتنی ہوں سکے دشوار ہونی چاہیے جیت حاصل ہوں تو لذت دار ہونی چاہیے ایک عاشق کل سلامت شہر ہے وہ ہے وہ دیکھا گیا تو یہ خبر تو سرخی ذائقہ ہونی چاہیے کہ رہی ہے آج کل غزلیں کسی کے عشق ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت کہ جو خود زینت اشعار ہونی چاہیے عشق دونوں نے کیا تھا خود کشی ب سے ہے وہ ہے وہ کروں حقیقت بھی مرنے کے لیے تیار ہونی چاہیے دل کی نادانی ہی ب سے کافی نہیں ہے عشق ہے وہ ہے وہ ہے وہ عقل بھی تھوڑی بے حد بیمار ہونی چاہیے پیار ہے تو ہاتھ ا سے کا تھام اپنے ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جنگ ہے تو ہاتھ ہے وہ ہے وہ تلوار ہونی چاہیے
Charagh Sharma
6 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Charagh Sharma.
Similar Moods
More moods that pair well with Charagh Sharma's ghazal.







