ghazalKuch Alfaaz

حقیقت ایک پکشی جو گونجن کر رہا ہے حقیقت مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پریم سرجن کر رہا ہے بے حد دن ہوں گئے ہے جاناں سے بچھڑے تمہیں ملنے کو اب من کر رہا ہے ن گرا کے شانت تٹ پر بیٹھ کر من تیری یادیں وسرجن کر رہا ہے

Azhar Iqbal61 Likes

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें

Ahmad Faraz

130 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

More from Azhar Iqbal

مجھ کو وحشت ہوئی مری گھر سے رات تیری جدائی کے ڈر سے تیری فرقت کا حب سے تھا اندر اور دم گھٹ رہا تھا باہر سے جسم کی آگ بجھ گئی لیکن پھروں ندامت کے خوشی بھی برسے ایک مدت سے ہیں سفر ہے وہ ہے وہ ہم گھر ہے وہ ہے وہ رہ کر بھی چنو بے گھر سے بارہا تیری جستجو ہے وہ ہے وہ ہم تجھ سے ملنے کے بعد بھی ترسے

Azhar Iqbal

11 likes

زمین دل اک عرصے بعد جل تھل ہوں رہی ہے کوئی بارش میرے اندر مسلسل ہوں رہی ہے لہو کا رنگ پھیلا ہے ہمارے کینوس پر تیری تصویر اب جا کر مکمل ہوں رہی ہے ہوا تازہ کا جھونکا چلا آیا کہاں سے کہ مدت بعد سی پانی ہے وہ ہے وہ ہلچل ہوں رہی ہے تجھے دیکھے سے ممکن مغفرت ہوں جائے اس کا کی تیرے بیمار کی بس آج اور کل ہوں رہی ہے حقیقت صاحب آ ہی گئی بند قبا کھولنے لگے ہیں پہیلی تھی جو اک الجھي ہوئی حل ہوں رہی ہے

Azhar Iqbal

13 likes

حقیقت ماہتاب ابھی بام پر نہیں آیا مری دعاؤں ہے وہ ہے وہ شاید اثر نہیں آیا بے حد عجیب ہے یاروں بلندیوں کا طلسم جو ایک بار گیا تو لوٹ کر نہیں آیا یہ کائنات کی وسعت کھلی نہیں مجھ پر ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی ذات سے جب تک گزر نہیں آیا بے حد دنوں سے ہے بے شکل سی مری مٹی بے حد دنوں سے کوئی کوزہ گر نہیں آیا ب سے ایک لمحے کو بے پیرہن اسے دیکھا پھروں ا سے کے بعد مجھے کچھ نظر نہیں آیا ہم اب بھی دشت ہے وہ ہے وہ خیمہ لگائے بیٹھے ہیں ہمارے حصے ہے وہ ہے وہ اپنا ہی گھر نہیں آیا زمین بانجھ لگ ہوں جائے کچھ کہو اظہر سخن کی شاخ پہ کب سے ثمر نہیں آیا

Azhar Iqbal

10 likes

گلاب نشہ محبت پہ وار آئی ہم تمہارے ہونٹوں کا صدقہ اتار آئی ہم حقیقت ایک جھیل تھی شفاف نیل پانی کی اور ا سے ہے وہ ہے وہ ڈوب کو خود کو نکھار آئی ہم تری ہی لم سے سے ان کا خراج قیصری ممکن ہے تری بغیر جو عمریں گزاری آئی ہم پھروں ا سے گلی سے گزرنا پڑا تری خاطر پھروں ا سے گلی سے بے حد بے قرار آئی ہم یہ کیا ستم ہے کہ ا سے بار غم ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری سوا بھی کسی کو پکار آئی ہم

Azhar Iqbal

11 likes

تری سمت جانے کا راستہ نہیں ہوں رہا رہ عشق ہے وہ ہے وہ کوئی معجزہ نہیں ہوں رہا کوئی آئی لگ ہوں جو خود سے مجھ کو ملا سکے میرا اپنے آپ سے سامنا نہیں ہوں رہا تو غم گساری ہے تو ہوا کرے تیری بندگی سے میرا بھلا نہیں ہوں رہا کوئی رات آ کے ٹھہر گئی مری ذات ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا روشنی سے بھی رابطہ نہیں ہوں رہا اسے اپنے ہونٹوں کا لم سے دو کہ یہ سان سے لے یہ جو پیڑ ہے یہ ہرا بھرا نہیں ہوں رہا

Azhar Iqbal

12 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Azhar Iqbal.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Azhar Iqbal's ghazal.