تری سمت جانے کا راستہ نہیں ہوں رہا رہ عشق ہے وہ ہے وہ کوئی معجزہ نہیں ہوں رہا کوئی آئی لگ ہوں جو خود سے مجھ کو ملا سکے میرا اپنے آپ سے سامنا نہیں ہوں رہا تو غم گساری ہے تو ہوا کرے تیری بندگی سے میرا بھلا نہیں ہوں رہا کوئی رات آ کے ٹھہر گئی مری ذات ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا روشنی سے بھی رابطہ نہیں ہوں رہا اسے اپنے ہونٹوں کا لم سے دو کہ یہ سان سے لے یہ جو پیڑ ہے یہ ہرا بھرا نہیں ہوں رہا
Related Ghazal
غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی
Zubair Ali Tabish
80 likes
تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں
Dagh Dehlvi
84 likes
اب مری ساتھ نہیں ہے سمجھے نا سمجھانے کی بات نہیں ہے سمجھے نا جاناں مانگوگے اور تمہیں مل جائےگا پیار ہے یہ خیرات نہیں ہے سمجھے نا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بادل ہوں ج سے پر چا ہوں برسوں گا مری کوئی ذات نہیں ہے سمجھے نا اپنا خالی ہاتھ مجھے مت دکھلاؤ ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا ہاتھ نہیں ہے سمجھے نا
Zubair Ali Tabish
66 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی
Jaun Elia
77 likes
More from Azhar Iqbal
مجھ کو وحشت ہوئی مری گھر سے رات تیری جدائی کے ڈر سے تیری فرقت کا حب سے تھا اندر اور دم گھٹ رہا تھا باہر سے جسم کی آگ بجھ گئی لیکن پھروں ندامت کے خوشی بھی برسے ایک مدت سے ہیں سفر ہے وہ ہے وہ ہم گھر ہے وہ ہے وہ رہ کر بھی چنو بے گھر سے بارہا تیری جستجو ہے وہ ہے وہ ہم تجھ سے ملنے کے بعد بھی ترسے
Azhar Iqbal
11 likes
حقیقت ماہتاب ابھی بام پر نہیں آیا مری دعاؤں ہے وہ ہے وہ شاید اثر نہیں آیا بے حد عجیب ہے یاروں بلندیوں کا طلسم جو ایک بار گیا تو لوٹ کر نہیں آیا یہ کائنات کی وسعت کھلی نہیں مجھ پر ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی ذات سے جب تک گزر نہیں آیا بے حد دنوں سے ہے بے شکل سی مری مٹی بے حد دنوں سے کوئی کوزہ گر نہیں آیا ب سے ایک لمحے کو بے پیرہن اسے دیکھا پھروں ا سے کے بعد مجھے کچھ نظر نہیں آیا ہم اب بھی دشت ہے وہ ہے وہ خیمہ لگائے بیٹھے ہیں ہمارے حصے ہے وہ ہے وہ اپنا ہی گھر نہیں آیا زمین بانجھ لگ ہوں جائے کچھ کہو اظہر سخن کی شاخ پہ کب سے ثمر نہیں آیا
Azhar Iqbal
10 likes
زمین دل اک عرصے بعد جل تھل ہوں رہی ہے کوئی بارش میرے اندر مسلسل ہوں رہی ہے لہو کا رنگ پھیلا ہے ہمارے کینوس پر تیری تصویر اب جا کر مکمل ہوں رہی ہے ہوا تازہ کا جھونکا چلا آیا کہاں سے کہ مدت بعد سی پانی ہے وہ ہے وہ ہلچل ہوں رہی ہے تجھے دیکھے سے ممکن مغفرت ہوں جائے اس کا کی تیرے بیمار کی بس آج اور کل ہوں رہی ہے حقیقت صاحب آ ہی گئی بند قبا کھولنے لگے ہیں پہیلی تھی جو اک الجھي ہوئی حل ہوں رہی ہے
Azhar Iqbal
13 likes
ہوئی لگ ختم تیری رہ گزاری کیا کرتے تری حصار سے خود کو فرار کیا کرتے سفی لگ غرق ہی کرنا پڑا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ آخر تری بغیر سمندر کو پار کیا کرتے ب سے ایک سکوت ہی ج سے کا جواب ہونا تھا وہی سوال میاں بار بار کیا کرتے پھروں ا سے کے بعد منایا لگ جشن خوشبو کا لہو ہے وہ ہے وہ ڈوبی تھی فصل بہار کیا کرتے نظر کی زد ہے وہ ہے وہ نئے پھول آ گئے اظہر گئی رتوں کا بھلا انتظار کیا کرتے
Azhar Iqbal
6 likes
دل کی گلی ہے وہ ہے وہ چاند نکلتا رہتا ہے ایک دیا امید کا جلتا رہتا ہے چنو چنو یادوں کی لو بڑھتی ہے ویسے ویسے جسم پگھلتا رہتا ہے سرگوشی کو کان ترستے رہتے ہیں سناٹا آواز ہے وہ ہے وہ ڈھلتا رہتا ہے منظر منظر جی لو جتنا جی پاؤ موسم پل پل رنگ بدلتا رہتا ہے راکھ ہوئی جاتی ہے ساری ہریالی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جنگل سا جلتا رہتا ہے تم جو گئے تو بھول گئے ساری باتیں ویسے دل ہے وہ ہے وہ کیا کیا چلتا رہتا ہے
Azhar Iqbal
12 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Azhar Iqbal.
Similar Moods
More moods that pair well with Azhar Iqbal's ghazal.







