ghazalKuch Alfaaz

مجھ کو وحشت ہوئی مری گھر سے رات تیری جدائی کے ڈر سے تیری فرقت کا حب سے تھا اندر اور دم گھٹ رہا تھا باہر سے جسم کی آگ بجھ گئی لیکن پھروں ندامت کے خوشی بھی برسے ایک مدت سے ہیں سفر ہے وہ ہے وہ ہم گھر ہے وہ ہے وہ رہ کر بھی چنو بے گھر سے بارہا تیری جستجو ہے وہ ہے وہ ہم تجھ سے ملنے کے بعد بھی ترسے

Azhar Iqbal11 Likes

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے

Tehzeeb Hafi

292 likes

More from Azhar Iqbal

گلاب نشہ محبت پہ وار آئی ہم تمہارے ہونٹوں کا صدقہ اتار آئی ہم حقیقت ایک جھیل تھی شفاف نیل پانی کی اور ا سے ہے وہ ہے وہ ڈوب کو خود کو نکھار آئی ہم تری ہی لم سے سے ان کا خراج قیصری ممکن ہے تری بغیر جو عمریں گزاری آئی ہم پھروں ا سے گلی سے گزرنا پڑا تری خاطر پھروں ا سے گلی سے بے حد بے قرار آئی ہم یہ کیا ستم ہے کہ ا سے بار غم ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری سوا بھی کسی کو پکار آئی ہم

Azhar Iqbal

11 likes

ہوئی لگ ختم تیری رہ گزاری کیا کرتے تری حصار سے خود کو فرار کیا کرتے سفی لگ غرق ہی کرنا پڑا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ آخر تری بغیر سمندر کو پار کیا کرتے ب سے ایک سکوت ہی ج سے کا جواب ہونا تھا وہی سوال میاں بار بار کیا کرتے پھروں ا سے کے بعد منایا لگ جشن خوشبو کا لہو ہے وہ ہے وہ ڈوبی تھی فصل بہار کیا کرتے نظر کی زد ہے وہ ہے وہ نئے پھول آ گئے اظہر گئی رتوں کا بھلا انتظار کیا کرتے

Azhar Iqbal

6 likes

زمین دل اک عرصے بعد جل تھل ہوں رہی ہے کوئی بارش میرے اندر مسلسل ہوں رہی ہے لہو کا رنگ پھیلا ہے ہمارے کینوس پر تیری تصویر اب جا کر مکمل ہوں رہی ہے ہوا تازہ کا جھونکا چلا آیا کہاں سے کہ مدت بعد سی پانی ہے وہ ہے وہ ہلچل ہوں رہی ہے تجھے دیکھے سے ممکن مغفرت ہوں جائے اس کا کی تیرے بیمار کی بس آج اور کل ہوں رہی ہے حقیقت صاحب آ ہی گئی بند قبا کھولنے لگے ہیں پہیلی تھی جو اک الجھي ہوئی حل ہوں رہی ہے

Azhar Iqbal

13 likes

حقیقت ماہتاب ابھی بام پر نہیں آیا مری دعاؤں ہے وہ ہے وہ شاید اثر نہیں آیا بے حد عجیب ہے یاروں بلندیوں کا طلسم جو ایک بار گیا تو لوٹ کر نہیں آیا یہ کائنات کی وسعت کھلی نہیں مجھ پر ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی ذات سے جب تک گزر نہیں آیا بے حد دنوں سے ہے بے شکل سی مری مٹی بے حد دنوں سے کوئی کوزہ گر نہیں آیا ب سے ایک لمحے کو بے پیرہن اسے دیکھا پھروں ا سے کے بعد مجھے کچھ نظر نہیں آیا ہم اب بھی دشت ہے وہ ہے وہ خیمہ لگائے بیٹھے ہیں ہمارے حصے ہے وہ ہے وہ اپنا ہی گھر نہیں آیا زمین بانجھ لگ ہوں جائے کچھ کہو اظہر سخن کی شاخ پہ کب سے ثمر نہیں آیا

Azhar Iqbal

10 likes

ہوں گیا تو آپ کا آ گمن نیند ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھو کر گزری مجھ کو جو پون نیند ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھ کو پھولوں کی ورشا ہے وہ ہے وہ نہلا گیا تو مسکراتا ہوا اک کانسا نیند ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسے ادھار ہوگا مری دیش کا لوگ کرتے ہے چنتن منن نیند ہے وہ ہے وہ

Azhar Iqbal

28 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Azhar Iqbal.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Azhar Iqbal's ghazal.