ghazalKuch Alfaaz

ہوں گیا تو آپ کا آ گمن نیند ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھو کر گزری مجھ کو جو پون نیند ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھ کو پھولوں کی ورشا ہے وہ ہے وہ نہلا گیا تو مسکراتا ہوا اک کانسا نیند ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسے ادھار ہوگا مری دیش کا لوگ کرتے ہے چنتن منن نیند ہے وہ ہے وہ

Azhar Iqbal28 Likes

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

More from Azhar Iqbal

مجھ کو وحشت ہوئی مری گھر سے رات تیری جدائی کے ڈر سے تیری فرقت کا حب سے تھا اندر اور دم گھٹ رہا تھا باہر سے جسم کی آگ بجھ گئی لیکن پھروں ندامت کے خوشی بھی برسے ایک مدت سے ہیں سفر ہے وہ ہے وہ ہم گھر ہے وہ ہے وہ رہ کر بھی چنو بے گھر سے بارہا تیری جستجو ہے وہ ہے وہ ہم تجھ سے ملنے کے بعد بھی ترسے

Azhar Iqbal

11 likes

حقیقت ماہتاب ابھی بام پر نہیں آیا مری دعاؤں ہے وہ ہے وہ شاید اثر نہیں آیا بے حد عجیب ہے یاروں بلندیوں کا طلسم جو ایک بار گیا تو لوٹ کر نہیں آیا یہ کائنات کی وسعت کھلی نہیں مجھ پر ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی ذات سے جب تک گزر نہیں آیا بے حد دنوں سے ہے بے شکل سی مری مٹی بے حد دنوں سے کوئی کوزہ گر نہیں آیا ب سے ایک لمحے کو بے پیرہن اسے دیکھا پھروں ا سے کے بعد مجھے کچھ نظر نہیں آیا ہم اب بھی دشت ہے وہ ہے وہ خیمہ لگائے بیٹھے ہیں ہمارے حصے ہے وہ ہے وہ اپنا ہی گھر نہیں آیا زمین بانجھ لگ ہوں جائے کچھ کہو اظہر سخن کی شاخ پہ کب سے ثمر نہیں آیا

Azhar Iqbal

10 likes

زمین دل اک عرصے بعد جل تھل ہوں رہی ہے کوئی بارش میرے اندر مسلسل ہوں رہی ہے لہو کا رنگ پھیلا ہے ہمارے کینوس پر تیری تصویر اب جا کر مکمل ہوں رہی ہے ہوا تازہ کا جھونکا چلا آیا کہاں سے کہ مدت بعد سی پانی ہے وہ ہے وہ ہلچل ہوں رہی ہے تجھے دیکھے سے ممکن مغفرت ہوں جائے اس کا کی تیرے بیمار کی بس آج اور کل ہوں رہی ہے حقیقت صاحب آ ہی گئی بند قبا کھولنے لگے ہیں پہیلی تھی جو اک الجھي ہوئی حل ہوں رہی ہے

Azhar Iqbal

13 likes

گلاب نشہ محبت پہ وار آئی ہم تمہارے ہونٹوں کا صدقہ اتار آئی ہم حقیقت ایک جھیل تھی شفاف نیل پانی کی اور ا سے ہے وہ ہے وہ ڈوب کو خود کو نکھار آئی ہم تری ہی لم سے سے ان کا خراج قیصری ممکن ہے تری بغیر جو عمریں گزاری آئی ہم پھروں ا سے گلی سے گزرنا پڑا تری خاطر پھروں ا سے گلی سے بے حد بے قرار آئی ہم یہ کیا ستم ہے کہ ا سے بار غم ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری سوا بھی کسی کو پکار آئی ہم

Azhar Iqbal

11 likes

یہ رہ عشق بھی اٹھایا نہیں بے حد دن سے کہ ا سے نے ہم کو رولایا نہیں بے حد دن سے چلو کہ خاک اڑائیں چلو شراب پیئیں کسی کا ہجر منایا نہیں بے حد دن سے یہ کیفیت ہے مری جان اب تجھے کھو کر کہ ہم نے خود کو بھی پایا نہیں بے حد دن سے ہر ایک بے وجہ ی ہاں محو خواب لگتا ہے کسی نے ہم کو جگایا نہیں بے حد دن سے یہ خوف ہے کہ رگوں ہے وہ ہے وہ لہو لگ جم جائے تمہیں گلے سے لگایا نہیں بے حد دن سے

Azhar Iqbal

18 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Azhar Iqbal.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Azhar Iqbal's ghazal.