جو بھی عزت کے ڈر سے ڈر جائے مت کرے عشق اپنے گھر جائے بات آ جائے جب دعاؤں پر ا سے سے بہتر ہے بندہ مر جائے تھوڑی سی اور دیر سامنے رہ مری آنکھوں کا پیٹ بھر جائے المہیمین کے گھر بھی خطرے ہیں جائے بھی تو کوئی کدھر جائے ہاں عقیدہ ا گر لگ قید رکھے پھروں تو انسان کچھ بھی کر جائے قیامت کی یہ آخری حد ہے مری اولاد آپ پر جائے ا سے کے چہرے پر آج اداسی تھی ہاں یہ افکار علوی مر جائے
Related Ghazal
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
سینا کچا رہا ہوں تو کیا چپ رہے کوئی کیوں چیخ چیخ کر لگ گلہ سروہا لے کوئی ثابت ہوا سکون دل و جاں کہی نہیں رشتوں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈتا ہے تو ڈھونڈا کرے کوئی ترک تعلقات کوئی مسئلہ نہیں یہ تو حقیقت راستہ ہے کہ ب سے چل پڑے کوئی دیوار جانتا تھا جسے ہے وہ ہے وہ حقیقت دھول تھی اب مجھ کو اعتماد کی دعوت لگ دے کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود یہ چاہتا ہوں کہ حالات ہوں خراب مری خلاف زہر اگلتا پھیرے کوئی اے بے وجہ اب تو مجھ کو سبھی کچھ قبول ہے یہ بھی قبول ہے کہ تجھے چھین لے کوئی ہاں ٹھیک ہے ہے وہ ہے وہ اپنی انا کا مریض ہوں آخر مری مزاج ہے وہ ہے وہ کیوں دخل دے کوئی اک بے وجہ کر رہا ہے ابھی تک وفا کا ذکر کاش ا سے زبان دراز کا منا نوچ لے کوئی
Jaun Elia
77 likes
اب مری ساتھ نہیں ہے سمجھے نا سمجھانے کی بات نہیں ہے سمجھے نا جاناں مانگوگے اور تمہیں مل جائےگا پیار ہے یہ خیرات نہیں ہے سمجھے نا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بادل ہوں ج سے پر چا ہوں برسوں گا مری کوئی ذات نہیں ہے سمجھے نا اپنا خالی ہاتھ مجھے مت دکھلاؤ ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ میرا ہاتھ نہیں ہے سمجھے نا
Zubair Ali Tabish
66 likes
More from Afkar Alvi
کون کہتا ہے فقط خوف ازل دیتا ہے ظلم تو ظلم ہے ایمان بدل دیتا ہے قیامت موتا انسان بنا دیتی ہے مان لیتے ہیں خدا دل پامال کا پھل دیتا ہے حقیقت بخیل آج بھی داتا ہے بھلے سمے لگ دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسے یاد بھی کر لوں تو غزل دیتا ہے ا سے کی کوشش ہے کہ حقیقت اپنی کشش باقی رکھے مری جذبات مچلتے ہیں تو چل دیتا ہے خالی برتن ہی خنکتا ہے تبھی آدمی بھی گھا سے مت ڈالو تو اوقات اگل دیتا ہے ہم کو محنت پہ ہی ملنا ہے ا گر خلد ہے وہ ہے وہ چین یہ تو گھر بیٹھے بٹھائے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھل دیتا ہے ذہن ہے وہ ہے وہ اور کوئی دکھ نہیں رہتا افکار جتنے بل بندے کو حقیقت زلف کا بل دیتا ہے
Afkar Alvi
10 likes
کھٹملوں پہ آ اتاری ہے زندگی زندہ لاش بھاری ہے آپ دکھ دے رہے ہے رو رہا ہوں اور یہ فیلحال جاری ہے رونا لکھا گیا تو روتے ہے ذمہ داری تو ذمہ داری ہے مری مرضی ج ہاں بھی صرف کروں زندگی مری ہے تمہاری ہے دشمنی کے ہزاروں درجے ہے آخری درجہ رشتہ داری ہے
Afkar Alvi
28 likes
ا سے سے پہلے کہ تجھے اور سہارا لگ ملے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری ساتھ ہوں جب تک مری جیسا لگ ملے کم سے کم بدلے ہے وہ ہے وہ جنت اسے دے دی جائے ج سے محبت کے گرفتار کو صحرا نا ملے لوگ کہتے ہے کے ہم لوگ برے آدمی ہے لوگ بھی ایسے جن ہوں نے ہمیں دیکھا نا ملے ب سے یہی کہ کے اسے ہے وہ ہے وہ نے خدا کو سونپا اتفاقاً کہی مل جائے تو روتا نا ملے بد دعا ہے کے و ہاں آئی ج ہاں بیٹھتے تھے اور افکار و ہاں آپ کو بیٹھا نا ملے
Afkar Alvi
38 likes
ہجر ہے وہ ہے وہ خود کو تسلی دی کہا کچھ بھی نہیں دل م گر ہنسنے لگا آیا بڑا کچھ بھی نہیں ہم ا گر دل پامال ہے وہ ہے وہ رہتے ہیں تو کیا کچھ بھی نہیں جانے والو کبھی آ دیکھو بچا کچھ بھی نہیں بے دلی یوں ہی کہ رب کوئی مسیحا بھیجے ہم مسیحا سے بھی کہ دیں گے و جا کچھ بھی نہیں دیکھے بن عشق ہوا دیکھے بنا دور ہوئے اتنا کچھ ہوں بھی گیا تو اور ہوا کچھ بھی نہیں سستے عابد لگ بنیں لت کو عبادت لگ کہی کرنے والے لذت و ذلت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری بعد مصلے پہ بے حد روتا رہا اور کہا یار خدا خیر بھلا کچھ بھی نہیں عشق مردا لگ طبیعت نہیں رکھتا افکار ورنا یہ حسن و جمال اور ادا کچھ بھی نہیں
Afkar Alvi
26 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Afkar Alvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Afkar Alvi's ghazal.







