کون کہتا ہے فقط خوف ازل دیتا ہے ظلم تو ظلم ہے ایمان بدل دیتا ہے قیامت موتا انسان بنا دیتی ہے مان لیتے ہیں خدا دل پامال کا پھل دیتا ہے حقیقت بخیل آج بھی داتا ہے بھلے سمے لگ دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسے یاد بھی کر لوں تو غزل دیتا ہے ا سے کی کوشش ہے کہ حقیقت اپنی کشش باقی رکھے مری جذبات مچلتے ہیں تو چل دیتا ہے خالی برتن ہی خنکتا ہے تبھی آدمی بھی گھا سے مت ڈالو تو اوقات اگل دیتا ہے ہم کو محنت پہ ہی ملنا ہے ا گر خلد ہے وہ ہے وہ چین یہ تو گھر بیٹھے بٹھائے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھل دیتا ہے ذہن ہے وہ ہے وہ اور کوئی دکھ نہیں رہتا افکار جتنے بل بندے کو حقیقت زلف کا بل دیتا ہے
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
More from Afkar Alvi
ہجر ہے وہ ہے وہ خود کو تسلی دی کہا کچھ بھی نہیں دل م گر ہنسنے لگا آیا بڑا کچھ بھی نہیں ہم ا گر دل پامال ہے وہ ہے وہ رہتے ہیں تو کیا کچھ بھی نہیں جانے والو کبھی آ دیکھو بچا کچھ بھی نہیں بے دلی یوں ہی کہ رب کوئی مسیحا بھیجے ہم مسیحا سے بھی کہ دیں گے و جا کچھ بھی نہیں دیکھے بن عشق ہوا دیکھے بنا دور ہوئے اتنا کچھ ہوں بھی گیا تو اور ہوا کچھ بھی نہیں سستے عابد لگ بنیں لت کو عبادت لگ کہی کرنے والے لذت و ذلت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری بعد مصلے پہ بے حد روتا رہا اور کہا یار خدا خیر بھلا کچھ بھی نہیں عشق مردا لگ طبیعت نہیں رکھتا افکار ورنا یہ حسن و جمال اور ادا کچھ بھی نہیں
Afkar Alvi
26 likes
کھٹملوں پہ آ اتاری ہے زندگی زندہ لاش بھاری ہے آپ دکھ دے رہے ہے رو رہا ہوں اور یہ فیلحال جاری ہے رونا لکھا گیا تو روتے ہے ذمہ داری تو ذمہ داری ہے مری مرضی ج ہاں بھی صرف کروں زندگی مری ہے تمہاری ہے دشمنی کے ہزاروں درجے ہے آخری درجہ رشتہ داری ہے
Afkar Alvi
28 likes
ا سے سے پہلے کہ تجھے اور سہارا لگ ملے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری ساتھ ہوں جب تک مری جیسا لگ ملے کم سے کم بدلے ہے وہ ہے وہ جنت اسے دے دی جائے ج سے محبت کے گرفتار کو صحرا نا ملے لوگ کہتے ہے کے ہم لوگ برے آدمی ہے لوگ بھی ایسے جن ہوں نے ہمیں دیکھا نا ملے ب سے یہی کہ کے اسے ہے وہ ہے وہ نے خدا کو سونپا اتفاقاً کہی مل جائے تو روتا نا ملے بد دعا ہے کے و ہاں آئی ج ہاں بیٹھتے تھے اور افکار و ہاں آپ کو بیٹھا نا ملے
Afkar Alvi
38 likes
جو بھی عزت کے ڈر سے ڈر جائے مت کرے عشق اپنے گھر جائے بات آ جائے جب دعاؤں پر ا سے سے بہتر ہے بندہ مر جائے تھوڑی سی اور دیر سامنے رہ مری آنکھوں کا پیٹ بھر جائے المہیمین کے گھر بھی خطرے ہیں جائے بھی تو کوئی کدھر جائے ہاں عقیدہ ا گر لگ قید رکھے پھروں تو انسان کچھ بھی کر جائے قیامت کی یہ آخری حد ہے مری اولاد آپ پر جائے ا سے کے چہرے پر آج اداسی تھی ہاں یہ افکار علوی مر جائے
Afkar Alvi
38 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Afkar Alvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Afkar Alvi's ghazal.







