ghazalKuch Alfaaz

ہجر ہے وہ ہے وہ خود کو تسلی دی کہا کچھ بھی نہیں دل م گر ہنسنے لگا آیا بڑا کچھ بھی نہیں ہم ا گر دل پامال ہے وہ ہے وہ رہتے ہیں تو کیا کچھ بھی نہیں جانے والو کبھی آ دیکھو بچا کچھ بھی نہیں بے دلی یوں ہی کہ رب کوئی مسیحا بھیجے ہم مسیحا سے بھی کہ دیں گے و جا کچھ بھی نہیں دیکھے بن عشق ہوا دیکھے بنا دور ہوئے اتنا کچھ ہوں بھی گیا تو اور ہوا کچھ بھی نہیں سستے عابد لگ بنیں لت کو عبادت لگ کہی کرنے والے لذت و ذلت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری بعد مصلے پہ بے حد روتا رہا اور کہا یار خدا خیر بھلا کچھ بھی نہیں عشق مردا لگ طبیعت نہیں رکھتا افکار ورنا یہ حسن و جمال اور ادا کچھ بھی نہیں

Afkar Alvi26 Likes

Related Ghazal

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

More from Afkar Alvi

کون کہتا ہے فقط خوف ازل دیتا ہے ظلم تو ظلم ہے ایمان بدل دیتا ہے قیامت موتا انسان بنا دیتی ہے مان لیتے ہیں خدا دل پامال کا پھل دیتا ہے حقیقت بخیل آج بھی داتا ہے بھلے سمے لگ دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسے یاد بھی کر لوں تو غزل دیتا ہے ا سے کی کوشش ہے کہ حقیقت اپنی کشش باقی رکھے مری جذبات مچلتے ہیں تو چل دیتا ہے خالی برتن ہی خنکتا ہے تبھی آدمی بھی گھا سے مت ڈالو تو اوقات اگل دیتا ہے ہم کو محنت پہ ہی ملنا ہے ا گر خلد ہے وہ ہے وہ چین یہ تو گھر بیٹھے بٹھائے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھل دیتا ہے ذہن ہے وہ ہے وہ اور کوئی دکھ نہیں رہتا افکار جتنے بل بندے کو حقیقت زلف کا بل دیتا ہے

Afkar Alvi

10 likes

کھٹملوں پہ آ اتاری ہے زندگی زندہ لاش بھاری ہے آپ دکھ دے رہے ہے رو رہا ہوں اور یہ فیلحال جاری ہے رونا لکھا گیا تو روتے ہے ذمہ داری تو ذمہ داری ہے مری مرضی ج ہاں بھی صرف کروں زندگی مری ہے تمہاری ہے دشمنی کے ہزاروں درجے ہے آخری درجہ رشتہ داری ہے

Afkar Alvi

28 likes

جو بھی عزت کے ڈر سے ڈر جائے مت کرے عشق اپنے گھر جائے بات آ جائے جب دعاؤں پر ا سے سے بہتر ہے بندہ مر جائے تھوڑی سی اور دیر سامنے رہ مری آنکھوں کا پیٹ بھر جائے المہیمین کے گھر بھی خطرے ہیں جائے بھی تو کوئی کدھر جائے ہاں عقیدہ ا گر لگ قید رکھے پھروں تو انسان کچھ بھی کر جائے قیامت کی یہ آخری حد ہے مری اولاد آپ پر جائے ا سے کے چہرے پر آج اداسی تھی ہاں یہ افکار علوی مر جائے

Afkar Alvi

38 likes

ا سے سے پہلے کہ تجھے اور سہارا لگ ملے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری ساتھ ہوں جب تک مری جیسا لگ ملے کم سے کم بدلے ہے وہ ہے وہ جنت اسے دے دی جائے ج سے محبت کے گرفتار کو صحرا نا ملے لوگ کہتے ہے کے ہم لوگ برے آدمی ہے لوگ بھی ایسے جن ہوں نے ہمیں دیکھا نا ملے ب سے یہی کہ کے اسے ہے وہ ہے وہ نے خدا کو سونپا اتفاقاً کہی مل جائے تو روتا نا ملے بد دعا ہے کے و ہاں آئی ج ہاں بیٹھتے تھے اور افکار و ہاں آپ کو بیٹھا نا ملے

Afkar Alvi

38 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Afkar Alvi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Afkar Alvi's ghazal.