روز تاروں کو نمائش ہے وہ ہے وہ خلل پڑتا ہے چاند پاگل ہے اندھیرے ہے وہ ہے وہ نکل پڑتا ہے ایک دیوا لگ مسافر ہے مری آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سر دہر ٹھہر جاتا ہے چل پڑتا ہے اپنی تعبیر کے چکر ہے وہ ہے وہ میرا جاگتا خواب روز سورج کی طرح گھر سے نکل پڑتا ہے روز پتھر کی حمایت ہے وہ ہے وہ غزل لکھتے ہیں روز شیشوں سے کوئی کام نکل پڑتا ہے ا سے کی یاد آئی ہے سانسوں ذرا آہستہ چلو دھڑکنوں سے بھی عبادت ہے وہ ہے وہ خلل پڑتا ہے
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
زنے حسین تھی اور پھول چن کر لاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شعر کہتا تھا حقیقت داستان سناتی تھی عرب لہو تھا رگوں ہے وہ ہے وہ بدن سنہرا تھا حقیقت مسکراتی نہیں تھی دیے جلاتی تھی علی سے دور رہو لوگ ا سے سے کہتے تھے حقیقت میرا سچ ہے بے حد چیک کر بتاتی تھی علی یہ لوگ تمہیں جانتے نہیں ہیں ابھی گلے دیکھیں گے میرا حوصلہ بڑھاتی تھی یہ پھول دیکھ رہے ہوں یہ ا سے کا لہجہ تھا یہ جھیل دیکھ رہے ہوں ی ہاں حقیقت آتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بعد کبھی ٹھیک سے نہیں جاگا حقیقت مجھ کو خواب نہیں نیند سے جگاتی تھی اسے کسی سے محبت تھی اور حقیقت ہے وہ ہے وہ نہیں تھا یہ بات مجھ سے زیادہ اسے رلاتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کچھ بتا نہیں سکتا حقیقت مری کیا تھی علی کہ اس کا کو دیکھ کر ب سے اپنی یاد آتی تھی
Ali Zaryoun
102 likes
More from Rahat Indori
شجر ہیں اب ثمر آثار مری چلے آتے ہیں دعویدار مری مہاجر ہیں لگ اب انصار مری مخالف ہیں بے حد ا سے بار مری ی ہاں اک بوند کا محتاج ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمندر ہیں سمندر پار مری ابھی مردوں ہے وہ ہے وہ روحیں پھونک ڈالیں ا گر چاہیں تو یہ بیمار مری ہوائیں اوڑھ کر سویا تھا دشمن گئے بیکار سارے وار مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ کر دشمنوں ہے وہ ہے وہ ب سے گیا تو ہوں ی ہاں ہمدرد ہیں دو چار مری ہنسی ہے وہ ہے وہ ٹال دینا تھا مجھے بھی غلطیاں کیوں ہوں گئے سرکار مری تصور ہے وہ ہے وہ لگ جانے کون آیا مہک اٹھے در و دیوار مری تمہارا نام دنیا جانتی ہے بے حد رسوا ہیں اب اشعار مری بھنور ہے وہ ہے وہ رک گئی ہے ناو مری کنارے رہ گئے ا سے پار مری ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود اپنی حفاظت کر رہا ہوں ابھی سوئے ہیں پہرے دار مری
Rahat Indori
4 likes
مری کاروبار ہے وہ ہے وہ سب نے بڑی امداد کی داد لوگوں کی گلہ اپنا غزل استاد کی اپنی سانسیں بیچ کر ہے وہ ہے وہ نے جسے آباد کی حقیقت گلی جنت تو اب بھی ہے م گر شداد کی عمر بھر چلتے رہے آنکھوں پہ پٹی باندھ کر زندگی کو ڈھونڈنے ہے وہ ہے وہ زندگی برباد کی داستانو کے سبھی کردار کم ہونے لگے آج کاغذ چنتی پھرتی ہے پری بغداد کی اک سلگتا چیختا ماحول ہے اور کچھ نہیں بات کرتے ہوں یکتا ک سے امین آباد کی
Rahat Indori
18 likes
سوال گھر نہیں بنیاد پر اٹھایا ہے ہمارے پاؤں کی مٹی نے سر اٹھایا ہے ہمیشہ سر پہ رہی اک چٹان رشتوں کی یہ بوجھ حقیقت ہے جسے عمر بھر اٹھایا ہے مری غلیل کے پتھر کا کار نامہ تھا م گر یہ کون ہے ج سے نے ثمر اٹھایا ہے یہی ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دبائےگا ایک دن ہم کو یہ آسمان جسے دوش پر اٹھایا ہے بلندیوں کو پتا چل گیا تو کہ پھروں ہے وہ ہے وہ نے ہوا کا ٹوٹا ہوا ایک پر اٹھایا ہے مہا بلی سے بغاوت بے حد ضروری ہے قدم یہ ہم نے سمجھ سوچ کر اٹھایا ہے
Rahat Indori
3 likes
فیصلے لمحات کے جالے پہ بھاری ہوں گئے باپ حاکم تھا م گر بیٹے بھکاری ہوں گئے دیویان پہنچیں تھیں اپنے بال بکھرائے ہوئے دیوتا مندیر سے نکلے اور پجاری ہوں گئے روشنی کی جنگ ہے وہ ہے وہ تاریکیاں پیدا ہوئیں چاند پاگل ہوں گیا تو تارے بھکاری ہوں گئے رکھ دیے جائیں گے نیزے لفظ اور ہونٹوں کے بیچ ظل سبحانی کے احکامات جاری ہوں گئے نرم و چھوؤں گا ہلکے پھلکے روئی چنو خواب تھے آنسوؤں ہے وہ ہے وہ بھیگنے کے بعد بھاری ہوں گئے
Rahat Indori
2 likes
تمہارے نام پر ہے وہ ہے وہ نے ہر آفت سر پہ رکھی تھی نظر شعلوں پہ رکھی تھی زبان پتھر پہ رکھی تھی ہمارے خواب تو شہروں کی سڑکوں پر بھٹکتے تھے تمہاری یاد تھی جو رات بھر بستر پہ رکھی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا عزم لے کر منزلوں کی سمت نکلا تھا مشقت ہاتھ پہ رکھی تھی قسمت گھر پہ رکھی تھی انہی سانسوں کے چکر نے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت دن د کھائے تھے ہمارے پاؤں کی مٹی ہمارے سر پہ رکھی تھی سحر تک جاناں جو آ جاتے تو منظر دیکھ سکتے تھے دیے پلکوں پہ رکھے تھے شکن بستر پہ رکھی تھی
Rahat Indori
7 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Rahat Indori.
Similar Moods
More moods that pair well with Rahat Indori's ghazal.







