achchha to tum aise the duur se kaise lagte the haath tumhare shaal men bhi kitne thande rahte the samne sab ke us se ham khinche khinche se rahte the aankh kahin par hoti thi baat kisi se karte the qurbat ke un lamhon men ham kuchh aur hi hote the saath men rah kar bhi us se chalte vaqt hi milte the itne bade ho ke bhi ham bachchon jaisa rote the jald hi us ko bhuul gae aur bhi dhoke khane the achchha to tum aise the dur se kaise lagte the hath tumhaare shaal mein bhi kitne thande rahte the samne sab ke us se hum khinche khinche se rahte the aankh kahin par hoti thi baat kisi se karte the qurbat ke un lamhon mein hum kuchh aur hi hote the sath mein rah kar bhi us se chalte waqt hi milte the itne bade ho ke bhi hum bachchon jaisa rote the jald hi us ko bhul gae aur bhi dhoke khane the
Related Ghazal
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں
Jaun Elia
315 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
More from Shariq Kaifi
گزر رہا ہے حقیقت لمحہ تو یاد آیا ہے ا سے ایک پل سے کبھی کتنا خوف کھایا ہے اسی نگاہ نے آنکھوں کو کر دیا پتھر اسی نگاہ ہے وہ ہے وہ سب کچھ نظر بھی آیا ہے یہ طنز یوں بھی ہے اک امتحاں مری لیے تری لبوں سے کوئی اور مسکرایا ہے بہے رقیب کے آنسو بھی مری گالوں پر یہ سانحہ بھی محبت ہے وہ ہے وہ پیش آیا ہے یہ کوئی اور ہے تیری طرف سرکتا ہوا اندھیرا ہوتے ہی جو مجھ ہے وہ ہے وہ آ سمایا ہے ہمارے عشق سے مرعوب ا سے دودمان بھی لگ ہوں یہ خوں تو ایک اداکار نے بہایا ہے ی ہاں تو ریت ہے پتھر ہیں اور کچھ بھی نہیں حقیقت کیا دکھانے مجھے اتنی دور لایا ہے بے حد سے بوجھ ہیں دل پر یہ کوئی ایسا نہیں یہ دکھ کسی نے ہمارے لیے اٹھایا ہے
Shariq Kaifi
4 likes
خواب ویسے تو اک عنایت ہے آنکھ کھل جائے تو مصیبت ہے جسم آیا کسی کے حصے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کسی اور کی امانت ہے جان دینے کا سمے آ ہی گیا تو ا سے تماشے کے بعد فرصت ہے عمر بھر ج سے کے مشوروں پہ چلے حقیقت پریشان ہے تو حیرت ہے اب سنورنے کا سمے ا سے کو نہیں جب ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیکھنے کی فرصت ہے ا سے پہ اتنے ہی رنگ کھلتے ہیں ج سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جتنی حیرت ہے
Shariq Kaifi
1 likes
لوگ سہ لیتے تھے ہنسکر کبھی بے زاری بھی اب تو مشکوک ہوئی اپنی ملن ساری بھی وار کچھ خالی گئے مری تو پھروں آ ہی گئی اپنے دشمن کو دعا دینے کی ہوشیاری بھی عمر بھر ک سے نے بھلا غور سے دیکھا تھا مجھے سمے کم ہوں تو سجا دیتی ہے بیماری بھی ک سے طرح آئی ہیں ا سے پہلی ملاقات تلک اور مکمل ہے جدا ہونے کی تیاری بھی اوب جاتا ہوں ذہانت کی نمائش سے تو پھروں لطف دیتا ہے یہ لہجہ مجھے بازاری بھی عمر بڑھتی ہے م گر ہم وہیں ٹھہرے ہوئے ہیں ٹھوکریں خائی تو کچھ آئی سمجھداری بھی اب جو کردار مجھے کرنا ہے مشکل ہے بے حد مست ہونے کا دکھاوا بھی ہے سر بھاری بھی
Shariq Kaifi
3 likes
ایک مدت ہوئی گھر سے نکلے ہوئے اپنے ماحول ہے وہ ہے وہ خود کو دیکھے ہوئے ایک دن ہم اچانک بڑے ہوں گئے کھیل ہے وہ ہے وہ دوڑ کر ا سے کو چھوتے ہوئے سب گزرنے رہے صف بہ صف پا سے سے مری سینے پہ اک پھول رکھتے ہوئے چنو یہ میز مٹی کا ہاتھی یہ پھول ایک کونے ہے وہ ہے وہ ہم بھی ہیں رکھے ہوئے شرم تو آئی لیکن خوشی بھی ہوئی اپنا دکھ ا سے کے چہرے پہ پیسہ ہوئے ب سے بے حد ہوں چکا آئینے سے گلہ دیکھ لےگا کوئی خود سے ملتے ہوئے زندگی بھر رہے ہیں اندھیرے ہے وہ ہے وہ ہم روشنی سے پریشان ہوتے ہوئے
Shariq Kaifi
4 likes
سیانے تھے م گر اتنے نہیں ہم خموشی کی زبان سمجھے نہیں ہم انا کی بات اب سننا پڑےگی حقیقت کیا گنگنائے گا جو روٹھے نہیں ہم ادھوری لگ رہی ہے جیت ا سے کو اسے ہارے ہوئے لگتے نہیں ہم ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو روک لو اٹھنے سے پہلے پلٹ کر دیکھنے والے نہیں ہم چیزیں کا تری صدمہ تو ہوگا م گر ا سے خوف کو جیتے نہیں ہم تری رہتے تو کیا ہوتے کسی کے تجھے کھو کر بھی دنیا کے نہیں ہم یہ منزل خواب ہی رہتی ہمیشہ ا گر گھر لوٹ کر آتے نہیں ہم کبھی اپائے تو ا سے پہلو سے کوئی کسی کی بات کیوں سنتے نہیں ہم ابھی تک مشوروں پر جی رہے ہیں کسی صورت بڑے ہوتے نہیں ہم
Shariq Kaifi
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Shariq Kaifi.
Similar Moods
More moods that pair well with Shariq Kaifi's ghazal.







