گزر رہا ہے حقیقت لمحہ تو یاد آیا ہے ا سے ایک پل سے کبھی کتنا خوف کھایا ہے اسی نگاہ نے آنکھوں کو کر دیا پتھر اسی نگاہ ہے وہ ہے وہ سب کچھ نظر بھی آیا ہے یہ طنز یوں بھی ہے اک امتحاں مری لیے تری لبوں سے کوئی اور مسکرایا ہے بہے رقیب کے آنسو بھی مری گالوں پر یہ سانحہ بھی محبت ہے وہ ہے وہ پیش آیا ہے یہ کوئی اور ہے تیری طرف سرکتا ہوا اندھیرا ہوتے ہی جو مجھ ہے وہ ہے وہ آ سمایا ہے ہمارے عشق سے مرعوب ا سے دودمان بھی لگ ہوں یہ خوں تو ایک اداکار نے بہایا ہے ی ہاں تو ریت ہے پتھر ہیں اور کچھ بھی نہیں حقیقت کیا دکھانے مجھے اتنی دور لایا ہے بے حد سے بوجھ ہیں دل پر یہ کوئی ایسا نہیں یہ دکھ کسی نے ہمارے لیے اٹھایا ہے
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں
Fahmi Badayuni
249 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
More from Shariq Kaifi
کم سے کم دنیا سے اتنا میرا رشتہ ہوں جائے کوئی میرا بھی برا چاہنے والا ہوں جائے اسی مجبوری ہے وہ ہے وہ یہ بھیڑ اکٹھا ہے ی ہاں جو تری ساتھ نہیں آئی حقیقت تنہا ہوں جائے شکر ا سے کا ادا کرنے کا خیال آئی کسے ابر جب اتنا شوالہ ہوں کہ اندھیرا ہوں جائے ہاں نہیں چاہیے ا سے درجہ محبت تیری کہ میرا سچ بھی تری جھوٹ کا حصہ ہوں جائے بند آنکھوں نے سرابوں سے بچایا ہے مجھے آنکھ والا ہوں تو ا سے کھیل ہے وہ ہے وہ اندھا ہوں جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی اللہ ری ہوں تری بات سمجھ سکتا ہوں یہ کہ مٹ جانے کے ڈر سے کوئی دریا ہوں جائے ب سے اسی بات پہ آئینوں سے بگڑی مری چاہتا تھا میرا اپنا کوئی چہرہ ہوں جائے پھری ہے وہ ہے وہ یہی رنگ تو دیتے ہیں مزہ کوئی روئے تو ہنسی سے کوئی دوہرا ہوں جائے
Shariq Kaifi
0 likes
لوگ سہ لیتے تھے ہنسکر کبھی بے زاری بھی اب تو مشکوک ہوئی اپنی ملن ساری بھی وار کچھ خالی گئے مری تو پھروں آ ہی گئی اپنے دشمن کو دعا دینے کی ہوشیاری بھی عمر بھر ک سے نے بھلا غور سے دیکھا تھا مجھے سمے کم ہوں تو سجا دیتی ہے بیماری بھی ک سے طرح آئی ہیں ا سے پہلی ملاقات تلک اور مکمل ہے جدا ہونے کی تیاری بھی اوب جاتا ہوں ذہانت کی نمائش سے تو پھروں لطف دیتا ہے یہ لہجہ مجھے بازاری بھی عمر بڑھتی ہے م گر ہم وہیں ٹھہرے ہوئے ہیں ٹھوکریں خائی تو کچھ آئی سمجھداری بھی اب جو کردار مجھے کرنا ہے مشکل ہے بے حد مست ہونے کا دکھاوا بھی ہے سر بھاری بھی
Shariq Kaifi
3 likes
سونا آنگن نیند ہے وہ ہے وہ ایسے چونک اٹھا ہے سوتے ہے وہ ہے وہ بھی چنو کوئی سسکی لیتا ہے گھر ہے وہ ہے وہ تو ا سے ماحول کا ہے وہ ہے وہ عا گرا ہوں لیکن بازاروں کی ویرانی سے دم پلانا ہے مدت سے ہے وہ ہے وہ سوچ رہا تھا اب سمجھا ہوں جیب اور آنکھ کے خالی پن ہے وہ ہے وہ کیا رشتہ ہے اتنے لوگ مجھے رخصت کرنے آئی ہیں گھر واپ سے جانا بھی تماشا سا لگتا ہے لوگ تو اپنی جانب سے کچھ جوڑ ہی لیںگے اتنی ادھوری باتیں ہیں حقیقت کیوں کرتا ہے اپنی کیا ان رستوں کے بارے ہے وہ ہے وہ سوچوں ان کا سفر تو مری عمر سے بھی لمبا ہے ا سے کی آنکھوں سے اوجھل مت ہونا شریک پیچھا کرنے والا بے حد تنہا ہوتا ہے
Shariq Kaifi
5 likes
کچھ قدم اور مجھے جسم کو ڈھونا ہے ی ہاں ساتھ لایا ہوں اسی کو جسے کھونا ہے ی ہاں بھیڑ چھٹ جائے گی پل ہے وہ ہے وہ یہ خبر اڑتے ہی اب کوئی اور تماشا نہیں ہونا ہے ی ہاں یہ بھنور کون سا اندھیرا مجھے دے سکتا ہے بات یہ ہے کہ مجھے خود کو ڈبونا ہے ی ہاں کیا ملا دشت ہے وہ ہے وہ آ کر تری دیوانے کو گھر کے جیسا ہی ا گر جاگنا سونا ہے ی ہاں کچھ بھی ہوں جائے لگ مانوں گا م گر جسم کی بات آج مجرم تو کسی اور کو ہونا ہے ی ہاں یوں بھی درکار ہے مجھ کو کسی بینائی کا لم سے اب کسی اور کا ہونا میرا ہونا ہے ی ہاں خوشی پلکوں پہ سجا لوں ہے وہ ہے وہ ابھی سے شریک شب ہے باقی تو ترا ذکر بھی ہونا ہے ی ہاں
Shariq Kaifi
1 likes
تری طرف سے تو ہاں مان کر ہی چلنا ہے کہ سارا کھیل ا سے امید پر ہی چلنا ہے قدم ٹھہر ہی گئے ہیں تری گلی ہے وہ ہے وہ تو پھروں ی ہاں سے کوئی دعا مانگ کر ہی چلنا ہے رہے ہوں ساتھ تو کچھ سمے اور دے دو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ی ہاں سے لوٹ کے ب سے اب تو گھر ہی چلنا ہے مخالفت پہ ہواؤں کی کیوں پریشاں ہوں تمہاری سمت ا گر عمر بھر ہی چلنا ہے کوئی امید نہیں کھڑ کیوں کو بند کروں کہ اب تو دشت بلا کا سفر ہی چلنا ہے ذرا سا قرب میسر تو آئی ا سے کا مجھے کہ ا سے کے بعد زبان کا ہنر ہی چلنا ہے
Shariq Kaifi
8 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Shariq Kaifi.
Similar Moods
More moods that pair well with Shariq Kaifi's ghazal.







