سونا آنگن نیند ہے وہ ہے وہ ایسے چونک اٹھا ہے سوتے ہے وہ ہے وہ بھی چنو کوئی سسکی لیتا ہے گھر ہے وہ ہے وہ تو ا سے ماحول کا ہے وہ ہے وہ عا گرا ہوں لیکن بازاروں کی ویرانی سے دم پلانا ہے مدت سے ہے وہ ہے وہ سوچ رہا تھا اب سمجھا ہوں جیب اور آنکھ کے خالی پن ہے وہ ہے وہ کیا رشتہ ہے اتنے لوگ مجھے رخصت کرنے آئی ہیں گھر واپ سے جانا بھی تماشا سا لگتا ہے لوگ تو اپنی جانب سے کچھ جوڑ ہی لیںگے اتنی ادھوری باتیں ہیں حقیقت کیوں کرتا ہے اپنی کیا ان رستوں کے بارے ہے وہ ہے وہ سوچوں ان کا سفر تو مری عمر سے بھی لمبا ہے ا سے کی آنکھوں سے اوجھل مت ہونا شریک پیچھا کرنے والا بے حد تنہا ہوتا ہے
Related Ghazal
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
More from Shariq Kaifi
گزر رہا ہے حقیقت لمحہ تو یاد آیا ہے ا سے ایک پل سے کبھی کتنا خوف کھایا ہے اسی نگاہ نے آنکھوں کو کر دیا پتھر اسی نگاہ ہے وہ ہے وہ سب کچھ نظر بھی آیا ہے یہ طنز یوں بھی ہے اک امتحاں مری لیے تری لبوں سے کوئی اور مسکرایا ہے بہے رقیب کے آنسو بھی مری گالوں پر یہ سانحہ بھی محبت ہے وہ ہے وہ پیش آیا ہے یہ کوئی اور ہے تیری طرف سرکتا ہوا اندھیرا ہوتے ہی جو مجھ ہے وہ ہے وہ آ سمایا ہے ہمارے عشق سے مرعوب ا سے دودمان بھی لگ ہوں یہ خوں تو ایک اداکار نے بہایا ہے ی ہاں تو ریت ہے پتھر ہیں اور کچھ بھی نہیں حقیقت کیا دکھانے مجھے اتنی دور لایا ہے بے حد سے بوجھ ہیں دل پر یہ کوئی ایسا نہیں یہ دکھ کسی نے ہمارے لیے اٹھایا ہے
Shariq Kaifi
4 likes
تری طرف سے تو ہاں مان کر ہی چلنا ہے کہ سارا کھیل ا سے امید پر ہی چلنا ہے قدم ٹھہر ہی گئے ہیں تری گلی ہے وہ ہے وہ تو پھروں ی ہاں سے کوئی دعا مانگ کر ہی چلنا ہے رہے ہوں ساتھ تو کچھ سمے اور دے دو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ی ہاں سے لوٹ کے ب سے اب تو گھر ہی چلنا ہے مخالفت پہ ہواؤں کی کیوں پریشاں ہوں تمہاری سمت ا گر عمر بھر ہی چلنا ہے کوئی امید نہیں کھڑ کیوں کو بند کروں کہ اب تو دشت بلا کا سفر ہی چلنا ہے ذرا سا قرب میسر تو آئی ا سے کا مجھے کہ ا سے کے بعد زبان کا ہنر ہی چلنا ہے
Shariq Kaifi
8 likes
لوگ سہ لیتے تھے ہنسکر کبھی بے زاری بھی اب تو مشکوک ہوئی اپنی ملن ساری بھی وار کچھ خالی گئے مری تو پھروں آ ہی گئی اپنے دشمن کو دعا دینے کی ہوشیاری بھی عمر بھر ک سے نے بھلا غور سے دیکھا تھا مجھے سمے کم ہوں تو سجا دیتی ہے بیماری بھی ک سے طرح آئی ہیں ا سے پہلی ملاقات تلک اور مکمل ہے جدا ہونے کی تیاری بھی اوب جاتا ہوں ذہانت کی نمائش سے تو پھروں لطف دیتا ہے یہ لہجہ مجھے بازاری بھی عمر بڑھتی ہے م گر ہم وہیں ٹھہرے ہوئے ہیں ٹھوکریں خائی تو کچھ آئی سمجھداری بھی اب جو کردار مجھے کرنا ہے مشکل ہے بے حد مست ہونے کا دکھاوا بھی ہے سر بھاری بھی
Shariq Kaifi
3 likes
کہی لگ تھا حقیقت دریا ج سے کا ساحل تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ آنکھ کھلی تو اک صحرا کے مقابل تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ حاصل کر کے تجھ کو اب شرمندہ سا ہوں تھا اک سمے کہ سچ مچ تری قابل تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے احسا سے جرم کی سب کرتے ہیں توقع اک کردار کیا تھا ج سے ہے وہ ہے وہ قاتل تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون تھا حقیقت ج سے نے یہ حال کیا ہے میرا ک سے کو اتنی آسانی سے حاصل تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ساری برق دشمن پر مرکوز تھی مری اپنی طرف سے تو بلکل ہی غافل تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جن پر ہے وہ ہے وہ تھوڑا سا بھی آسان ہوا ہوں وہی بتا سکتے ہیں کتنا مشکل تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نیند نہیں آتی تھی سازش کے دھڑکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ فاتح ہوں کر بھی ک سے درجہ بزدل تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ گھر ہے وہ ہے وہ خود کو قید تو ہے وہ ہے وہ نے آج کیا ہے تب بھی تنہا تھا جب محفل محفل تھا ہے وہ ہے وہ
Shariq Kaifi
2 likes
یہ چپکے چپکے لگ تھمنے والی ہنسی تو دیکھو حقیقت ساتھ ہے تو ذرا ہماری خوشی تو دیکھو بے حد حسین رات ہے م گر جاناں تو سو رہے ہوں نکل کے کمرے سے اک نظر چاندنی تو دیکھو جگہ جگہ سیل کے یہ دھبے یہ سرد بستر ہمارے کمرے سے دھوپ کی بے رکھ تو دیکھو دمک رہا ہوں ابھی تلک ا سے کے دھیان سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بجھے ہوئے اک خیال کی روشنی تو دیکھو یہ آخری سمے اور یہ بے حسی ج ہاں کی انتقامن میرا سرد ہاتھ چھو کر کوئی تو دیکھو ابھی بے حد رنگ ہیں جو جاناں نے نہیں چھوئے ہیں کبھی ی ہاں آ کے گاؤں کی زندگی تو دیکھو
Shariq Kaifi
5 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Shariq Kaifi.
Similar Moods
More moods that pair well with Shariq Kaifi's ghazal.







