تری طرف سے تو ہاں مان کر ہی چلنا ہے کہ سارا کھیل ا سے امید پر ہی چلنا ہے قدم ٹھہر ہی گئے ہیں تری گلی ہے وہ ہے وہ تو پھروں ی ہاں سے کوئی دعا مانگ کر ہی چلنا ہے رہے ہوں ساتھ تو کچھ سمے اور دے دو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ی ہاں سے لوٹ کے ب سے اب تو گھر ہی چلنا ہے مخالفت پہ ہواؤں کی کیوں پریشاں ہوں تمہاری سمت ا گر عمر بھر ہی چلنا ہے کوئی امید نہیں کھڑ کیوں کو بند کروں کہ اب تو دشت بلا کا سفر ہی چلنا ہے ذرا سا قرب میسر تو آئی ا سے کا مجھے کہ ا سے کے بعد زبان کا ہنر ہی چلنا ہے
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں
Ali Zaryoun
105 likes
More from Shariq Kaifi
خواب ویسے تو اک عنایت ہے آنکھ کھل جائے تو مصیبت ہے جسم آیا کسی کے حصے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کسی اور کی امانت ہے جان دینے کا سمے آ ہی گیا تو ا سے تماشے کے بعد فرصت ہے عمر بھر ج سے کے مشوروں پہ چلے حقیقت پریشان ہے تو حیرت ہے اب سنورنے کا سمے ا سے کو نہیں جب ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیکھنے کی فرصت ہے ا سے پہ اتنے ہی رنگ کھلتے ہیں ج سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جتنی حیرت ہے
Shariq Kaifi
1 likes
گزر رہا ہے حقیقت لمحہ تو یاد آیا ہے ا سے ایک پل سے کبھی کتنا خوف کھایا ہے اسی نگاہ نے آنکھوں کو کر دیا پتھر اسی نگاہ ہے وہ ہے وہ سب کچھ نظر بھی آیا ہے یہ طنز یوں بھی ہے اک امتحاں مری لیے تری لبوں سے کوئی اور مسکرایا ہے بہے رقیب کے آنسو بھی مری گالوں پر یہ سانحہ بھی محبت ہے وہ ہے وہ پیش آیا ہے یہ کوئی اور ہے تیری طرف سرکتا ہوا اندھیرا ہوتے ہی جو مجھ ہے وہ ہے وہ آ سمایا ہے ہمارے عشق سے مرعوب ا سے دودمان بھی لگ ہوں یہ خوں تو ایک اداکار نے بہایا ہے ی ہاں تو ریت ہے پتھر ہیں اور کچھ بھی نہیں حقیقت کیا دکھانے مجھے اتنی دور لایا ہے بے حد سے بوجھ ہیں دل پر یہ کوئی ایسا نہیں یہ دکھ کسی نے ہمارے لیے اٹھایا ہے
Shariq Kaifi
4 likes
لوگ سہ لیتے تھے ہنسکر کبھی بے زاری بھی اب تو مشکوک ہوئی اپنی ملن ساری بھی وار کچھ خالی گئے مری تو پھروں آ ہی گئی اپنے دشمن کو دعا دینے کی ہوشیاری بھی عمر بھر ک سے نے بھلا غور سے دیکھا تھا مجھے سمے کم ہوں تو سجا دیتی ہے بیماری بھی ک سے طرح آئی ہیں ا سے پہلی ملاقات تلک اور مکمل ہے جدا ہونے کی تیاری بھی اوب جاتا ہوں ذہانت کی نمائش سے تو پھروں لطف دیتا ہے یہ لہجہ مجھے بازاری بھی عمر بڑھتی ہے م گر ہم وہیں ٹھہرے ہوئے ہیں ٹھوکریں خائی تو کچھ آئی سمجھداری بھی اب جو کردار مجھے کرنا ہے مشکل ہے بے حد مست ہونے کا دکھاوا بھی ہے سر بھاری بھی
Shariq Kaifi
3 likes
سامنے تری ہوں گھبرایا ہوا بے زبان ہونے پر با ہوں ہوا لاکھ اب منظر ہوں دھندلایا ہوا یاد ہے مجھ کو نظر آیا ہوا یہ بھی کہنا تھا بتا کر راستہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ وہی ہوں تیرا بھٹکایا ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ اک آسیب اک بے چین روح بے وضو ہاتھوں کا دفنایا ہوا آ گیا تو پھروں مشورہ دینے مجھے خیمہ دشمن کا سمجھایا ہوا پھروں حقیقت منزل لطف کیا دیتی مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ و ہاں پہنچا تھا جھنجھلایا ہوا تیری گلیوں سے گزر آساں نہیں آج بھی چلتا ہوں گھبرایا ہوا کچھ نیا کرنے کا پھروں زار ہی کیا جب تماشائی ہے اکتایا ہوا کم سے کم ا سے کا تو رکھتا حقیقت لحاظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں اک آواز پر آیا ہوا مجھ کو آسانی سے پا سکتا ہے کون ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں تری در کا ٹھکرایا ہوا
Shariq Kaifi
2 likes
رونا دھونا صرف دکھاوا ہوتا ہے کون مری جانے سے تنہا ہوتا ہے ا سے کی ٹی سے نہیں جاتی ہے ساری عمر پہلا دھوکہ پہلا دھوکہ ہوتا ہے نام بھی ا سے کا یاد نہیں رکھ پاتے ہم گلیاں گلیاں جسےپکارا ہوتا ہے ساری باتیں یاد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ جاتی ہے لیکن جب حقیقت اٹھنے والا ہوتا ہے مر جاتا ہے تنج بھرے اک جملے سے کوئی کوئی تو اتنا زندہ ہوتا ہے آنسو بھی ہم خرچ وہیں پر کرتے ہیں ج ہاں کوئی دل رکھنے والا ہوتا ہے بے زار کی بھیڑ لگانے والوں سے جانے والا اور اکیلا ہوتا ہے گھر ہے وہ ہے وہ اسے محسو سے کروں یا صحرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ سناٹا تو ب سے سناٹا ہوتا ہے اچھے چہرے اچھے چہرے ہوتے ہیں ان ہے وہ ہے وہ بھی اک اپنا والا ہوتا ہے
Shariq Kaifi
16 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Shariq Kaifi.
Similar Moods
More moods that pair well with Shariq Kaifi's ghazal.







