رونا دھونا صرف دکھاوا ہوتا ہے کون مری جانے سے تنہا ہوتا ہے ا سے کی ٹی سے نہیں جاتی ہے ساری عمر پہلا دھوکہ پہلا دھوکہ ہوتا ہے نام بھی ا سے کا یاد نہیں رکھ پاتے ہم گلیاں گلیاں جسےپکارا ہوتا ہے ساری باتیں یاد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ جاتی ہے لیکن جب حقیقت اٹھنے والا ہوتا ہے مر جاتا ہے تنج بھرے اک جملے سے کوئی کوئی تو اتنا زندہ ہوتا ہے آنسو بھی ہم خرچ وہیں پر کرتے ہیں ج ہاں کوئی دل رکھنے والا ہوتا ہے بے زار کی بھیڑ لگانے والوں سے جانے والا اور اکیلا ہوتا ہے گھر ہے وہ ہے وہ اسے محسو سے کروں یا صحرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ سناٹا تو ب سے سناٹا ہوتا ہے اچھے چہرے اچھے چہرے ہوتے ہیں ان ہے وہ ہے وہ بھی اک اپنا والا ہوتا ہے
Related Ghazal
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
چھوڑ کر جانے کا جھمکے نہیں ہوتا تھا کوئی بھی زخم ہوں ناسور نہیں ہوتا تھا میرے بھی ہونٹ پہ سگریٹ نہیں ہوتی تھی ا سے کی بھی مانگ ہے وہ ہے وہ سندور نہیں ہوتا تھا عورتیں پیار ہے وہ ہے وہ تب شوق نہیں رکھتی تھی آدمی عشق ہے وہ ہے وہ مزدور نہیں ہوتا تھا
Kushal Dauneria
54 likes
بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں
Rehman Faris
196 likes
ایک اور بے وجہ چھوڑ کر چلا گیا تو تو کیا ہوا ہمارے ساتھ کون سا یہ پہلی مرتبہ ہوا ازل سے ان ہتھیلیوں ہے وہ ہے وہ ہجر کی لکیر تھی تمہارا دکھ تو چنو مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ بڑا ہوا مری خلاف دشمنوں کی صف ہے وہ ہے وہ ہے حقیقت اور ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد برا لگوںگا ا سے پر تیر کھینچتا ہوا
Tehzeeb Hafi
183 likes
بات کرنی ہے بات کون کرے درد سے دو دو ہاتھ کون کرے ہم ستارے تم تمہیں بلاتے ہیں چاند لگ ہوں تو رات کون کرے اب تجھے رب کہی یا بت سمجھیں عشق ہے وہ ہے وہ ذات پات کون کرے زندگی بھر کی تھے کمائی جاناں ا سے سے زیادہ زکات کون کرے
Kumar Vishwas
56 likes
More from Shariq Kaifi
خواب ویسے تو اک عنایت ہے آنکھ کھل جائے تو مصیبت ہے جسم آیا کسی کے حصے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کسی اور کی امانت ہے جان دینے کا سمے آ ہی گیا تو ا سے تماشے کے بعد فرصت ہے عمر بھر ج سے کے مشوروں پہ چلے حقیقت پریشان ہے تو حیرت ہے اب سنورنے کا سمے ا سے کو نہیں جب ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیکھنے کی فرصت ہے ا سے پہ اتنے ہی رنگ کھلتے ہیں ج سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جتنی حیرت ہے
Shariq Kaifi
1 likes
گزر رہا ہے حقیقت لمحہ تو یاد آیا ہے ا سے ایک پل سے کبھی کتنا خوف کھایا ہے اسی نگاہ نے آنکھوں کو کر دیا پتھر اسی نگاہ ہے وہ ہے وہ سب کچھ نظر بھی آیا ہے یہ طنز یوں بھی ہے اک امتحاں مری لیے تری لبوں سے کوئی اور مسکرایا ہے بہے رقیب کے آنسو بھی مری گالوں پر یہ سانحہ بھی محبت ہے وہ ہے وہ پیش آیا ہے یہ کوئی اور ہے تیری طرف سرکتا ہوا اندھیرا ہوتے ہی جو مجھ ہے وہ ہے وہ آ سمایا ہے ہمارے عشق سے مرعوب ا سے دودمان بھی لگ ہوں یہ خوں تو ایک اداکار نے بہایا ہے ی ہاں تو ریت ہے پتھر ہیں اور کچھ بھی نہیں حقیقت کیا دکھانے مجھے اتنی دور لایا ہے بے حد سے بوجھ ہیں دل پر یہ کوئی ایسا نہیں یہ دکھ کسی نے ہمارے لیے اٹھایا ہے
Shariq Kaifi
4 likes
لوگ سہ لیتے تھے ہنسکر کبھی بے زاری بھی اب تو مشکوک ہوئی اپنی ملن ساری بھی وار کچھ خالی گئے مری تو پھروں آ ہی گئی اپنے دشمن کو دعا دینے کی ہوشیاری بھی عمر بھر ک سے نے بھلا غور سے دیکھا تھا مجھے سمے کم ہوں تو سجا دیتی ہے بیماری بھی ک سے طرح آئی ہیں ا سے پہلی ملاقات تلک اور مکمل ہے جدا ہونے کی تیاری بھی اوب جاتا ہوں ذہانت کی نمائش سے تو پھروں لطف دیتا ہے یہ لہجہ مجھے بازاری بھی عمر بڑھتی ہے م گر ہم وہیں ٹھہرے ہوئے ہیں ٹھوکریں خائی تو کچھ آئی سمجھداری بھی اب جو کردار مجھے کرنا ہے مشکل ہے بے حد مست ہونے کا دکھاوا بھی ہے سر بھاری بھی
Shariq Kaifi
3 likes
سامنے تری ہوں گھبرایا ہوا بے زبان ہونے پر با ہوں ہوا لاکھ اب منظر ہوں دھندلایا ہوا یاد ہے مجھ کو نظر آیا ہوا یہ بھی کہنا تھا بتا کر راستہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ وہی ہوں تیرا بھٹکایا ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ اک آسیب اک بے چین روح بے وضو ہاتھوں کا دفنایا ہوا آ گیا تو پھروں مشورہ دینے مجھے خیمہ دشمن کا سمجھایا ہوا پھروں حقیقت منزل لطف کیا دیتی مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ و ہاں پہنچا تھا جھنجھلایا ہوا تیری گلیوں سے گزر آساں نہیں آج بھی چلتا ہوں گھبرایا ہوا کچھ نیا کرنے کا پھروں زار ہی کیا جب تماشائی ہے اکتایا ہوا کم سے کم ا سے کا تو رکھتا حقیقت لحاظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں اک آواز پر آیا ہوا مجھ کو آسانی سے پا سکتا ہے کون ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں تری در کا ٹھکرایا ہوا
Shariq Kaifi
2 likes
کم سے کم دنیا سے اتنا میرا رشتہ ہوں جائے کوئی میرا بھی برا چاہنے والا ہوں جائے اسی مجبوری ہے وہ ہے وہ یہ بھیڑ اکٹھا ہے ی ہاں جو تری ساتھ نہیں آئی حقیقت تنہا ہوں جائے شکر ا سے کا ادا کرنے کا خیال آئی کسے ابر جب اتنا شوالہ ہوں کہ اندھیرا ہوں جائے ہاں نہیں چاہیے ا سے درجہ محبت تیری کہ میرا سچ بھی تری جھوٹ کا حصہ ہوں جائے بند آنکھوں نے سرابوں سے بچایا ہے مجھے آنکھ والا ہوں تو ا سے کھیل ہے وہ ہے وہ اندھا ہوں جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی اللہ ری ہوں تری بات سمجھ سکتا ہوں یہ کہ مٹ جانے کے ڈر سے کوئی دریا ہوں جائے ب سے اسی بات پہ آئینوں سے بگڑی مری چاہتا تھا میرا اپنا کوئی چہرہ ہوں جائے پھری ہے وہ ہے وہ یہی رنگ تو دیتے ہیں مزہ کوئی روئے تو ہنسی سے کوئی دوہرا ہوں جائے
Shariq Kaifi
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Shariq Kaifi.
Similar Moods
More moods that pair well with Shariq Kaifi's ghazal.







