ghazalKuch Alfaaz

کچھ قدم اور مجھے جسم کو ڈھونا ہے ی ہاں ساتھ لایا ہوں اسی کو جسے کھونا ہے ی ہاں بھیڑ چھٹ جائے گی پل ہے وہ ہے وہ یہ خبر اڑتے ہی اب کوئی اور تماشا نہیں ہونا ہے ی ہاں یہ بھنور کون سا اندھیرا مجھے دے سکتا ہے بات یہ ہے کہ مجھے خود کو ڈبونا ہے ی ہاں کیا ملا دشت ہے وہ ہے وہ آ کر تری دیوانے کو گھر کے جیسا ہی ا گر جاگنا سونا ہے ی ہاں کچھ بھی ہوں جائے لگ مانوں گا م گر جسم کی بات آج مجرم تو کسی اور کو ہونا ہے ی ہاں یوں بھی درکار ہے مجھ کو کسی بینائی کا لم سے اب کسی اور کا ہونا میرا ہونا ہے ی ہاں خوشی پلکوں پہ سجا لوں ہے وہ ہے وہ ابھی سے شریک شب ہے باقی تو ترا ذکر بھی ہونا ہے ی ہاں

Related Ghazal

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

More from Shariq Kaifi

گزر رہا ہے حقیقت لمحہ تو یاد آیا ہے ا سے ایک پل سے کبھی کتنا خوف کھایا ہے اسی نگاہ نے آنکھوں کو کر دیا پتھر اسی نگاہ ہے وہ ہے وہ سب کچھ نظر بھی آیا ہے یہ طنز یوں بھی ہے اک امتحاں مری لیے تری لبوں سے کوئی اور مسکرایا ہے بہے رقیب کے آنسو بھی مری گالوں پر یہ سانحہ بھی محبت ہے وہ ہے وہ پیش آیا ہے یہ کوئی اور ہے تیری طرف سرکتا ہوا اندھیرا ہوتے ہی جو مجھ ہے وہ ہے وہ آ سمایا ہے ہمارے عشق سے مرعوب ا سے دودمان بھی لگ ہوں یہ خوں تو ایک اداکار نے بہایا ہے ی ہاں تو ریت ہے پتھر ہیں اور کچھ بھی نہیں حقیقت کیا دکھانے مجھے اتنی دور لایا ہے بے حد سے بوجھ ہیں دل پر یہ کوئی ایسا نہیں یہ دکھ کسی نے ہمارے لیے اٹھایا ہے

Shariq Kaifi

4 likes

خواب ویسے تو اک عنایت ہے آنکھ کھل جائے تو مصیبت ہے جسم آیا کسی کے حصے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کسی اور کی امانت ہے جان دینے کا سمے آ ہی گیا تو ا سے تماشے کے بعد فرصت ہے عمر بھر ج سے کے مشوروں پہ چلے حقیقت پریشان ہے تو حیرت ہے اب سنورنے کا سمے ا سے کو نہیں جب ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیکھنے کی فرصت ہے ا سے پہ اتنے ہی رنگ کھلتے ہیں ج سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جتنی حیرت ہے

Shariq Kaifi

1 likes

لوگ سہ لیتے تھے ہنسکر کبھی بے زاری بھی اب تو مشکوک ہوئی اپنی ملن ساری بھی وار کچھ خالی گئے مری تو پھروں آ ہی گئی اپنے دشمن کو دعا دینے کی ہوشیاری بھی عمر بھر ک سے نے بھلا غور سے دیکھا تھا مجھے سمے کم ہوں تو سجا دیتی ہے بیماری بھی ک سے طرح آئی ہیں ا سے پہلی ملاقات تلک اور مکمل ہے جدا ہونے کی تیاری بھی اوب جاتا ہوں ذہانت کی نمائش سے تو پھروں لطف دیتا ہے یہ لہجہ مجھے بازاری بھی عمر بڑھتی ہے م گر ہم وہیں ٹھہرے ہوئے ہیں ٹھوکریں خائی تو کچھ آئی سمجھداری بھی اب جو کردار مجھے کرنا ہے مشکل ہے بے حد مست ہونے کا دکھاوا بھی ہے سر بھاری بھی

Shariq Kaifi

3 likes

کم سے کم دنیا سے اتنا میرا رشتہ ہوں جائے کوئی میرا بھی برا چاہنے والا ہوں جائے اسی مجبوری ہے وہ ہے وہ یہ بھیڑ اکٹھا ہے ی ہاں جو تری ساتھ نہیں آئی حقیقت تنہا ہوں جائے شکر ا سے کا ادا کرنے کا خیال آئی کسے ابر جب اتنا شوالہ ہوں کہ اندھیرا ہوں جائے ہاں نہیں چاہیے ا سے درجہ محبت تیری کہ میرا سچ بھی تری جھوٹ کا حصہ ہوں جائے بند آنکھوں نے سرابوں سے بچایا ہے مجھے آنکھ والا ہوں تو ا سے کھیل ہے وہ ہے وہ اندھا ہوں جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی اللہ ری ہوں تری بات سمجھ سکتا ہوں یہ کہ مٹ جانے کے ڈر سے کوئی دریا ہوں جائے ب سے اسی بات پہ آئینوں سے بگڑی مری چاہتا تھا میرا اپنا کوئی چہرہ ہوں جائے پھری ہے وہ ہے وہ یہی رنگ تو دیتے ہیں مزہ کوئی روئے تو ہنسی سے کوئی دوہرا ہوں جائے

Shariq Kaifi

0 likes

سیانے تھے م گر اتنے نہیں ہم خموشی کی زبان سمجھے نہیں ہم انا کی بات اب سننا پڑےگی حقیقت کیا گنگنائے گا جو روٹھے نہیں ہم ادھوری لگ رہی ہے جیت ا سے کو اسے ہارے ہوئے لگتے نہیں ہم ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو روک لو اٹھنے سے پہلے پلٹ کر دیکھنے والے نہیں ہم چیزیں کا تری صدمہ تو ہوگا م گر ا سے خوف کو جیتے نہیں ہم تری رہتے تو کیا ہوتے کسی کے تجھے کھو کر بھی دنیا کے نہیں ہم یہ منزل خواب ہی رہتی ہمیشہ ا گر گھر لوٹ کر آتے نہیں ہم کبھی اپائے تو ا سے پہلو سے کوئی کسی کی بات کیوں سنتے نہیں ہم ابھی تک مشوروں پر جی رہے ہیں کسی صورت بڑے ہوتے نہیں ہم

Shariq Kaifi

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Shariq Kaifi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Shariq Kaifi's ghazal.