ghazalKuch Alfaaz

achchhe din kab aenge kya yuun hi mar jaenge apne-ap ko khvabon se kab tak ham bahlaenge bambai men thahrenge kahan dilli men kya khaenge khilte hain to khilne do phuul abhi murjhaenge kitni achchhi ladki hai barson bhuul na paenge maut na aai to 'alvi' chhutti men ghar jaenge achchhe din kab aaenge kya yun hi mar jaenge apne-ap ko khwabon se kab tak hum bahlaenge bambai mein thahrenge kahan dilli mein kya khaenge khilte hain to khilne do phul abhi murjhaenge kitni achchhi ladki hai barson bhul na paenge maut na aai to 'alwi' chhutti mein ghar jaenge

Related Ghazal

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

غزل تو سب کو میٹھی لگ رہی تھی م گر نہاتک کو مرچی لگ رہی تھی تمہارے لب نہیں چومے تھے جب تک مجھے ہر چیز کڑوی لگ رہی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے دن چھوڑنے والا تھا اس کا کو حقیقت ا سے دن سب سے پیاری لگ رہی تھی

Zubair Ali Tabish

80 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

More from Mohammad Alvi

دھوپ نے گزارش کی ایک بوند بارش کی لو گلے پڑے کانٹے کیوں گلوں کی خواہش کی جگمگا اٹھے تارے بات تھی نمائش کی اک پتنگا اجرت تھی چھپکلی کی جنبش کی ہم توقع رکھتے ہیں اور حقیقت بھی بخشش کی لطف آ گیا تو علوی واہ خوب کوشش کی

Mohammad Alvi

3 likes

دن اک کے بعد ایک گزرنے ہوئے بھی دیکھ اک دن تو اپنے آپ کو مرتے ہوئے بھی دیکھ ہر سمے کھلتے پھول کی جانب تکا لگ کر مرجھا کے پتیوں کو بکھرتے ہوئے بھی دیکھ ہاں دیکھ برف گرتی ہوئی بال بال پر تپتے ہوئے خیال ٹھٹھرتے ہوئے بھی دیکھ اپنوں ہے وہ ہے وہ رہ کے ک سے لیے سہما ہوا ہے تو آ مجھ کو دشمنوں سے لگ ڈرتے ہوئے بھی دیکھ پیوند بادلوں کے لگے دیکھ جا بجا بگلوں کو آسمان کتھرتے ہوئے بھی دیکھ حیران مت ہوں چٹخے گی مچھلی کو دیکھ کر پانی ہے وہ ہے وہ روشنی کو اترتے ہوئے بھی دیکھ ا سے کو خبر نہیں ہے ابھی اپنے حسن کی آئی لگ دے کے بنتے سنورتے ہوئے بھی دیکھ دیکھا لگ ہوگا تو نے م گر انتظار ہے وہ ہے وہ ہے وہ چلتے ہوئے سمے کو ٹھہرتے ہوئے بھی دیکھ تعریف سن کے دوست سے علوی تو خوش لگ ہوں ا سے کو تری برائیاں کرتے ہوئے بھی دیکھ

Mohammad Alvi

5 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Mohammad Alvi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Mohammad Alvi's ghazal.