اے دل بے قرار چپ ہوں جا جا چکی ہے بہار چپ ہوں جا اب لگ آئیں گے روٹھنے والے دیدہ خوشی بار چپ ہوں جا جا چکا کارواں لالہ و گل اڑ رہا ہے غمدیدہ چپ ہوں جا چھوٹ جاتی ہے پھول سے خوشبو روٹھ جاتے ہیں یار چپ ہوں جا ہم فقیروں کا ا سے زمانے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون ہے غم گسار چپ ہوں جا حادثوں کی لگ آنکھ کھل جائے حسرت سوگوار چپ ہوں جا گیت کی قابو سے بھی اے میک اپ ٹوٹ جاتے ہیں تار چپ ہوں جا
Related Ghazal
خوشی ضائع ہوں رہے تھے دیکھ کر روتا لگ تھا ج سے جگہ بنتا تھا رونا ہے وہ ہے وہ و ہاں روتا لگ تھا صرف تیری چپ نے مری گال گیلے کر دیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو حقیقت ہوں جو کسی کی موت پر روتا لگ تھا مجھ پر کتنے احسان ہے گزرے پر ان آنکھوں کو کیا میرا دکھ یہ ہے کے میرا ہم سفر روتا لگ تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کے وصل ہے وہ ہے وہ بھی ہجر کٹا ہے کہی حقیقت مری کندھے پہ رکھ لیتا تھا سر روتا لگ تھا پیار تو پہلے بھی ا سے سے تھا م گر اتنا نہیں تب ہے وہ ہے وہ اس کا کو چھو تو لیتا تھا م گر روتا لگ تھا گر یوں جاری کو بھی ایک خاص موسم چاہیے مری آنکھیں دیکھ لو ہے وہ ہے وہ سمے پر روتا لگ تھا
Tehzeeb Hafi
85 likes
صرف خنجر ہی نہیں آنکھوں ہے وہ ہے وہ پانی چاہیے اے خدا دشمن بھی مجھ کو خاندانی چاہیے شہر کی ساری الف لیلائیں بوڑھی ہوں چکیں شہزادے کو کوئی تازہ کہانی چاہیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اے سورج تجھے پوجا نہیں سمجھا تو ہے مری حصے ہے وہ ہے وہ بھی تھوڑی دھوپ آنی چاہیے مری قیمت کون دے سکتا ہے ا سے بازار ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں زلیخا ہوں تمہیں قیمت لگانی چاہیے زندگی ہے اک سفر اور زندگی کی راہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی بھی آئی تو ٹھوکر لگانی چاہیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اپنی خشک آنکھوں سے لہو چھلکا دیا اک سمندر کہ رہا تھا مجھ کو پانی چاہیے
Rahat Indori
38 likes
रब्त है मुझ से तिरा तो रब्त का उनवान बोल या मुझे अंजान कह दे या फिर अपनी जान बोल एक ही चेहरा नज़र में और लबों पे इक ही नाम और क्या होती है सच्चे इश्क़ की पहचान बोल ? मैं अँगूठी बेच कर ले आया तेरी बालियाँ सूने-सूने देखता कब तक मैं तेरे कान बोल ये मुलायम हाथ मेरे काम कब आएँगे जाँ? कब बिछेगा इन से मेरे घर में दस्तर-ख़्वान बोल ? कब मिलेगी सुब्ह तुझ से चाय की प्याली मुझे? कब तेरे हाथों का खाऊँगा कोई पकवान बोल ? कब तिरे वालिद मिरे वालिद से मिलने आएँगे? कब तिरी अम्मी को बोलूँगा मैं अम्मी जान बोल? पूछते है सब तिरा मैं कौन हूँ क्या नाम है बोलने का वक़्त है अब, बोल मेरी जान बोल
Varun Anand
22 likes
سمندر الٹا سیدھا بولتا ہے سلیقے سے تو پیاسا بولتا ہے ی ہاں تو ا سے کا بڑھانے بولتا ہے و ہاں سر و ساماں حقیقت کیا بولتا ہے تمہارے ساتھ اڑانے بولتی ہے ہمارے ساتھ پنجرہ بولتا ہے نگاہیں کرتی رہ جاتی ہیں ہجے حقیقت جب چہرے سے املا بولتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ چپ رہتا ہوں اتنا بول کر بھی تو چپ رہ کر بھی کتنا بولتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر شاعر ہے وہ ہے وہ یہ بھی دیکھتا ہوں بنا مائک کے حقیقت کیا بولتا ہے
Fahmi Badayuni
40 likes
چنو ہر ذہن کو زنجیر سے ڈر لگتا ہے پیر و مرشد مجھے ہر پیر سے ڈر لگتا ہے مکتب فکر کی بہتات ج ہاں ہوتی ہے ترجمہ ٹھیک ہے تفسیر سے ڈر لگتا ہے ج سے ہے وہ ہے وہ تقدیر بدلنے کی سہولت لگ ملے ایسی لکھی ہوئی تقدیر سے ڈر لگتا ہے ج سے سے چپ چاپ ضمیر کو سلایا جائے ایسے کم ظرف کی تقدیر سے ڈر لگتا ہے
Khalil Ur Rehman Qamar
17 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Saghar Siddiqui.
Similar Moods
More moods that pair well with Saghar Siddiqui's ghazal.







