اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے م گر چراغ نے لو کو سنبھال رکھا ہے محبتوں ہے وہ ہے وہ تو ملنا ہے یا اجڑ جانا مزاج عشق ہے وہ ہے وہ کب اعتدال رکھا ہے ہوا ہے وہ ہے وہ نشہ ہی نشہ فضا ہے وہ ہے وہ رنگ ہی رنگ یہ ک سے نے پیرہن اپنا اچھال رکھا ہے بھلے دنوں کا بھروسا ہی کیا رہیں لگ رہیں سو ہے وہ ہے وہ نے رشتہ غم کو بحال رکھا ہے ہم ایسے سادہ دلوں کو حقیقت دوست ہوں کہ خدا سبھی نے وعدہ فردا پہ ٹال رکھا ہے حساب لطف حریفاں کیا ہے جب تو کھلا کہ دوستوں نے زیادہ خیال رکھا ہے بھری بہار ہے وہ ہے وہ اک شاخ پر کھلا ہے گلاب کہ چنو تو نے ہتھیلی پہ گال رکھا ہے فراز عشق کی دنیا تو خوبصورت تھی یہ ک سے نے فت لگ ہجر و وصال رکھا ہے
Related Ghazal
ا سے کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ جو خنجر ہے زیادہ تیز ہے اور پھروں بچپن سے ہی ا سے کا نشا لگ تیز ہے جب کبھی ا سے پار جانے کا خیال آتا مجھے کوئی آہستہ سے کہتا تھا کی دریا تیز ہے آج ملنا تھا بچھڑ جانے کی نیت سے ہمیں آج بھی حقیقت دیر سے پہنچا ہے کتنا تیز ہے اپنا سب کچھ ہار کے لوٹ آئی ہوں لگ مری پا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تمہیں کہتا بھی رہتا کی دنیا تیز ہے آج ا سے کے گال چومے ہیں تو اندازہ ہوا چائے اچھی ہے م گر تھوڑا سا میٹھا تیز ہے
Tehzeeb Hafi
220 likes
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو ا سے کے شہر ہے وہ ہے وہ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے ا سے کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز ا سے کی سو ہم بھی ا سے کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے تم تم بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں ا سے کی غزال سی آنکھیں سنا ہے ا سے کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکليں ا سے کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کی سیاہ چشمگی خوشگوار ہے سو ا سے کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئی لگ تمثال ہے جبیں ا سے
Ahmad Faraz
65 likes
کبھی کسی کو مکمل ج ہاں نہیں ملتا کہی زمین کہی آ سماں نہیں ملتا تمام شہر ہے وہ ہے وہ ایسا نہیں خلوص لگ ہوں ج ہاں امید ہوں ا سے کی و ہاں نہیں ملتا ک ہاں چراغ جلائیں ک ہاں گلاب رکھیں چھتیں تو ملتی ہیں لیکن مکان نہیں ملتا یہ کیا عذاب ہے سب اپنے آپ ہے وہ ہے وہ گم ہیں زبان ملی ہے م گر ہم زبان نہیں ملتا چراغ جلتے ہی بینائی بجھنے لگتی ہے خود اپنے گھر ہے وہ ہے وہ ہی گھر کا نشان نہیں ملتا
Nida Fazli
37 likes
شرمندگی ہے ہم کو بے حد ہم ملے تمہیں جاناں سر بسر خوشی تھے م گر غم ملے تمہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے آپ ہے وہ ہے وہ لگ ملا ا سے کا غم نہیں غم تو یہ ہے کہ جاناں بھی بے حد کم ملے تمہیں جاناں کو جہان شوق و تمنا ہے وہ ہے وہ کیا ملا ہم بھی ملے تو درہم و برہم ملے تمہیں یوں ہوں کہ اور ہی کوئی حوا ملے مجھے ہوں یوں کہ اور ہی کوئی آدم ملے تمہیں
Jaun Elia
50 likes
مجھ ایسے بے وجہ سے رشتہ نہیں نکال سکا حقیقت اپنے حسن کا صدقہ نہیں نکال سکا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مل رہا تھا اسے بعد ایک مدت کے سو ا سے سے کوئی بھی رشتہ نہیں نکال سکا تری لیے تو مجھے زندگی بھی کم تھی م گر مری لیے تو تو لمحہ نہیں نکال سکا تو دیکھ پائی نہیں مجھ کو ختم ہوتے ہوئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری آنکھ کا کچرا نہیں نکال سکا اک ایسی بات کا غصہ ہے مری لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت بات جس کا ہے وہ ہے وہ غصہ نہیں نکال سکا
Vikram Gaur Vairagi
33 likes
More from Ahmad Faraz
کروں لگ یاد م گر ک سے طرح بھلاؤں اسے غزل بہانا کروں اور گنگناؤں اسے حقیقت بچھاؤ بچھاؤ ہے شاخ گلاب کی مانند ہے وہ ہے وہ ہے وہ زخم زخم ہوں پھروں بھی گلے لگاؤں اسے یہ لوگ تذکرے کرتے ہیں اپنے لوگوں کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسے بات کروں اب ک ہاں سے لاؤں اسے م گر حقیقت زود فراموش زود رنج بھی ہے کہ روٹھ جائے ا گر یاد کچھ دلاؤں اسے وہی جو دولت دل ہے وہی جو راحت جاں تمہاری بات پہ اے ناصحوں گنواؤں اسے جو ہم سفر سر منزل بچھڑ رہا ہے فراز غضب نہیں ہے ا گر یاد بھی لگ آؤں اسے
Ahmad Faraz
3 likes
وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ اب تو ہم بات بھی کرتے نہیں غم خوار کے ساتھ ہم نے اک عمر بسر کی ہے غم یار کے ساتھ میر دو دن لگ جیے ہجر کے آزار کے ساتھ اب تو ہم گھر سے نکلتے ہیں تو رکھ دیتے ہیں طاق پر عزت سادات بھی دستار کے ساتھ ا سے دودمان خوف ہے اب شہر کی گلیوں ہے وہ ہے وہ کہ لوگ چاپ سنتے ہیں تو لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ ایک تو خواب لیے پھرتے ہوں گلیوں گلیوں ا سے پہ تکرار بھی کرتے ہوں خریدار کے ساتھ شہر کا شہر ہی ناصح ہوں تو کیا جون ایلیا ور لگ ہم رند تو بھیڑ جاتے ہیں دو چار کے ساتھ ہم کو ا سے شہر ہے وہ ہے وہ تعمیر کا سودا ہے ج ہاں لوگ معمار کو چن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ جو شرف ہم کو ملا کوچہ جاناں سے فراز سو مقتل بھی گئے ہیں اسی پندار کے ساتھ
Ahmad Faraz
3 likes
کیوں طبیعت کہی ٹھہرتی نہیں دوستی تو ادا سے کرتی نہیں ہم ہمیشہ کے سیر چشم صحیح تجھ کو دیکھیں تو آنکھ بھرتی نہیں شب ہجراں بھی روز بد کی طرح کٹ تو جاتی ہے پر گزرتی نہیں یہ محبت ہے سن زمانے سن اتنی آسانیاں سے مرتی نہیں ج سے طرح جاناں گزارتے ہوں فراز زندگی ا سے طرح گزرتی نہیں
Ahmad Faraz
6 likes
پھروں اسی رہ گزاری پر شاید ہم کبھی مل سکیں م گر شاید جن کے ہم منتظر رہے ان کو مل گئے اور ہم سفر شاید جان پہچان سے بھی کیا ہوگا پھروں بھی اے دوست غور کر شاید اجنبیت کی دھند چھٹ جائے چمک اٹھے تری نظر شاید زندگی بھر لہو رلائےگی یاد یاران بے خبر شاید جو بھی بچھڑے حقیقت کب ملے ہیں فراز پھروں بھی تو انتظار کر شاید
Ahmad Faraz
4 likes
کیا ایسے کم سخن سے کوئی گفتگو کرے جو مستقل سکوت سے دل کو لہو کرے اب تو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی ترک مراسم کا دکھ نہیں پر دل یہ چاہتا ہے کہ آغاز تو کرے تری بغیر بھی تو غنیمت ہے زندگی خود کو گنوا کے کون تری جستجو کرے اب تو یہ آرزو ہے کہ حقیقت زخم کھائیے تا زندگی یہ دل لگ کوئی آرزو کرے تجھ کو بھلا کے دل ہے حقیقت شرمندہ نظر اب کوئی حادثہ ہی تری رو برو کرے چپ چاپ اپنی آگ ہے وہ ہے وہ جلتے رہو فراز دنیا تو عرض حال سے بے آبرو کرے
Ahmad Faraz
8 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ahmad Faraz.
Similar Moods
More moods that pair well with Ahmad Faraz's ghazal.







