ghazalKuch Alfaaz

مجھ ایسے بے وجہ سے رشتہ نہیں نکال سکا حقیقت اپنے حسن کا صدقہ نہیں نکال سکا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مل رہا تھا اسے بعد ایک مدت کے سو ا سے سے کوئی بھی رشتہ نہیں نکال سکا تری لیے تو مجھے زندگی بھی کم تھی م گر مری لیے تو تو لمحہ نہیں نکال سکا تو دیکھ پائی نہیں مجھ کو ختم ہوتے ہوئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری آنکھ کا کچرا نہیں نکال سکا اک ایسی بات کا غصہ ہے مری لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت بات جس کا ہے وہ ہے وہ غصہ نہیں نکال سکا

Related Ghazal

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں

Ali Zaryoun

158 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

More from Vikram Gaur Vairagi

تری آگے ہے سب تجھ کو دکھائی دے رہا ہے تیرا غم خود ب خود مجھ کو رہائی دے رہا ہے مری سینے پہ سر رکھا ہے تو خاموش مت رہ مجھے بتلا تجھے جو بھی سنائی دے رہا ہے تیری غلطی ہے یہ ہرگز نہیں ہے تیری غلطی تیری غلطی ہے تو ا سے پر صفائی دے رہا ہے اندھیرا حقیقت کہ ج سے ہے وہ ہے وہ دیکھنا ممکن نہیں ہے م گر پھروں بھی اندھیرا کیوں دکھائی دے رہا ہے مجھے پوچھے بنا مجھ سے محبت کر رہا ہے مرض جانے بنا مجھ کو دوائی دے رہا ہے

Vikram Gaur Vairagi

18 likes

یہ شہزا گرا کی ایک ادا ہے کمی نہیں ہے حقیقت بولنے جب لگے تو پھروں سوچتی نہیں ہے کوئی جو پوچھے خاموش کیوں ہوں تو ہم بتائیں ہماری ناراضگی ہے یہ خموشی نہیں ہے خلا کا چہرہ مصوّر نے پرکھ لیا ہے پر ا سے کی تصویر ان سے اب تک بنی نہیں ہے کل ا سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ پھروں سے آنسو تھے مجھ کو لے کر تو آگ اب تک کچا رہی ہے بجھی نہیں ہے مجھہی کو محفل ہے وہ ہے وہ ڈھونڈنے حقیقت ہوا تھا داخل مجھہی پہ ا سے کی نگاہ اب تک پڑی نہیں ہے

Vikram Gaur Vairagi

21 likes

چہرہ دھندلا سا تھا اور سنہرے بالیاں تھے بادل نے کانوں ہے وہ ہے وہ چاند کے ٹکڑے پہنے تھے اک دوجے کو کھونے سے ہم اتنا ڈرتے تھے غصہ بھی ہوتے تو باتیں کرتے رہتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو سجدے ہے وہ ہے وہ تھا دیکھنے والے کہتے ہیں قاتل کی تلوار سے پہلے آنسو نکلے تھے

Vikram Gaur Vairagi

14 likes

جب بھی دیوا لگ کوئی راہ بھٹک جاتا ہے سب سے پہلے تو میرا آپ پہ شک جاتا ہے شرط پوری ہوں یہی جیت نہیں بے زبانوں ش یوں دھنوشت رام کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ چٹک جاتا ہے پہلے کہ دیتا ہے نبھائیے ہے وہ ہے وہ کوئی بات بری اور پھروں اپنے ہی نبھائیے پہ بھڑک جاتا ہے حقیقت بتاتے ہیں مجھے پینے پلانے کا شعور جن سے نہشے ہے وہ ہے وہ ابھی جام چھلک جاتا ہے آپ کے شہر کے عاشق بھی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سنتے ہیں ا سے طرف بھی اسی دریا کا نمک جاتا ہے

Vikram Gaur Vairagi

19 likes

کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے

Vikram Gaur Vairagi

70 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Vikram Gaur Vairagi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Vikram Gaur Vairagi's ghazal.