ghazalKuch Alfaaz

چہرہ دھندلا سا تھا اور سنہرے بالیاں تھے بادل نے کانوں ہے وہ ہے وہ چاند کے ٹکڑے پہنے تھے اک دوجے کو کھونے سے ہم اتنا ڈرتے تھے غصہ بھی ہوتے تو باتیں کرتے رہتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو سجدے ہے وہ ہے وہ تھا دیکھنے والے کہتے ہیں قاتل کی تلوار سے پہلے آنسو نکلے تھے

Related Ghazal

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

سارے منظر دلکش تھے ہر بات سہانی لگتی تھی جیون کی ہر شام ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب ایک کہانی لگتی تھی ج سے کا چاند سا چہرہ تھا اور زلف سنہری بادل سی مست ہوا کا آنچل تھامے ایک دیوانی لگتی تھی اپنے خواب نئے لگتے تھے اور پھروں ان کے آگے سب دنیا اور زمانے کی ہر بات پرانی لگتی تھی پیار کے موسم کی خوشبو سے غنچہ غنچہ مہکا تھا مہکی مہکی دنیا ساری رات کی رانی لگتی تھی لمحوں کے رنگین غبارے ہاتھ سے چھوٹے جاتے تھے موسم دکھ کا درد کی رت سب آنی جانی لگتی تھی قو سے قزح کی بارش ہے وہ ہے وہ یہ جذبوں کی منا زور ہوا موج اڑاتے بل کھاتے دریا کی روانی لگتی تھی اب دیکھیں تو دور کہی پر یادوں کی پھلواری ہے وہ ہے وہ ہے وہ رنگوں سے بھرپور فضا تھی جو لا فانی لگتی تھی

Farah Iqbal

7 likes

تیرا چہرہ تری ہونٹ اور پلکیں دیکھیں دل پہ آنکھیں رکھے تیری سانسیں دیکھیں مری مالک آپ تو ایسا کر سکتے ہیں ساتھ چلے ہم اور دنیا کی آنکھیں دیکھیں سال ہونے کو آیا ہے حقیقت کب لوٹےگا آؤ کھیت کی سیر کو نکلے کنجیں دیکھیں ہم تری ہونٹوں کو لرزش کب بھولیں ہیں پانی ہے وہ ہے وہ پتھر پھینکیں اور لہریں دیکھیں

Tehzeeb Hafi

57 likes

کچھ پتا ہی نہیں چل رہا زندگی ک سے طرف جا رہی ہے تیرا گھر ک سے طرف ہے م گر یہ گلی ک سے طرف جا رہی ہے ایک چہرہ اچانک چمکنے لگا ہے مضافات ہے وہ ہے وہ ہے وہ چاند کو بھی پتا ہے مری روشنی ک سے طرف جا رہی ہے باغ سے کچھ مقدم ہمارا بھی تھا اب نہیں ہے تو کیا جانتے ہے یہ پھولوں بھری ٹوکری ک سے طرف جا رہی ہے

Zahid Bashir

8 likes

دیکھ رہا ہے کس کا چہرہ آگے بڑھ مل جائےگا تجھ کو رستہ آگے بڑھ بیٹھے بیٹھے کیول اتنا ملتا ہے جتنا چھوڑے آگے والا آگے بڑھ ا سے رن ہے وہ ہے وہ جے اور پراجے مری ہے تو گانڈیؤ اٹھا کر حملہ آگے بڑھ معصوموں کی بھوک کی قیمت کیا ہوں گی دو گالی روپیہ اور تانا آگے بڑھ بھیگی آنکھیں ٹوٹا دل اور چلانا صدیوں کا یہ کھیل پرانا آگے بڑھ طوفاں بجلی اور بونڈر تو ہوں گے ہمت سے ب سے ناو چلانا آگے بڑھ

Divy Kamaldhwaj

10 likes

More from Vikram Gaur Vairagi

جب بھی دیوا لگ کوئی راہ بھٹک جاتا ہے سب سے پہلے تو میرا آپ پہ شک جاتا ہے شرط پوری ہوں یہی جیت نہیں بے زبانوں ش یوں دھنوشت رام کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ چٹک جاتا ہے پہلے کہ دیتا ہے نبھائیے ہے وہ ہے وہ کوئی بات بری اور پھروں اپنے ہی نبھائیے پہ بھڑک جاتا ہے حقیقت بتاتے ہیں مجھے پینے پلانے کا شعور جن سے نہشے ہے وہ ہے وہ ابھی جام چھلک جاتا ہے آپ کے شہر کے عاشق بھی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سنتے ہیں ا سے طرف بھی اسی دریا کا نمک جاتا ہے

Vikram Gaur Vairagi

19 likes

تری آگے ہے سب تجھ کو دکھائی دے رہا ہے تیرا غم خود ب خود مجھ کو رہائی دے رہا ہے مری سینے پہ سر رکھا ہے تو خاموش مت رہ مجھے بتلا تجھے جو بھی سنائی دے رہا ہے تیری غلطی ہے یہ ہرگز نہیں ہے تیری غلطی تیری غلطی ہے تو ا سے پر صفائی دے رہا ہے اندھیرا حقیقت کہ ج سے ہے وہ ہے وہ دیکھنا ممکن نہیں ہے م گر پھروں بھی اندھیرا کیوں دکھائی دے رہا ہے مجھے پوچھے بنا مجھ سے محبت کر رہا ہے مرض جانے بنا مجھ کو دوائی دے رہا ہے

Vikram Gaur Vairagi

18 likes

ہے وہ ہے وہ راہ جنت کا اصل نقشہ چرا رہا تھا سو انگلیوں کو تری لبوں پر پھرا رہا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے لیے بھی سر اپنا ہاں ہے وہ ہے وہ ہلا رہا تھا مجھے پتا ہے تو صرف باتیں بنا رہا تھا بچھڑ کے ہم سے ہماری غلطی گنا رہا تھا ہمارا غم تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو آنکھیں دکھا رہا تھا حقیقت خود کو دنیا کا ایک حصہ بنا چکی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے حصے کا پیار ج سے پر لٹا رہا تھا تمہیں نے جانے کو کہ دیا ہے تمہیں کہوگے اسے بلاؤ حقیقت شعر اچھے سنا رہا تھا

Vikram Gaur Vairagi

29 likes

یہ شہزا گرا کی ایک ادا ہے کمی نہیں ہے حقیقت بولنے جب لگے تو پھروں سوچتی نہیں ہے کوئی جو پوچھے خاموش کیوں ہوں تو ہم بتائیں ہماری ناراضگی ہے یہ خموشی نہیں ہے خلا کا چہرہ مصوّر نے پرکھ لیا ہے پر ا سے کی تصویر ان سے اب تک بنی نہیں ہے کل ا سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ پھروں سے آنسو تھے مجھ کو لے کر تو آگ اب تک کچا رہی ہے بجھی نہیں ہے مجھہی کو محفل ہے وہ ہے وہ ڈھونڈنے حقیقت ہوا تھا داخل مجھہی پہ ا سے کی نگاہ اب تک پڑی نہیں ہے

Vikram Gaur Vairagi

21 likes

مجھ ایسے بے وجہ سے رشتہ نہیں نکال سکا حقیقت اپنے حسن کا صدقہ نہیں نکال سکا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مل رہا تھا اسے بعد ایک مدت کے سو ا سے سے کوئی بھی رشتہ نہیں نکال سکا تری لیے تو مجھے زندگی بھی کم تھی م گر مری لیے تو تو لمحہ نہیں نکال سکا تو دیکھ پائی نہیں مجھ کو ختم ہوتے ہوئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری آنکھ کا کچرا نہیں نکال سکا اک ایسی بات کا غصہ ہے مری لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت بات جس کا ہے وہ ہے وہ غصہ نہیں نکال سکا

Vikram Gaur Vairagi

33 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Vikram Gaur Vairagi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Vikram Gaur Vairagi's ghazal.