تری آگے ہے سب تجھ کو دکھائی دے رہا ہے تیرا غم خود ب خود مجھ کو رہائی دے رہا ہے مری سینے پہ سر رکھا ہے تو خاموش مت رہ مجھے بتلا تجھے جو بھی سنائی دے رہا ہے تیری غلطی ہے یہ ہرگز نہیں ہے تیری غلطی تیری غلطی ہے تو ا سے پر صفائی دے رہا ہے اندھیرا حقیقت کہ ج سے ہے وہ ہے وہ دیکھنا ممکن نہیں ہے م گر پھروں بھی اندھیرا کیوں دکھائی دے رہا ہے مجھے پوچھے بنا مجھ سے محبت کر رہا ہے مرض جانے بنا مجھ کو دوائی دے رہا ہے
Related Ghazal
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
بات کرنی ہے بات کون کرے درد سے دو دو ہاتھ کون کرے ہم ستارے تم تمہیں بلاتے ہیں چاند لگ ہوں تو رات کون کرے اب تجھے رب کہی یا بت سمجھیں عشق ہے وہ ہے وہ ذات پات کون کرے زندگی بھر کی تھے کمائی جاناں ا سے سے زیادہ زکات کون کرے
Kumar Vishwas
56 likes
अब के हम बिछड़े तो शायद कभी ख़्वाबों में मिलें जिस तरह सूखे हुए फूल किताबों में मिलें ढूँढ़ उजड़े हुए लोगों में वफ़ा के मोती ये ख़ज़ाने तुझे मुमकिन है ख़राबों में मिलें ग़म-ए-दुनिया भी ग़म-ए-यार में शामिल कर लो नशा बढ़ता है शराबें जो शराबों में मिलें तू ख़ुदा है न मिरा इश्क़ फ़रिश्तों जैसा दोनों इंसाँ हैं तो क्यूँँ इतने हिजाबों में मिलें आज हम दार पे खींचे गए जिन बातों पर क्या अजब कल वो ज़माने को निसाबों में मिलें अब न वो मैं न वो तू है न वो माज़ी है 'फ़राज़' जैसे दो शख़्स तमन्ना के सराबों में मिलें
Ahmad Faraz
130 likes
زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے
Rahat Indori
190 likes
More from Vikram Gaur Vairagi
یہ شہزا گرا کی ایک ادا ہے کمی نہیں ہے حقیقت بولنے جب لگے تو پھروں سوچتی نہیں ہے کوئی جو پوچھے خاموش کیوں ہوں تو ہم بتائیں ہماری ناراضگی ہے یہ خموشی نہیں ہے خلا کا چہرہ مصوّر نے پرکھ لیا ہے پر ا سے کی تصویر ان سے اب تک بنی نہیں ہے کل ا سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ پھروں سے آنسو تھے مجھ کو لے کر تو آگ اب تک کچا رہی ہے بجھی نہیں ہے مجھہی کو محفل ہے وہ ہے وہ ڈھونڈنے حقیقت ہوا تھا داخل مجھہی پہ ا سے کی نگاہ اب تک پڑی نہیں ہے
Vikram Gaur Vairagi
21 likes
جب بھی دیوا لگ کوئی راہ بھٹک جاتا ہے سب سے پہلے تو میرا آپ پہ شک جاتا ہے شرط پوری ہوں یہی جیت نہیں بے زبانوں ش یوں دھنوشت رام کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ چٹک جاتا ہے پہلے کہ دیتا ہے نبھائیے ہے وہ ہے وہ کوئی بات بری اور پھروں اپنے ہی نبھائیے پہ بھڑک جاتا ہے حقیقت بتاتے ہیں مجھے پینے پلانے کا شعور جن سے نہشے ہے وہ ہے وہ ابھی جام چھلک جاتا ہے آپ کے شہر کے عاشق بھی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سنتے ہیں ا سے طرف بھی اسی دریا کا نمک جاتا ہے
Vikram Gaur Vairagi
19 likes
چہرہ دھندلا سا تھا اور سنہرے بالیاں تھے بادل نے کانوں ہے وہ ہے وہ چاند کے ٹکڑے پہنے تھے اک دوجے کو کھونے سے ہم اتنا ڈرتے تھے غصہ بھی ہوتے تو باتیں کرتے رہتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو سجدے ہے وہ ہے وہ تھا دیکھنے والے کہتے ہیں قاتل کی تلوار سے پہلے آنسو نکلے تھے
Vikram Gaur Vairagi
14 likes
ہے وہ ہے وہ راہ جنت کا اصل نقشہ چرا رہا تھا سو انگلیوں کو تری لبوں پر پھرا رہا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے لیے بھی سر اپنا ہاں ہے وہ ہے وہ ہلا رہا تھا مجھے پتا ہے تو صرف باتیں بنا رہا تھا بچھڑ کے ہم سے ہماری غلطی گنا رہا تھا ہمارا غم تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو آنکھیں دکھا رہا تھا حقیقت خود کو دنیا کا ایک حصہ بنا چکی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے حصے کا پیار ج سے پر لٹا رہا تھا تمہیں نے جانے کو کہ دیا ہے تمہیں کہوگے اسے بلاؤ حقیقت شعر اچھے سنا رہا تھا
Vikram Gaur Vairagi
29 likes
کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے
Vikram Gaur Vairagi
70 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Vikram Gaur Vairagi.
Similar Moods
More moods that pair well with Vikram Gaur Vairagi's ghazal.







