ghazalKuch Alfaaz

یہ شہزا گرا کی ایک ادا ہے کمی نہیں ہے حقیقت بولنے جب لگے تو پھروں سوچتی نہیں ہے کوئی جو پوچھے خاموش کیوں ہوں تو ہم بتائیں ہماری ناراضگی ہے یہ خموشی نہیں ہے خلا کا چہرہ مصوّر نے پرکھ لیا ہے پر ا سے کی تصویر ان سے اب تک بنی نہیں ہے کل ا سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ پھروں سے آنسو تھے مجھ کو لے کر تو آگ اب تک کچا رہی ہے بجھی نہیں ہے مجھہی کو محفل ہے وہ ہے وہ ڈھونڈنے حقیقت ہوا تھا داخل مجھہی پہ ا سے کی نگاہ اب تک پڑی نہیں ہے

Related Ghazal

تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں

Dagh Dehlvi

84 likes

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

تری پیچھے ہوں گی دنیا پاگل بن کیا بولا ہے وہ ہے وہ نے کچھ سمجھا پاگل بن صحرا ہے وہ ہے وہ بھی ڈھونڈ لے دریا پاگل بن ورنا مر جائےگا پیاسا پاگل بن آدھا دا لگ آدھا پاگل نہیں نہیں نہیں اس کا کا کو پانا ہے تو پورا پاگل بن دانائی دکھلانے سے کچھ حاصل نہیں پاگل خا لگ ہے یہ دنیا پاگل بن دیکھیں تجھ کو لوگ تو پاگل ہوں جائیں اتنا عمدہ اتنا اعلیٰ پاگل بن لوگوں سے ڈر لگتا ہے تو گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھ ج ہنستے ہے تو مری جیسا پاگل بن

Varun Anand

81 likes

آنکھ کو آئی لگ سمجھتے ہوں جاناں بھی سب کی طرح سمجھتے ہوں دوست اب کیوں نہیں سمجھتے جاناں جاناں تو کہتے تھے نا سمجھتے ہوں اپنا غم جاناں کو کیسے سمجھاؤں سب سے ہارا ہوا سمجھتے ہوں مری دنیا اجڑ گئی ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں اسے حادثہ سمجھتے ہوں آخری راستہ تو باقی ہے آخری راستہ سمجھتے ہوں

Himanshi babra KATIB

76 likes

More from Vikram Gaur Vairagi

جب بھی دیوا لگ کوئی راہ بھٹک جاتا ہے سب سے پہلے تو میرا آپ پہ شک جاتا ہے شرط پوری ہوں یہی جیت نہیں بے زبانوں ش یوں دھنوشت رام کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ چٹک جاتا ہے پہلے کہ دیتا ہے نبھائیے ہے وہ ہے وہ کوئی بات بری اور پھروں اپنے ہی نبھائیے پہ بھڑک جاتا ہے حقیقت بتاتے ہیں مجھے پینے پلانے کا شعور جن سے نہشے ہے وہ ہے وہ ابھی جام چھلک جاتا ہے آپ کے شہر کے عاشق بھی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سنتے ہیں ا سے طرف بھی اسی دریا کا نمک جاتا ہے

Vikram Gaur Vairagi

19 likes

تری آگے ہے سب تجھ کو دکھائی دے رہا ہے تیرا غم خود ب خود مجھ کو رہائی دے رہا ہے مری سینے پہ سر رکھا ہے تو خاموش مت رہ مجھے بتلا تجھے جو بھی سنائی دے رہا ہے تیری غلطی ہے یہ ہرگز نہیں ہے تیری غلطی تیری غلطی ہے تو ا سے پر صفائی دے رہا ہے اندھیرا حقیقت کہ ج سے ہے وہ ہے وہ دیکھنا ممکن نہیں ہے م گر پھروں بھی اندھیرا کیوں دکھائی دے رہا ہے مجھے پوچھے بنا مجھ سے محبت کر رہا ہے مرض جانے بنا مجھ کو دوائی دے رہا ہے

Vikram Gaur Vairagi

18 likes

چہرہ دھندلا سا تھا اور سنہرے بالیاں تھے بادل نے کانوں ہے وہ ہے وہ چاند کے ٹکڑے پہنے تھے اک دوجے کو کھونے سے ہم اتنا ڈرتے تھے غصہ بھی ہوتے تو باتیں کرتے رہتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو سجدے ہے وہ ہے وہ تھا دیکھنے والے کہتے ہیں قاتل کی تلوار سے پہلے آنسو نکلے تھے

Vikram Gaur Vairagi

14 likes

ہے وہ ہے وہ راہ جنت کا اصل نقشہ چرا رہا تھا سو انگلیوں کو تری لبوں پر پھرا رہا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے لیے بھی سر اپنا ہاں ہے وہ ہے وہ ہلا رہا تھا مجھے پتا ہے تو صرف باتیں بنا رہا تھا بچھڑ کے ہم سے ہماری غلطی گنا رہا تھا ہمارا غم تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو آنکھیں دکھا رہا تھا حقیقت خود کو دنیا کا ایک حصہ بنا چکی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے حصے کا پیار ج سے پر لٹا رہا تھا تمہیں نے جانے کو کہ دیا ہے تمہیں کہوگے اسے بلاؤ حقیقت شعر اچھے سنا رہا تھا

Vikram Gaur Vairagi

29 likes

مجھ ایسے بے وجہ سے رشتہ نہیں نکال سکا حقیقت اپنے حسن کا صدقہ نہیں نکال سکا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مل رہا تھا اسے بعد ایک مدت کے سو ا سے سے کوئی بھی رشتہ نہیں نکال سکا تری لیے تو مجھے زندگی بھی کم تھی م گر مری لیے تو تو لمحہ نہیں نکال سکا تو دیکھ پائی نہیں مجھ کو ختم ہوتے ہوئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری آنکھ کا کچرا نہیں نکال سکا اک ایسی بات کا غصہ ہے مری لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت بات جس کا ہے وہ ہے وہ غصہ نہیں نکال سکا

Vikram Gaur Vairagi

33 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Vikram Gaur Vairagi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Vikram Gaur Vairagi's ghazal.