ghazalKuch Alfaaz

جب بھی دیوا لگ کوئی راہ بھٹک جاتا ہے سب سے پہلے تو میرا آپ پہ شک جاتا ہے شرط پوری ہوں یہی جیت نہیں بے زبانوں ش یوں دھنوشت رام کے ہاتھوں ہے وہ ہے وہ چٹک جاتا ہے پہلے کہ دیتا ہے نبھائیے ہے وہ ہے وہ کوئی بات بری اور پھروں اپنے ہی نبھائیے پہ بھڑک جاتا ہے حقیقت بتاتے ہیں مجھے پینے پلانے کا شعور جن سے نہشے ہے وہ ہے وہ ابھی جام چھلک جاتا ہے آپ کے شہر کے عاشق بھی ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ سنتے ہیں ا سے طرف بھی اسی دریا کا نمک جاتا ہے

Related Ghazal

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

More from Vikram Gaur Vairagi

تری آگے ہے سب تجھ کو دکھائی دے رہا ہے تیرا غم خود ب خود مجھ کو رہائی دے رہا ہے مری سینے پہ سر رکھا ہے تو خاموش مت رہ مجھے بتلا تجھے جو بھی سنائی دے رہا ہے تیری غلطی ہے یہ ہرگز نہیں ہے تیری غلطی تیری غلطی ہے تو ا سے پر صفائی دے رہا ہے اندھیرا حقیقت کہ ج سے ہے وہ ہے وہ دیکھنا ممکن نہیں ہے م گر پھروں بھی اندھیرا کیوں دکھائی دے رہا ہے مجھے پوچھے بنا مجھ سے محبت کر رہا ہے مرض جانے بنا مجھ کو دوائی دے رہا ہے

Vikram Gaur Vairagi

18 likes

یہ شہزا گرا کی ایک ادا ہے کمی نہیں ہے حقیقت بولنے جب لگے تو پھروں سوچتی نہیں ہے کوئی جو پوچھے خاموش کیوں ہوں تو ہم بتائیں ہماری ناراضگی ہے یہ خموشی نہیں ہے خلا کا چہرہ مصوّر نے پرکھ لیا ہے پر ا سے کی تصویر ان سے اب تک بنی نہیں ہے کل ا سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ پھروں سے آنسو تھے مجھ کو لے کر تو آگ اب تک کچا رہی ہے بجھی نہیں ہے مجھہی کو محفل ہے وہ ہے وہ ڈھونڈنے حقیقت ہوا تھا داخل مجھہی پہ ا سے کی نگاہ اب تک پڑی نہیں ہے

Vikram Gaur Vairagi

21 likes

ہے وہ ہے وہ راہ جنت کا اصل نقشہ چرا رہا تھا سو انگلیوں کو تری لبوں پر پھرا رہا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے لیے بھی سر اپنا ہاں ہے وہ ہے وہ ہلا رہا تھا مجھے پتا ہے تو صرف باتیں بنا رہا تھا بچھڑ کے ہم سے ہماری غلطی گنا رہا تھا ہمارا غم تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کو آنکھیں دکھا رہا تھا حقیقت خود کو دنیا کا ایک حصہ بنا چکی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے حصے کا پیار ج سے پر لٹا رہا تھا تمہیں نے جانے کو کہ دیا ہے تمہیں کہوگے اسے بلاؤ حقیقت شعر اچھے سنا رہا تھا

Vikram Gaur Vairagi

29 likes

چہرہ دھندلا سا تھا اور سنہرے بالیاں تھے بادل نے کانوں ہے وہ ہے وہ چاند کے ٹکڑے پہنے تھے اک دوجے کو کھونے سے ہم اتنا ڈرتے تھے غصہ بھی ہوتے تو باتیں کرتے رہتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو سجدے ہے وہ ہے وہ تھا دیکھنے والے کہتے ہیں قاتل کی تلوار سے پہلے آنسو نکلے تھے

Vikram Gaur Vairagi

14 likes

کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے

Vikram Gaur Vairagi

70 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Vikram Gaur Vairagi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Vikram Gaur Vairagi's ghazal.