ai khuda-e-junun khuda-hafiz bandagi ke fusun khuda-hafiz jin labon se tumhen diya bosa kaise un se kahun khuda-hafiz zahiran ek lams tha us ka zakhm-ha-e-darun khuda-hafiz chashm-e-nam ki hava mubarak ho ai mire dil ke khuun khuda-hafiz tera jaana ajiib lagta tha ab himayat men huun khuda-hafiz halat-e-raqs men hai thahrav iztirab-o-sukun khuda-hafiz tum mujhe sun ke an-suni karna laakh kahta rahun khuda-hafiz main mohabbat ki aankh se nikla akhiri ashk huun khuda-hafiz ai khuda-e-junun khuda-hafiz bandagi ke fusun khuda-hafiz jin labon se tumhein diya bosa kaise un se kahun khuda-hafiz zahiran ek lams tha us ka zakhm-ha-e-darun khuda-hafiz chashm-e-nam ki hawa mubarak ho ai mere dil ke khun khuda-hafiz tera jaana ajib lagta tha ab himayat mein hun khuda-hafiz haalat-e-raqs mein hai thahraw iztirab-o-sukun khuda-hafiz tum mujhe sun ke an-suni karna lakh kahta rahun khuda-hafiz main mohabbat ki aankh se nikla aakhiri ashk hun khuda-hafiz
Related Ghazal
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں
Dagh Dehlvi
84 likes
روح جسم کا ٹھور ہری چلتا رہتا ہے جینا مرنا کھونا پانا چلتا رہتا ہے سکھ دکھ والی چادر گھٹتی بڑھتی رہتی ہے مولا تیرا تانا وانا چلتا رہتا ہے عشق کروں تو جیتے جی مر جانا پڑتا ہے مر کر بھی لیکن جرمانا چلتا رہتا ہے جن دی نے کام دلایا غزلیں کہنے کا آج تلک ان کو نذرا لگ چلتا رہتا ہے
Kumar Vishwas
28 likes
ادا سے لڑ کیوں سے رابطہ نبھاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک پھول ہوں جو تتلیاں بچاتا ہوں جی ہے وہ ہے وہ ہی عشق ہے وہ ہے وہ ہارے ہوؤں کا مرشد ہوں جی ہے وہ ہے وہ ہی ہر ص گرا ہے وہ ہے وہ قی سے بن کے آتا ہوں ستائی ہوتی ہیں جو آپ کے سمندر کی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایسی مچھلیوں کے ساتھ گوٹے تقاضا ہوں کسی کے واسطے کانٹے نہیں بچھاتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ م گر یوں بھی نہیں کے کانٹوں کو ہٹاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ موسمی ہنسی کا مارا ہوں کہ کوئی دن ہے وہ ہے وہ ہے وہ سال بھر ہے وہ ہے وہ کوئی دن ہی مسکراتا ہوں بدن بھی آتے ہیں اور ہچکیاں بھی آتی ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جن کو بھول گیا تو ان کو یاد آتا ہوں نبھانے جیسا تو کچھ بھی نہیں ہے ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ م گر حقیقت مر لگ جائے کہی ا سے لیے نبھاتا ہوں
Rishabh Sharma
19 likes
جو بات کہتے ڈرتے ہیں سب تو حقیقت بات لکھ اتنی اندھیری تھی لگ کبھی پہلے رات لکھ جن سے قصیدے لکھے تھے حقیقت پھینک دے پھروں خون دل سے سچے کی صفات لکھ جو روزناموں ہے وہ ہے وہ کہی پاتی نہیں جگہ جو روز ہر جگہ کی ہے حقیقت واردات لکھ جتنے بھی تنگ دائرے ہیں سارے توڑ دے اب آ کھلی فضاؤں ہے وہ ہے وہ اب کائنات لکھ جو واقعات ہوں گئے ان کا تو ذکر ہے لیکن جو ہونے چاہیے حقیقت واقعات لکھ ا سے باغ ہے وہ ہے وہ جو دیکھنی ہے تجھ کو پھروں بہار تو ڈال ڈال سے صدا تو پات پات لکھ
Javed Akhtar
16 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ikram Basra.
Similar Moods
More moods that pair well with Ikram Basra's ghazal.







