ghazalKuch Alfaaz

ادا سے لڑ کیوں سے رابطہ نبھاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک پھول ہوں جو تتلیاں بچاتا ہوں جی ہے وہ ہے وہ ہی عشق ہے وہ ہے وہ ہارے ہوؤں کا مرشد ہوں جی ہے وہ ہے وہ ہی ہر ص گرا ہے وہ ہے وہ قی سے بن کے آتا ہوں ستائی ہوتی ہیں جو آپ کے سمندر کی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایسی مچھلیوں کے ساتھ گوٹے تقاضا ہوں کسی کے واسطے کانٹے نہیں بچھاتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ م گر یوں بھی نہیں کے کانٹوں کو ہٹاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ موسمی ہنسی کا مارا ہوں کہ کوئی دن ہے وہ ہے وہ ہے وہ سال بھر ہے وہ ہے وہ کوئی دن ہی مسکراتا ہوں بدن بھی آتے ہیں اور ہچکیاں بھی آتی ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جن کو بھول گیا تو ان کو یاد آتا ہوں نبھانے جیسا تو کچھ بھی نہیں ہے ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ م گر حقیقت مر لگ جائے کہی ا سے لیے نبھاتا ہوں

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا

Hasan Abbasi

235 likes

More from Rishabh Sharma

سارا سامان لیے گھر سے نکل آئی ہے فون پر فون لگاتی ہوئی تنہائی ہے یاد آنے لگے ہیں لوگ مجھے گزرے ہوئے دوست کیا تو نے مری جھوٹی قسم کھائی ہے اپنی دنیا ہے وہ ہے وہ مگن رہنا اسے کہتے ہیں اک پلاسٹر جھڑی دیوار پہ جو کائی ہے بات جو دل پہ لگی ہے حقیقت کوئی بات نہیں سر کے اوپر سے گئی بات ہے وہ ہے وہ گہرائی ہے ا سے کے پہلو ہے وہ ہے وہ بھلا سوچتا ہوں کیا کیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خواب ہے وہ ہے وہ آ گیا تو ہوں نیند نہیں آئی ہے

Rishabh Sharma

18 likes

جو کہ ہوتے ہوئے آزار بے حد ہوتا ہے بعد ہونے کے مزیدار بے حد ہوتا ہے دن بدلنے کے لیے خود کشی کرنے کے لیے ایک ہی بے وجہ کا انکار بے حد ہوتا ہے بھاگنے والے کو دنیا بھی بے حد چھوٹی ہے گھومنے والے کو بازار بے حد ہوتا ہے ج سے نے بھیجا ہے تمہیں جا کے اسے کہنا جاناں لاکھ پیادوں ہے وہ ہے وہ بھی سالار بے حد ہوتا ہے جنگ ہر چیز کو ہتھیار بنا دیتی ہے بچے کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ پرکار بے حد ہوتا ہے چھت سے چھت والوں ہے وہ ہے وہ دیوار کھڑی کرنے کو ان کے بچوں ہے وہ ہے وہ ہوا پیار بے حد ہوتا ہے

Rishabh Sharma

18 likes

کیا دوست محبت کا نیم کچھ نہیں ہوتا کھا لیتے ہیں سب جھوٹی قسم کچھ نہیں ہوتا وہ پردہ خود کشی پوچھتی رہتی ہے مجھے روز کیا واقعی میں اگلا جنم کچھ نہیں ہوتا پروت کے مہانے پہ کھڑا سوچ رہا ہوں کس نے کہا تھا ایک قدم کچھ نہیں ہوتا اور واقعہ مشہور تھا جس پیڑ کو لے کر اس پیڑ پہ لکھا تھا بھرم کچھ نہیں ہوتا وہ روشنی کے دن تھے رشبھ شرما تیرے ساتھ جب تو ہمیں سمجھاتا تھا غم کچھ نہیں ہوتا

Rishabh Sharma

18 likes

پرائے شہر ہے وہ ہے وہ اک دوست کی جگہ تھی حقیقت کہ سکھ ہے وہ ہے وہ جسم تھی اور دکھ ہے وہ ہے وہ مسخرا تھی حقیقت حقیقت لڑ جھگڑ کے مری پا سے لوٹ آتی تھی پہاڑوں پر سے کوئی دی ہوئی صدا تھی حقیقت غنیم لڑ کیوں کے دل جو ہے وہ ہے وہ نے گرفت تھے انہی کی بھیجی ہوئی ایک بد دعا تھی حقیقت

Rishabh Sharma

13 likes

کسی کے ساتھ ہوں پر ہوں کسی کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دھول جھونکتا ہوں زندگی کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بچھڑ کے مجھ سے حقیقت خود کو تلاش کرنے لگی تلاش بھی کسی اور آدمی کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کھلے کانسا کے تلے ناچنے کا من ہے ب سے کسی کا خواب نہیں مورنی کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ

Rishabh Sharma

12 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Rishabh Sharma.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Rishabh Sharma's ghazal.