پرائے شہر ہے وہ ہے وہ اک دوست کی جگہ تھی حقیقت کہ سکھ ہے وہ ہے وہ جسم تھی اور دکھ ہے وہ ہے وہ مسخرا تھی حقیقت حقیقت لڑ جھگڑ کے مری پا سے لوٹ آتی تھی پہاڑوں پر سے کوئی دی ہوئی صدا تھی حقیقت غنیم لڑ کیوں کے دل جو ہے وہ ہے وہ نے گرفت تھے انہی کی بھیجی ہوئی ایک بد دعا تھی حقیقت
Related Ghazal
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ حقیقت ہوں گے جو ا سے کو بھاتے ہوں گے شام ہوئے خوش باش ی ہاں کے مری پا سے آ جاتے ہیں مری بجھنے کا نہظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے حقیقت جو لگ آنے والا ہے نا ا سے سے مجھ کو زار تھا آنے والوں سے کیا زار آتے ہیں آتے ہوں گے ا سے کی یاد کی باد صبا ہے وہ ہے وہ اور تو کیا ہوتا ہوگا یوںہی مری بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے یاروں کچھ تو ذکر کروں جاناں ا سے کی خوشگوار بان ہوں کا حقیقت جو سمٹتے ہوں گے ان ہے وہ ہے وہ حقیقت تو مر جاتے ہوں گے میرا سان سے اکھڑتے ہی سب بین کریںگے روئیںگے زبان مری بعد بھی زبان سان سے لیے جاتے ہوں گے
Jaun Elia
88 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
More from Rishabh Sharma
جو کہ ہوتے ہوئے آزار بے حد ہوتا ہے بعد ہونے کے مزیدار بے حد ہوتا ہے دن بدلنے کے لیے خود کشی کرنے کے لیے ایک ہی بے وجہ کا انکار بے حد ہوتا ہے بھاگنے والے کو دنیا بھی بے حد چھوٹی ہے گھومنے والے کو بازار بے حد ہوتا ہے ج سے نے بھیجا ہے تمہیں جا کے اسے کہنا جاناں لاکھ پیادوں ہے وہ ہے وہ بھی سالار بے حد ہوتا ہے جنگ ہر چیز کو ہتھیار بنا دیتی ہے بچے کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ پرکار بے حد ہوتا ہے چھت سے چھت والوں ہے وہ ہے وہ دیوار کھڑی کرنے کو ان کے بچوں ہے وہ ہے وہ ہوا پیار بے حد ہوتا ہے
Rishabh Sharma
18 likes
ادا سے لڑ کیوں سے رابطہ نبھاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک پھول ہوں جو تتلیاں بچاتا ہوں جی ہے وہ ہے وہ ہی عشق ہے وہ ہے وہ ہارے ہوؤں کا مرشد ہوں جی ہے وہ ہے وہ ہی ہر ص گرا ہے وہ ہے وہ قی سے بن کے آتا ہوں ستائی ہوتی ہیں جو آپ کے سمندر کی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایسی مچھلیوں کے ساتھ گوٹے تقاضا ہوں کسی کے واسطے کانٹے نہیں بچھاتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ م گر یوں بھی نہیں کے کانٹوں کو ہٹاتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ موسمی ہنسی کا مارا ہوں کہ کوئی دن ہے وہ ہے وہ ہے وہ سال بھر ہے وہ ہے وہ کوئی دن ہی مسکراتا ہوں بدن بھی آتے ہیں اور ہچکیاں بھی آتی ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جن کو بھول گیا تو ان کو یاد آتا ہوں نبھانے جیسا تو کچھ بھی نہیں ہے ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ م گر حقیقت مر لگ جائے کہی ا سے لیے نبھاتا ہوں
Rishabh Sharma
19 likes
سارا سامان لیے گھر سے نکل آئی ہے فون پر فون لگاتی ہوئی تنہائی ہے یاد آنے لگے ہیں لوگ مجھے گزرے ہوئے دوست کیا تو نے مری جھوٹی قسم کھائی ہے اپنی دنیا ہے وہ ہے وہ مگن رہنا اسے کہتے ہیں اک پلاسٹر جھڑی دیوار پہ جو کائی ہے بات جو دل پہ لگی ہے حقیقت کوئی بات نہیں سر کے اوپر سے گئی بات ہے وہ ہے وہ گہرائی ہے ا سے کے پہلو ہے وہ ہے وہ بھلا سوچتا ہوں کیا کیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ خواب ہے وہ ہے وہ آ گیا تو ہوں نیند نہیں آئی ہے
Rishabh Sharma
18 likes
کیا دوست محبت کا نیم کچھ نہیں ہوتا کھا لیتے ہیں سب جھوٹی قسم کچھ نہیں ہوتا وہ پردہ خود کشی پوچھتی رہتی ہے مجھے روز کیا واقعی میں اگلا جنم کچھ نہیں ہوتا پروت کے مہانے پہ کھڑا سوچ رہا ہوں کس نے کہا تھا ایک قدم کچھ نہیں ہوتا اور واقعہ مشہور تھا جس پیڑ کو لے کر اس پیڑ پہ لکھا تھا بھرم کچھ نہیں ہوتا وہ روشنی کے دن تھے رشبھ شرما تیرے ساتھ جب تو ہمیں سمجھاتا تھا غم کچھ نہیں ہوتا
Rishabh Sharma
18 likes
ڈولی اٹھا کے لے گئے محلوں کے بادشاہ سڑکوں سے دیکھتے رہے سڑکوں کے بادشاہ امید کی کرن ہے وہ ہے وہ ہر اک کھیت جل گئے سلفا سے کھا کے مر گئے کھیتوں کے بادشاہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دوسری غزل کی طرف چل دیا تو دوست پچھلی بلاتی رہ گئی غزلوں کے بادشاہ آنکھوں کی تخت پوشی تو بینائی لے گئی آنسو بنیں گے دیکھ یوں پلکوں کے بادشاہ
Rishabh Sharma
15 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Rishabh Sharma.
Similar Moods
More moods that pair well with Rishabh Sharma's ghazal.







